سوال:کیاآج کل کےدور میں ہمیں مجالس عزا کو …
سوال:کیاآج کل کےدور میں ہمیں مجالس عزا کو ترک کرنےاور دروس کی طرف راغب ہونا چاہئے کہ تربیت کو اولیت حاصل ہو؟
جواب:خود مجالس عزا مکتب حسینی ہیں۔ جن میں فضائل و مصائب کے علاوہ معارف ، عقائد، شرعی مسائل بیان کئے جاتے ہیں اور آل محمد کی تعلیمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مجالس کو ہر گز ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ مجالس کی کیفیت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے صاحبان علم وفضل سے مجالس عزا میں استفادہ کرنا چاہئے علماء کرام اوراہل دانش کو چاہئے کہ وطن عزیز میں اپنی قوم کو جہالت سے نکالنے کے لئے بالعموم اورملت شیعہ کے لئے بالخصوص توجہ فرمائیں۔
سوال :کیا واقعات کربلا کو بیان کئے بغیر …
سوال :کیا واقعات کربلا کو بیان کئے بغیر ہم واقعات کربلا سےاخذ کردہ نتائج کی اہمیت کو کماحقہ سمجھ سکتے ہیں؟
جواب:واقعات کربلا معتبر کتب سے بیان کرنے چاہئے قیام امام حسین علیہ السلام کو سمجھنے کے لئے امیر المومنین علی علیہ السلام اورامام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے حالات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ مومنین کو ائمہ طاہرین علیہم السلام کی مظلومیت کا علم ہو۔
سوال:گذشتہ سوال سے ہی پیوستہ کہ کیا ذاکریت (خصوصاً پاکستان میں)مشن …
سوال:گذشتہ سوال سے ہی پیوستہ کہ کیا ذاکریت (خصوصاً پاکستان میں)مشن اہل بیت علیہم السلام سے مطابقت اور اس کے احیاء کا ذریعہ ہے؟
جواب:ہمارے ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ذاکریت سے بھی مذہب کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ ذاکرین اور واعظین اورخطباء درج ذیل امور کی رعایت کریں۔
١۔فضائل ومصائب کو مطالعہ سے بیان کریں۔ جعلی اورموضوعی روایات سے اجتناب کریں۔
٢۔ جھوٹ سے اجتناب اوروعدہ خلافی نہ کریں۔
٣۔مجالس کو اپنا پیشہ نہ بنائیں بلکہ مجالس کو عبادت سمجھ کر پڑھیں اورکوشش کریں کہ با وضوء ہو کر منبر پر آئیں ۔
٤۔شریعت کے دستورات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں بالخصوص نمازروزے کی پابندی کریں اورباریش ہو کر منبر پر حاضر ہوں تو اس صورت میں ان کی مجلس میں ایک خاص تاثیر ہوگی ۔
٥۔مجالس کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہین لیکن ایسی آوازیں جو کہ مجلس امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مناسبت نہ رکھتی ہوں ان سے اجتناب کریں۔
نیز مومنین کو بھی چاہئے کہ وہ ذاکرین کو ایسی طرزوں پرقصائد پڑھنے پر مجبور نہ کریں ۔
خلاصہ یہ کہ ذاکرین ، واعظین ، علماء سب کو مذہب حقہ اثنا عشریہ کی صحیح ترویج اوردفاع کرنا چاہئےاور مجالس کو علمی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اہل منبر کو چاہئے کہ اگر ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے ، جواب نہ جاننے کی صورت میں اپنی طرف سے غلط مسئلہ بیان نہ کریں بلکہ علماء حقہ کی طرف ارجاع دیں۔
سوال:کیا سڑکوں پر نکل کر ماتم کرنا جائز ہے؟
سوال:کیا سڑکوں پر نکل کر ماتم کرنا جائز ہے؟
جواب:سڑک پر ماتم جائز ہے مخفی نہ رہے کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام ، عبادت ہے اورظلم کے مقابلے میں احتجاج ہے ۔
سوال:قمیص اتارکر ماتم کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے نیز …
سوال:قمیص اتارکر ماتم کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے نیز کیا زنجیر زنی کرنا عزاداری ہے؟
جواب:قمیص اتارکر ماتم کرنا جہاں نا محرم عورتیں نہ دیکھ رہی ہوں تو یہ فقہاء کےنزدیک بلا اشکال ہے اوردیکھنے کی صورت میں فقہاء اختلا ف رکھتے ہیں۔
اکثر فقہاء کےنزدیک زنجیر زنی عزاداری ہی کا ایک مصداق ہے البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہڈی کے ضرر کا موجب نہ بنے نیز مذہب کی ہتک کا موجب بھی نہ بنے۔
سوال :آیامحرم کے مخصوص ایام میں اورسال کے باقی مخصوص …
سوال :آیامحرم کے مخصوص ایام میں اورسال کے باقی مخصوص ایام (ائمہ معصومین علیہم السلام کی شہادت وغیرہ) میں جلوس ومجالس عزا(عزاداری) کوبرپا کرنا چاہئے جو کہ ایک گاؤں یا شہر کی سطح پر ہے اورجس میں دوسرے فقہ حتی کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں یا ہمیں ان ایام میں آپس میں مل کر ایک محدود پیمانے پر ایصال ثواب کی غرض سے دعاؤں کی محفل (مثلاً دعاء کمیل وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہئے؟
جواب:ائمہ معصومین علیہم السلام کے بالخصوص ایام ہائے شہادت کو عزاداری کرنا کار ثواب ہے اورخوشنودی محمدوآل محمد علیہم السلام کا ذریعہ ہے مجالس عزا کے ساتھ دعاؤں کا پڑھنا منافات نہیں رکھتا مجالس عزا سے پہلے یا بعد میں دعائے کمیل دعائے توسل وغیرہ بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ اورمعصوم فرماتے ہیں کہ ہمارے شیعہ ہماری خوشی کے ساتھ خوشی اورغمی میں غمگین ہوتے ہیں کوشش کرنی چاہئے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کے ایام ولادت اورشہادت احسن انداز سے منائے جائیں ان کے فضائل ومصائب بیان کرنے کے علاوہ ان کی نورانی تعلیمات کو بھی بیان کیا جائے تاکہ ان پر عمل پیرا ہو کر مومنین دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کر سکیں۔
سوال :کیا امام حسین علیہ السلام کا قیام محض حکومت کے لئے تھا ؟اگر مکمل طور پر …
سوال :کیا امام حسین علیہ السلام کا قیام محض حکومت کے لئے تھا ؟اگر مکمل طور پر نہیں تو بھی کیا جزوی یا ثانوی حیثیت میں یہ سبب تھا؟
جواب:سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا قیام اپنےنانا کی امت کی اصلاح اورامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی خاطر تھا جیسا کہ خود امام علیہ السلام نے تصریح فرمائی ۔
”انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة محمدارید ان امر بالمعروف وانھی عن المنکر ”.(١)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)بحار الانوار، ج٤٤، ص٣٢٩ وکتب دیگر.
سوال:کیا مخدرات عصمت عزاداری کرنا منقول ہے؟
سوال:کیا مخدرات عصمت عزاداری کرنا منقول ہے؟
جواب :مخدرات عصمت وطہارت کا اپنے چہرے پر طمانچے مارنا، ماتم کرنا، مرثیہ پڑھنا، سیاہ لباس پہننااور حضرت زینب علیہا السلام کا اپنی پیشانی کو چوب پر مارنااور خون کاجاری ہونا کتب میں منقول ہے۔
سوال :کیا اہل سنت کی کتب سے مستورات بنی ہاشم کا پیٹنا ثابت ہے؟
سوال :کیا اہل سنت کی کتب سے مستورات بنی ہاشم کاپیٹنا ثابت ہے؟
جواب:جی ہاں! ثابت ہے :” فصاح النساء وبطمن خدودھن وصاحت زینب اختہ یا محمداہ الخ”.(۱)
کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی لاش پر بیبیوں نےفریاد کی اوراپنے چہرے پیٹے اورحضرت زینب علیہا السلام نے یا محمد اہ کہہ کرفریاد کی اورمرثیہ پڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)تاریخ طبری ج٣، ص٣٣٦ حوادث سنہ ٦١ وتاریخ کامل ج٤، ص٨١ طبع دارصادر بیروت وکتب دیگر.
سوال:زنجیر زنی کی وجہ سے اگر نماز قضا ہو جائے تو اس میں کیا اشکال ہے؟
سوال:زنجیر زنی کی وجہ سے اگر نماز قضا ہو جائے تو اس میں کیا اشکال ہے؟
جواب:نماز کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑا جا سکتا امام حسین علیہ السلام نے ظہر عاشورہ کو تیروں کی بارش میں نمازادا کی ہے۔
مومنین کو چاہئے کہ دوران عزاداری اگر نماز کا وقت ہو جائے تو باجماعت نمازادا کرکے عملاًثابت کردیں کہ ہم حسینی ہیں۔
سوال :کیا ڈھول وغیرہ کا استعمال عزاداری میں جائز ہے؟
سوال :کیا ڈھول وغیرہ کا استعمال عزاداری میں جائز ہے؟
جواب:عزاداری میں لہو ولعب کے آلات سے اجتناب کیا جائے۔
سوال:کیا علم حضرت عباس علیہ السلام کا نکالنااور اپنے گھروں پر نصب کرنااور علم کو بوسہ لینا جائز ہے؟
سوال:کیا علم حضرت عباس علیہ السلام کا نکالنااور اپنے گھروں پر نصب کرنااور علم کو بوسہ لینا جائز ہے؟
علم سیدنا ابی الفضل العباس علیہ السلام کو گھروں پر نصب کرنااور جلوسوں میں نکالنا ، یہ آنجناب سے محبت و مودت کی دلیل ہے ۔ علم حضرت عباس علیہ السلام سے ان کی وفایاد آتی ہے ۔ طول تاریخ میں شیعہ نے اس علم کی حفاظت کی ہے علم حضرت عباس شعائر اللہ سے ہےاور بزرگ علماء کرام علم مبارک کا بوسہ لیتے ہیں، علم حضرت عباس علیہ السلام کی ہتک سوائے جاہل ، مغرض اوردشمن خاندان عصمت و طہارت کے، اورکوئی نہیں کر سکتا۔
سوال:کیا امام معصوم کی موجودگی میں بھی کسی نے غم حسین علیہ السلام میں سر و سینہ پیٹاہے
سوال:کیا امام معصوم کی موجودگی میں بھی کسی نے غم حسین علیہ السلام میں سر و سینہ پیٹاہے ۔
جواب:شیخ صدوق نےروایت کی ہے کہ جب دعبل شاعر نے امام علی رضا علیہ السلام کے سامنے مصیبت امام حسین علیہ السلام میں اشعار پڑھے تو پردہ کے پیچھے عورتوں نے اپنے منہ کوپیٹا او ان کے چیخنےاور فریا د کی آوازیں بلند ہوئیں امام علی رضا علیہ السلام نے اس قدر گریہ کیا کہ دو مرتبہ بے ہو ش ہو گئے ۔(١) ”لطمت النساء وجو ھھن وعلا الصراخ من وراء الستر وبکی الرضا علیہ السلام حتی اغمی علیہ مرتین”.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)عیون اخبار الرضا ج٢، ص٢٦٣.
سوال:کیا امام معصوم کی موجودگی میں کسی نے غم امام حسین علیہ السلام میں خون نکالا ہے؟
سوال:کیا امام معصوم کی موجودگی میں کسی نے غم امام حسین علیہ السلام میں خون نکالا ہے؟
جواب:منقول ہے کہ خود امام زین العابدین علیہ السلام سیدھے کھڑے ہو گے اورمصیبت امام حسین علیہ السلام میں دیوار پر ٹکر ماری جس کی وجہ سے آنجناب کی ناک مبارک ٹوٹ گئی۔
اورسر مبارک زخمی ہوا۔ اور آپ کے سر و صورت کا خون سینہ پر جاری ہو گیا اورشدت گریہ اورغم کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔(۱)
نیز منقول ہے کہ جب سیدہ زینب علیہا السلام کی نظر مبارک کوفہ میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے سر اقدس پر پڑی تو اپنی پیشانی کو چوبہ محمل پر مارا راوی کا بیان ہے کہ ہم نے (پیشانی سے)خون نکلتا ہوا دیکھا۔(۲)(۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)دارالسلام ج٢، ص١٧٩، تالیف: علامہ حسین نوری طبرسی، من منشورات شرکة المعارف الاسلامیہ .
(۲)بحا ر الانوار، ج٤٥،ص١١٥.
(۳)صاحبان بصیرت کے لئے قابل غور واقعات حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت حوّا کی تلاش میں تھے اورکربلا سے ان کاگذر ہوا تو وہاں وہ غمگین ہوئے اوربغیر کسی وجہ سے ان کا دل دکھی ہوا، امام حسین علیہ السلام کی جائے شہادت پر وہ گرپڑےاور ان کےپائوں سے خون جاری ہوا آسمان کی طرف سر اٹھا کرر عرض کیا: پروردگارا! کیا مجھ سے کوئی معصیت سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے مجھ پر یہ عتاب کر رہا ہے؟ میں نے پوری زمین کا طواف کیا ہے مجھے ایسی تکالیف کہیں بھی نہیں ہوئیں جو مجھے یہاں اس زمین پر ہوئیں ہیں۔
خداوندعالم نے فرمایا: اے آدم! تجھ سے کوئی معصیت نہیں ہوئی ہے، لیکن اس سر زمین پر تیرا بیٹا حسین مارا جائے گا، تیرا خون ان کے خون کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے… حضرت آدم نے امام حسین کے قاتل یزیدملعون پر چار مرتبہ لعنت کی، پھر چند قدم جبل عرفات کی طرف چلے تو وہاں حضرت حوا کو پالیا۔ ( بحار الانوار، ج٤٤، ص ٢٤٢)
نیز مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین کربلا سے گزرے تو وہ گھوڑرے پر سوار تھے ان کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی جس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرپڑے، اور ان کا سر زخمی ہوگیااور خون جاری ہوا، حضرت ابراہیم علیہ السلام استغفار میں مشغول ہوگئےاور عرض کی: بارالہٰا: کیا مجھ سے کوئی تقصیر سرزد ہوگئی ہے؟ حضرت جبرائیل نازل ہوئےاور کہا: آپ سے کوئی تقصیر نہیں ہوئی ہے،لیکن اس سر زمین پر آخری نبی کا نواسااور آخری وصی کا بیٹا شہید ہوگا، پس آپ کا خون ان کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے۔ ( بحار الانوار، ج٤٤، ص ٢٤٣ و کتب دیگر)
نیز مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، یوشع بن نون کے ہمراہ سفر کررہے تھے جب زمین کربلا پر پہنچے تو وہاں آپ کی نعل مبارک پارہ ہوگئی اور خاردار کانٹا ان کےپائوں میں داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے ان کےپائوں سے خون جاری ہوگیا،س عرض کیا: بارالٰہا! کیا مجھ سے کوئی نامطلوب امر صادر ہوا ہے؟ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ یہاں حسین علیہ السلام شہید
ہوں گے،یہاں ان کا خون بہایا جائے گا، پس تمہارا خون، ان کے خون کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے۔
(بحار الانوار، ج٤٤، ص ٢٤٤ و کتب دیگر)
نوٹ: مذکورہ بالا واقعات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت امام حسین علیہ السلام میں بدن سے خون کا نکلنا یہ مطلوب پروردگار ہے۔
فرامین معصومین علیہم السلام کی روشنی میں مصیبت آل محمد میں گریہ کرنے والوں کو اجر
فرامین معصومین علیہم السلام کی روشنی میں مصیبت آل محمد میں گریہ کرنے والوں کو اجر
غم امام حسین علیہ السلام میں گریہ سےجنت ملے گی۔
غم امام حسین علیہ السلام میں گریہ سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام پر گریہ، بڑےگناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
گرنے والے کے چہرے پرجہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔
جس کا دل غم آل محمد علیہم السلام میں دکھی ہو، مرتے وقت معصومین علیہم السلام کو دیکھ کر بہت خوش ہوگا۔
ہوں گے،یہاں ان کا خون بہایا جائے گا، پس تمہارا خون، ان کے خون کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے۔
(بحار الانوار، ج٤٤، ص ٢٤٤ و کتب دیگر)
نوٹ: مذکورہ بالا واقعات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت امام حسین علیہ السلام میں بدن سے خون کا نکلنا یہ مطلوب پروردگار ہے۔
گریہ کرنے والے کو امام حسین علیہ السلام عرش پر دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کے لئے استغفار کرتے ہیں او اپنے ناناسے عرض کرتے ہیں کہ آپ بھی اس مومن کے لئے استغفار کریں تاکہ خدا اس کے گناہ بخش دے، قیامت کے دن گریہ کرنے والوں کی محمد و آل محمد علیہم السلام شفاعت فرمائیں گے۔
رسول خدا ۖ فرماتے ہیں کہ گریہ کرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر ہم اسےجنت میں داخل کریں گے۔
و کل من بکی منہم علی مصاب الحسین اخذنابیدہ و أدخلناہ الجنة (۱)
قیامت کے دن ہر آنکھ رو رہی ہوگی مگر وہ آنکھ جو غم حسین علیہ السلام پر روئی ہو، اسےجنت کی نعمتوں کی بشارت ہوگی (۲)
آؤامام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہو جاؤ چونکہ رسول خدا ۖ فرماتے ہیں:
ان الحسین مصباح الھدیٰ وسفینة النجاة (۳)
بیشک حسین ہدایت کے چراغ اورنجات کی کشتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) بحار الانوار، ج٤٤، ص ٢٩٣، و کتب دیگر،
(۱) بحار الانوار، ج٤٤.
(۱) فرائد السمطین . وکتب دیگر
