لباس کے احکام

مسئلہ ۲۱۸: اگر یہ نہ جانتا ہو کہ اس کا لباس یا جسم نجس ہے اورنماز کے بعد پتہ چل جائے کہ نجس تھا اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ ۲۱۹: اگر بھول جائے کہ جسم یا لباس نجس ہے اورنماز کےدوران یا اس کے بعد اس کویاد آجائے تو ضروری ہے کہ دوبارہ نماز کا اعادہ کرے اوراگر وقت گزر گیا ہو تو اس کی قضا کرے۔

مسئلہ ۲۲۰: اگر کوئی عین اس رقم سے کہ جس کا خمس ادانہیں کیا لباس خریدے تو اس لباس میں نماز پڑھنے کا وہی حکم ہے جو غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کا ہے۔ 

مسئلہ ۲۲۱: درج ذیل موارد میں اگر نجس جسم یا لباس سے نماز پڑھی جائے تو صحیح ہے:

(الف) جسم میں زخم کی وجہ سے جسم یا لباس نجس ہوگیا ہو اورجسم کا دھونا یا لباس کا تبدیل کرنا مشکل ہو۔

(ب) نمازی کا لباس یا جسم خون سے نجس ہوگیا ہو لیکن خون کی مقدار ایک درہم سے کم ہو۔ (درہم کی مقدار تقریباً شہادت والی انگلی کے اوپر والی پور کے برابرہے)

(ج) نجس لباس یا جسم میں نماز پڑھنے پر مجبور ہو۔

مسئلہ ۲۲۲: نمازی کا چھوٹا لباس مثلاً: ٹوپی، دستانے، جوراب اگر نجس ہوں یا نجس رومال جیب میں ہو تو اگر وہ مردار یا حرام گوشت جانور کے اجزاء سے نہ بنا ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے نیز نجس انگوٹھی کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

مسئلہ ۲۲۳: عبا کا پہننا، سفید لباس، پاکیزہ ترین لباس، خوشبو کا استعمال اورعقیقی کی انگوٹھی نماز میں پہننا مستحب ہے۔

مسئلہ ۲۲۴: سیاہ لباس، میلا یا تنگ لباس پہننا اورنجاست سے پرہیز نہ کرنے والے لباس کا پہننا اورلباس کے بٹن کا کھلا ہونا مکروہ ہے۔

مسئلہ ۲۲۵: عزاداری امام حسین علیہ السلام میں سیاہ لباس پہننا مکروہ نہیں ہےاور اس کے ساتھ نماز پڑھنا بھی مکروہ نہیں ہے۔ 

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه