تیمم کے احکام
مسئلہ ۱۹۵: احتیاط مستحب یہ ہے کہ مٹی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری چیز پر تیمم نہ کیا جائے۔ اوراگر مٹی نہ ہو تو ریت یا ڈھیلے کے ساتھ اوراگر ریت یا ڈھیلا بھی نہ وہ پھر پتھر پر تیمم کیا جائے۔
مسئلہ ۱۹۶: وہ تیمم کہ جو وضو کے بدلے میں ہے اورجو غسل کے بدلے میں ہے ان میں کوئی فرق نہیں ہے فقط نیت میں فرق ہے۔
مسئلہ ۱۹۷: اگر کسی نے غسل کے بدلے تیمم کیا ہے کوئی ایسا کام کرے کہ جو غسل کا موجب بنے تو اس کا تیمم باطل ہوجائے گا۔
مسئلہ ۱۹۸: اگر غسل جنابت کے بدلے میں تیمم کرتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ نماز کیلئے وضو کرے۔ لیکن اگر کسی دوسرے غسل کے بدلے میں تیمم کرتا ہے تو وضو کرنا ضروری ہے اوراگر وضو نہ کرسکے تو ضروری ہے کہ ایک اورتیمم وضو کے بدلے انجام دے۔
مسئلہ ۱۹۹: اگر پانی موجود نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اوروجہ سے تیمم کرے اوربعد میں اس کا عذر برطرف ہوجائے تو اس کا تیمم باطل ہوجائے گا۔