نماز کے احکام
ارشاد ربّ العزت ہے:
{وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَلا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ}
(سورہ روم، آیت ۳۱)
شریعت کے احکام میں سے مہم ترین اورزیبا ترین حکم نماز کا ہے نماز ایک خدا کی پرستش اوراس کے ساتھ عشق و محبت کا نام ہے۔ جو نعمتیں خداوند متعال نے ہمیں عطا کی ہیں نماز ان کے شکریے کا اظہار ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اورمؤمن کی معراج ہے۔ قیامت کے دن فروع دین سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔ حدیث میں ہے جس شخص کی نماز قبول ہوگئی اس کے سارے اعمال قبول ہوں گے اورجس کی نماز ردّ کردی گئی اس کے سارے اعمال ردّ کردیئے جائیں گے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے نماز کو اوّل وقت میں ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص نماز کو سبک سمجھے وہ قیامت کے دن ہماری شفاعت کو نہیں پاسکے گا۔
مؤمنین کا چاہیے کہ اپنی اولادوں کو بچپن سے ہی نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
نماز یا واجب ہے یا مستحب ہے، واجب نمازیں بھی دو طرح کی ہیں۔ انمیں سے بعض وہ ہیں کہ جن کا دن رات میں ایک خاص اورمعین وقت میں ادا کرنا ضروری ہے اوربعض وہ ہیں کہ جو بعض اوقات کسی خاص وجہ سے واجب ہوتی ہیں۔