تیمم

رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

{ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ }

(سورہ مائدہ، آیت ۶)

مسئلہ ۱۹۱:

درج ذیل موارد میں ضروری ہے کہ وضو اورغسل کی جگہ تیمم کیا جائے۔

۱۔ پانی نہ ہو یا پانی کو حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔

۲۔ پانی اس کے لئے ضرر رکھتا ہو (نقصان دہ ہو)

۳۔ پانی کو حاصل کرنا یا استعمال کرنا اس کے لیے اتنا سخت و دشوار ہو کہ عام لوگ اس کوبرداشت نہ کرسکتے ہوں۔

۴۔ اگر پانی کو وضو یا غسل میں استعمال کرے تو اسے خوف ہو کہ خود یا اس کی بیوی یا بچے یا دوست یا وہ لوگ کہ جو اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا وہ کہ جن کی جان کی حفاظت ضروری ہے پیاس کی وجہ سے مر جائیں گے یا مریض ہوجائیں گے۔ اورحیوان کے بارے میں بھی یہی حکم جاری ہوگا البتہ جبکہ اس حیوان کی ہلاکت سے اسے خاطر خواہ نقصان ہو۔

۵۔ اس کا بدن یا لباس نجس ہےاور ان کو پاک کرنے کے علاوہ پانی نہیں ہےاور اس کے علاوہ لباس بھی نہیں ہے۔ 

۶۔ وضو اورغسل کرنے کے لیے وقت نہ ہو۔

۷۔ وضو اورغسل کے لیے مباح پانی موجود نہ ہو۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه