صبح کی اذان تک جنابت پر باقی رہنا

مسئلہ ۴۶۱: اگر مجنب شخص جان بوجھ کر صبح کی اذان تک غسل نہ کرے یا اگر اس کا وظیفہ تیمم ہے اور وہ تیمم نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔

مسئلہ ۴۶۲: جس شخص کا وظیفہ تیمم ہے تو اس کے لیے احوط یہ ہے کہ صبح صادق (اذان )تک بیدار رہے۔

مسئلہ ۴۶۳: اگر ماہ رمضان میں کوئی شخص غسل یا تیمم کو بھول جائے اور ایک یا کچھ دن گزر جانے کے بعد اس کو یاد آجائے تو ان روزوں کی قضا کرے۔

مسئلہ ۴۶۴: اگر مجنب شخص یہ جانتا ہو کہ ماہ رمضان کی رات میں اذان سے پہلے غسل کے لیے بیدار نہیں ہوگا تو اسے چاہیے کہ غسل کیے بغیر نہ سوئے اور اگرسو جائے اور بیدار نہ ہو تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ ۴۶۵: اگر کوئی ماہ رمضان کے روزے کی قضاء کرنا چاہتا ہے اور اذان صبح تک جان بوجھ کر جنب رہے اس کا روزہ صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ ۴۶۶: اگر روزہ دار کو نیند میں احتلام ہوجائے تو روزہ باطل نہیں ہے۔

مسئلہ ۴۶۷: اگر عورت حیض یا نفاس سے اذان صبح سے پہلے پاک ہوجائے تو وہ غسل کرکے روزہ رکھے۔

مسئلہ ۴۶۸: اگر روزہ دار عورت کو دن میں خواہ غروب کے نزدیک ہی حیض یا نفاس ہوجائے تو اس کا روز باطل ہے۔

مسئلہ ۴۶۹: بعض وہ کام جو روزہ دار کے لیے مکروہ ہیں:

  1. 1.ہر وہ کام کرنا کہ جو ضعف (کمزوری) کا باعث بنے مثلاً خون دینا۔
  2. 2.خوشبو والی بُوٹیوں کو سونگھنا (عطر لگانا مکروہ نہیں ہے)
  3. 3.وہ لباس جو پہنا ہوا ہے اس کو پانی سے گیلا کرنا۔
  4. 4.بغیر ضرورت کے پانی یا کوئی اور چیز منہ میں ڈالے۔
  5. 5.عورت کا پانی میں بیٹھنا
  6. 6.تر مسواک کرنا
© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه