مطلق پانی اورمضاف پانی کے احکام:

مطلق پانی بذات خود بھی پاک ہوتا ہے اورمطھِّر پاک کنندہ بھی ہوتا ہے یعنی مطلق پانی سے وضو، غسل بھی کیا جاسکتا ہے اورناپاک برتن اورکپڑے وغیرے کو بھی اس سے دھویا جائے تو وہ پاک ہوجاتے ہیں۔

مطلق پانی اگر قلیل ہو تو اس میں نجاست گرنے سے نجس ہوجاتا ہے اوراگر کُرّ کی مقدار ہو تو نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ تبدیل ہوجائے۔

مضاف پانی خود تو پاک ہوتا ہے لیکن یہ ظاہری نجاست کو رفع نہیں کرتا اورنہ ہی اس سے وضو یا غسل کیا جاسکتا ہے۔

بعبارت دیگر مضاف پانی مطلقاً مطھِّر نہیں ہوتا۔ یعنی حدث کو بھی دور نہیں کرتا، حدث اس باطنی یا معنوی ناپاکی کو کہتے ہیں جو کہ قربت کی نیت کے بغیر دور نہ ہو۔ حدث یا اصغر ہوتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے وضو کی ضرورت ہوتی ہے یا حدث اکبر ہوتا ہے اس ناپاکی کو دور کرنے کے لیے غسل کی ضرورت ہوتی ہے۔

تیمم؛ وضو اورغسل کا بدل ہوتا ہے جس کے اپنے خاص احکام ہیں اس میں بھی نیت کرنا ضروری ہوتی ہے۔

مضاف پانی خبث یعنی ظاہری گندگی کو بھی دور نہیں کرتا مثال کے طور پر ہندوانہ کے پانی سے نجس کپڑا اگر دھو بھی دیا جائے پھر بھی وہ نجس ہی رہے گا۔

بعبارت دیگر: حدث اورخبث میں فرق یہ ہے کہ حدث کو دور کرنے کے لیے نیت کی ضرورت ہوتی ہے اورخبث کو دور کرنے کے لیے نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہاں اگر نیت قربت کرلے تو ثواب کا مستحق ہوجائے گا۔

مضاف پانی چاہے قلیل ہو یا کثیر ہو نجاست سے ملنے پر نجس ہوجاتا ہے اگرچہ اس حکم کا بعض کثیر تعداد کے مضاف پانیوں کے لیے بھی عام ہونا محل اشکال ہے۔

مسئلہ ۹: مطلق پانی کی پانچ قسمیں ہیں: ۱۔ کُرّ پانی، ۲۔ قلیل پانی،

۳۔ جاری پانی، ۴۔ بارش کا پانی، ۵۔ کنویں کا پانی۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه