طلاق کی عدت

مسئلہ ۶۳۷: جس عورت نے اپنے شوہر سے طلاق لی ہو وہ طلاق کےبعد عدت رکھے ۔درج ذیل عورتوں کے لیے عدت نہیں ہے:

  1. 1.جس کے شوہر نے نکاح کے بعد اس سے نزدیکی نہ کی ہو۔
  2. 2.جس لڑکی سے نکاح کیا ہو اور اس کےنو سال پورے ہونے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔
  3. 3.یا بیوی یائسہ ہو یعنی اس کی عمر پچاس سال سے زائدہ ہوجائے۔ دوسری اور تیسری شق میں چاہے بیوی سے دخول کیا ہو پھر بھی عدت نہیں ہے۔ ان تینوں صورتوں میں طلاق کے بعد فوراً شادی کرسکتی ہیں۔

مسئلہ ۶۳۸: جس عورت کی عمر نو سال ہوگئی ہو اور یائسہ بھی نہ ہو اور اس کے شوہر نے اس سے نزدیکی کی ہو اگر وہ اسے طلاق دے تو وہ طلاق کے بعد عدت رکھے آزاد عورت کی عدت یہ ہےکہ جب اس کے شوہر نے اسے پاکی میں طلاق دی ہو اتنی مقدار صبر کرے کہ دوبار حیض دیکھے اور پاک ہوجائے اور جیسے ہی تیسرا حیض دیکھے اس عورت کی عدت تمام ہوجائے گی۔

مسئلہ ۶۳۹: جس عورت کو حیض نہ آتا ہو اور اس کی عمر ان عورتوں کی عمر ہو جن کو حیض آتا ہے اگر اس کا شوہر ہمبستری کرنے کےبعد اس کو طلاق دے تو ضروری ہے کہ طلاق سے تین مہینے تک عدت رکھے۔

مسئلہ ۶۴۰:عدت کا آغاز طلاق کےصیغہ کےختم ہوجانے سے شروع ہو جاتا ہے چاہے شوہر حاضر ہو یا غائب ہو، چاہے عورت کو طلاق کا علم ہو یا نہ ہو بلکہ اگر عدت کے ختم ہونے کے بعد عورت کو پتہ چلے کہ اسے طلاق دے دی گئی ہے پھر دوبارہ عدت رکھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ ۶۴۱: اگرحاملہ عورت کو طلاق دی جائے (اور وہ حمل اس کے شوہر سے ہی ہو) تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونا یاساقط ہونا ہے لہذا ا گر مثلاً طلاق کے ایک گھنتہ بعد اس کا بچہ پیدا ہو تو اس کی عدت تمام ہوجائے گی۔

مسئلہ ۶۴۲: متعہ والی عورت کے لیے طلاق نہیں ہوتی جب متعہ کی مدت ختم ہوجائے یا شوہر باقی ماندہ مدت کو بخش دے توعورت خودبخود اس سے جدا ہوجائے گی۔

مسئلہ ۶۴۳:جس عورت سے متعہ کیا ہو اگر وہ بالغ اور مدخولہ ہو اوریائسہ نہ ہو تو اس کی عدت دو کامل حیض ہیں اگر مرض کی وجہ سے حیض نہیں دیکھتی تو اس کی عدت پینتالیس (۴۵) دن ہیں اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت یہ ہے کہ بچہ پیدا ہوجائے یا ساقط ہوجائے۔ اوراحتیاط یہ ہے کہ بچہ جننے اور پینتالیس دن میں سے جو مدت زیادہ ہو اتنی مدت تک عدت میں رہے۔

اس عورت کی عدت جس کا شوہر مر گیا ہو

مسئلہ ۶۴۴:جس عورت کا شوہر مرگیا ہو اگر حاملہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ چار مہینے دس دن عدت رکھے یعنی نکاح کرنے سے گریز کرے چاہے اس کے شوہر نے اس سے نزدیکی کی ہو یا نہ کی ہو اور چاہے نابالغ ہو اور چاہے یائسہ ہو یا یائسہ نہ ہو اور چاہے اس کا عقد نکاح دائمی ہو یا موقت ہو۔ اور اگر حاملہ ہو تو ضروری ہے کہ بچہ متولد ہونے تک عدت رکھے لیکن اگر چار ماہ اور دس دن گزرنے سے پہلے ہی اس کا بچہ متولد ہوجائے تو ضروری ہے کہ شوہر کی وفات سے چار مہینے دس تک تک عدت رکھے اور اسے وفات کی عدت کہتے ہیں۔

مسئلہ ۶۴۵: وفات کی عدت کی ابتداء اس وقت سے ہوتی ہے جب عورت کو شوہر کے مرنے کی اطلاع ملے۔

مسئلہ ۶۴۶: آزاد عورت جو عدہ وفات میں ہو اس پر بدن اور لباس میں زینب حرام ہے مثلاً سرمہ لگانا، عطر استعمال کرنا اور رنگین لباس پہننا۔

متعہ والی عورت کے لیے بھی دائمی زوجہ کی طرح زینت کرنا حرام ہے۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه