زکات

زکات

ارشاد رب العزت ہے:

{ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ}

(سورہ توبہ، آیت ۶۰)


مسلمانوں کاایک مہم اقتصادی شرعی وظیفہ، زکات کا ادا کرنا ہے ۔ زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں نماز کے بعد اس کا ذکر آیا ہے اور یہ ایمان اور کامیابی کی علامت و نشانی شمار کی گئی ہے۔

مسئلہ ۴۸۳: نو چیزوں پر زکات واجب ہے اور ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔ گندم

۱۔ غلّہ                         ۲۔ جو

۳۔ کھجور

۴۔ کشمش

 

۱۔ اونٹ

۲۔ حیوان                   ۲۔ گائے، بھینس

۳۔ بھیڑ، بکری

 

۳۔ سکّے                        ۱۔ سونا۔

۲۔چاندی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے