گرا پڑا مال پانے کے احکام

ارشاد ربّ العزت ہے:

{ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ }

(سورہ یوسف، آیت ۱۰)

 مسئلہ ۶۵۱: جس کو ایسا مال مل جائے جس پر علامت و نشانی ہو، اور اس مال کی قیمت ایک درہم (یعنی ۶/۱۲ چنے کے برابر سکے دار چاندی) ہو یا اس سے زیادہ تو مال اٹھانے والے پر واجب ہے کہ اجتماع میں اعلان کرے یا قابل اعتماد شخص سے اعلان کروائے۔ اور اس کے مالک کی جستجو کرنا ضروری ہے۔

اور اگر اس مال کے مالک کو پھر بھی نہ پہنچان سکے اور اس مال کو حرم مکہ سے اٹھایا ہو تو اقوی یہ ہے کہ اس مال کے مالک کی طرف سے اسے فقراء کو صدقہ دے دے۔

اور اگر وہ مال حرم مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ سے اٹھایا ہو تو اسے ان تین چیزوں کے درمیان اختیارہے:

  1. 1.یا تو اس کو بطور امانت اپنے پاس رکھے جب اس کا مالک مل جائے تو اسے دے دے۔
  2. 2.یا مالک کی طرف سے اسے کسی فقیر کو صدقہ دے دے اگر اس کا مالک مل جائے اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہو تو وہ اس مال کا ضامن ہے۔
  3. 3.یا اس مال کو خود لے لے البتہ اگر اس کا مالک مل جائے تو اس مال کا ضامن ہے۔

مسئلہ ۶۵۲: جو گرا پڑا مال ملا ہے اگر اس کی قیمت ایک درہم سے کم ہو اور اس کا مالک بھی معلوم نہ ہو تو وہ اس مال کو خود لے سکتا ہے اور اگر کوئی ایسا مال ملے جس میں مالک کی کوئی نشانی ہو اور اس مال کی قیمت ایک درہم سے کم ہو تو جب تک اس کے مالک کی رضایت کا یقین نہ ہو اس کی اجازت کے بغیر نہیں اٹھا سکتا۔

مسئلہ ۶۵۳: مشہور یہ ہے کہ پہلے ہفتہ ہر روز اعلان کرے پھر مہینے کے باقی ہفتوں میں ہر ہفتہ ایک بار اعلان کرے پھر اس کے بعد ہر مہینہ میں ایک دفعہ اعلان کرے۔

مسئلہ ۶۵۴: اگر لفظاً اعلان کرنے کے بجائے لکھ کر اعلان ایسی جگہ لگا دے جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہو اور وہاں کے زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہوں یا پڑھے لکھے لوگ، اَن پڑھوں کو پڑھ کر سنا دیں اور ایک سال تک وہ پوسٹر یا کاغذ وہاں لگا رہے تو کافی ہے۔

مسئلہ ۶۵۵: اگر کسی شخص کا جوتا اٹھا لیاجائے اور اس کی جگہ کسی اور کا جوتا رکھ دیا جائے اور اگر وہ شخص جانتا ہو کہ جو جوتا رکھا ہے وہ اس شخص کا مال ہے جو اس کا جوتا لے گیا ہے اور وہ اس بات پر راضی ہو کہ جو جوتا وہ لے گیا ہے اس کے عوض اس کا جوتا رکھ لے تو وہ اپنے جوتے کی بجائے وہ جوتا رکھ سکتا ہے اور اگر وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا جوتا ناحق اور ظلم کے طور پر لے گیا ہے تب بھی یہی حکم ہے لیکن اس صورت میں ضروری ہے کہ اس جوتے کی قیمت اس کے اپنے جوتے کی قیمت سے زیادہ نہ ہو ورنہ زیادہ قیمت کے متعلق مجھول المالک کا حکم جاری ہوگا اور ان دو صورتوں کے علاوہ اس جوتے پر مجھول المالک کا حکم جاری ہوگا۔ مجھول المالک کا حکم یہ ہے کہ مال کے مالک کی جستجو کی جائے اگر نہ ملے تو اس کو حاکم شرع کی اجازت سے فقیر کو صدقہ دیا جائے۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه