اجتہاد اور تقلید کے بارے میں

کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات

 

 


سوال: اجتہاد پر کوئی نص دیں؟

جواب: اس سوال کا جواب رسالہ ہذا میں مفصّل دیا جاچکا ہے دقت اور انصاف سے مطالعہ فرمائیں۔

سوال: مجتہد کی تقلید کا جواز کیا ہے؟

اس سوال کا جواب رسالہ ہذا کے مطالعہ سے معلوم ہے۔ روایات سے بھی جواز تقلید ظاہر ہے اور ہر سلیم انسان کا علم بھی یہی حکم لگاتا ہے کہ ہر فنّ میں اس فن کے خبرہ اور ماہر ین کی طرف رجوع کیا جائے اور دینی مسائل کے ماہرین علماء و فقہاء ہیں کسی غیر عالم کا عالم بالاحکام کی طرف رجوع کرنا اور اس کے قول کے مطابق عمل کرنے کا نام ہی تقلید ہے۔ دینی مسائل کی نسبت یا انسان خود مجتہد ہو اپنی زندگی کا قابل توجہ حصہ تعلیم علوم آل محمد علیہم السلام میں صرف کرے اور مقام اجتہاد تک فائز ہوجائے یہ کام ہر ایک کے لیے میسر نہیں ہے کہ سارے لوگ دینی مدارس میں داخل ہوجائیں تاکہ مجتہد بن سکیں اگر سارے لوگ دینی مدارس میں داخلہ لے لیں تو پھر دوسرے سب کام تعطیل ہوجائیں گے ، کھیتی باڑی کون کرے گا، دکانیں کون چلائے گا، کارخانے کیسے چلیں گے، ملک کا انتظام کیسے ہوگا، وغیرہ وغیرہ؟ پس کچھ لوگ یہ ذمہ داری لیں جب مقام اجتہاد پر وہ فائز ہوجائیں تو لوگوں کا وظیفہ یہ ہے کہ ان میں جو جامع الشرائط ہے اس کی طرف دینی مسائل میں رجوع کریں۔ یا پھر انسان احتیاط پر عمل کرے اور احتیاط پر عمل کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے لذا عوام کے لیے بہترین طریقہ تقلید ہے۔

یہ جو آج کل کچھ لوگ اجتہاد اور تقلید کے خلاف کام کر رہے ہیں اور لوگوں کو فقہاء کی تقلید سے دور کرنے کی کوشش میں ہیں اور کہتے ہیں کہ تقلید نہ کریں تقلید حرام ہے۔

فقہاء دین فرماتے ہیں فروع دین میں تقلید ضروری ہے، اب آپ کی مرضی کہ اتنے بزرگ فقہاء کی بات مان کر تقلید کرلیں یا اس مخالف تقلید کی بات مان کر اس کی تقلید کرلیں، پھر بھی تقلید سے تو نہ بچ سکے چونکہ آپ تقلید نہ کرنے میں اس شخص کے مقلد ہوگئے ہیں۔ اچھی طرح سوچیں۔

سوال:تعریف غیر معصوم مجتہد کی شان میں ایک حدیث یا ایک آیت بتائیں؟

جواب: رسالہ ہذا میں اس سوال کا جواب موجود ہے غور سے مطالعہ فرمائیں۔

سوال: اگر مجتہد قرآن و حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو پھر مات المفتی مات الفتوی کیوں ہے؟

جواب: چونکہ مشہور کے نزدیک حیات شرط ہے اس لیے زندہ مجتہد کی تقلید کی جائے گی۔اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے ہماری توضیح المسائل کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

سوال:مردہ مجتہد کی تقلید کرنے میں ممانعت کیوں ہے؟

سوال: کوئی بچہ سن بلوغ پرپہنچنے کے بعد کیامردہ اعلم دوران کی تقلید کرسکتا ہے؟

ان دونوں کا جواب اوپر والے سوال کے جواب سے معلوم ہے۔

سوال: تفسیر بالرائے کا جواز کیا ہے؟

جواب: تفسیر بالرائے جائز نہیں ہے اور کوئی ملتفت شیعہ عالم تفسیر بالرای نہیں کرتا۔

سوال: تشخص (تعین) نائب امام کا طریقہ اور اس کا جواز کیاہے؟

جواب: سب جامع الشرائط فقہاء نواب عامہ، امام زمان علیہالسلام ہیں، اورجامع الشرائط فقیہ (مجتہد) کی تشخیص اگر خود اہل خبرہ سے ہو تو خود اپنے علم سے جان سکتا ہے ورنہ اہل خبرہ سے بیّنہ شرعیہ کی تصدیق سے بھی اس کا اجتہاد ثابت ہوجائے گا۔ اور جواز اجتہاد اور علماء کی طرف رجوع کرنے کے جواز پر بحث رسالہ ہذا میں کی جاچکی ہے۔ لذا یہاں دوبارہ تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: مجتہدین قرآن و حدیث سے فتوی دیتے ہیں تو ایک ہی مسئلہ میں اختلاف کا سبب کیاہے؟

جواب: اس سوال کا جواب رسالہ ہذا میں مفصل دیا جاچکا ہے لیکن عوام میں چونکہ یہ سوال کثرت سے کیا جاتا ہے لذا اختلاف مسئلہ کی بعض وجوہات کی طرف پھر اشارہ کر رہا ہوں، اختلاف کی عمدہ بعض وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. 1.بعض روایات کا اختلاف
  2. 2.رواۃ، (راویوں) کے بارے میں اختلاف ممکن ہے فلاں راوی اس عالم کے نزدیک معتبر اور ثقہ ہو اور دوسرے عالم کے نزدیک وہی راوی بعض قرائن و شواہد کی وجہ سے ثقہ نہ ہو۔
  3. 3.لغات کا اختلاف وغیرہ۔

سوال: اصطلاحات حدیث کس امام ؑ نے بنائے ہیں جیسے حسن، قوی، مرسل، ضعیف وغیرہ؟

جواب: معلوم ہوتا ہے سوال کرنے والے نے کسی دینی درس کا دروازہ بھی نہیں دیکھا جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ حدیث قول معصوم، فعل معصوم اور تقریر معصوم کا نام ہے۔ محل بحث قول معصوم ؑ ہے۔

یہ قول معصوم ؑ (حدیث) جو راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچا ہے ہم نے دیکھنا ہے کہ اس حدیث کی سند کیسی ہے آیا اس کا راوی شیعہ عادل ہے یا شیعہ ممدوح ہے یا اس کا راوی ضعیف ہے یا اس کا راوی ثقہ ہے تاکہ سمجھ سکیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا حسن ہے یا موثق و قوی ہے یا ضعیف ہے آیا روایت کی سند میں راوی مذکور ہیں یا درمیان میں کچھ راویوں کا ذکر نہیں ہے نتیجۃً یہ روایت مرسلہ ہوجائے گی۔ حدیث کے ثبوت کے لیے راویوں کی تحقیق کی ضرورت ہمیں ہے، نہ کہ امام علیہ السلام کو امام علیہ السلام تو جانتے ہیں کہ اس فرمان کو انہوں نے فرمایا ہے یا نہیں فرمایا ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ فرمان امام علیہ السلام سے صادر ہوا ہے یا کہ نہیں ان رواۃ (راویوں) کے ذریعہ سے فرمان کا ثبوت یا عدم ثبوت ہمارے لیے مشخص ہوگا۔ اگر سب راوی معتبر ہیں تو فرمان ثابت ہوجائے گا کہ امام علیہ السلام نے مسئلہ یوں فرمایا ہے اگر مثلاً راوی جھوٹے ہوں تو معلوم ہوجائے گا کہ امام علیہ السلام کا یہ فرمان نہیں ہے چونکہ جھوٹے راوی کی بات پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے یا راوی مثلاً غیر شیعہ ہے لیکن اسے جھوٹ بولنے کی عادت نہیں تو اس سے معلوم ہوجائے گا یہ روایت کس درجہ کی ہے۔

پس اصطلاحات کی ضرورت ہمیں ہے نہ کہ امام علیہ السلام کو، امام ؑ تو خود امام ہیں۔

سوال: عقل غیر معصوم ؑ کے حجت ہونے پر کوئی دلیل ہے؟

جواب: ایک طولانی حدیث میں امام کاظم ؑ نے فرمایا: اے ہشام خدا کے لیے لوگوں پر دو حجتیں ہیں ایک حجت ظاہری اور دوسری حجت باطنی؛ حجت ظاہری رسل، انبیاء اور ائمہ علیہم السلام ہیں اورباطنی حجت عقول (عقلیں) ہیں۔ یا ہشام ان للہ علی الناس حجتین حجۃ ظاہرۃ و حجۃ باطنۃ فامّا الظاہرۃ فالرسل و الانبیاء و الائمہ علیہم السلام و أمّا الباطنۃ فالعقول([1])۔

پھر امام علیہ السلام فرماتے ہیں: نجات نہیں ہے مگر اطاعت کے ساتھ اور اطاعت علم کے ساتھ ہے اور علم سیکھنے کے ساتھ ہے اور تعلّم سیکھنا عقل کے ساتھ ہے اور علم نہیں ہے مگر عالم ربّانی سے ہے اور علم کی معرفت عقل کے ساتھ ہے۔([2])

ابو ہاشم جعفری کہتا ہے کہ ہم امام رضا علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے ہم نے عقل اور ادب کے بارے میں گفتگو کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یا اباہاشم العقل حباءٌ من اللہ ؛ اے ابو ہاشم عقل، خدا کی طرف سے موہبت ہے۔([3])

رسول خدا ﷺ نے فرمایا: اگر کسی آدمی کے حسن حال کی خبر تمہیں پہنچے تو اس کے عقل کے حُسن کو دیکھو فانّما یُجازی بعقلہ؛ بتحقیق اس کو اس کے عقل کے مطابق اسے پاداش دی جائے گی۔ ([4])

چنانچہ ایک روایت کے ذیل میں خداوند متعال نے فرشتہ کو وحی فرمائی اور فرمایا (اس عابد کو) اس کی عقل کے مطابق ثواب دوں گا۔([5])

اورامیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: مرتبۃ الرجل بحسن عقلہ؛ انسان کا مرتبہ اس کی عقل کی خوبی جتنا ہی ہوگا۔ ([6])

پھر امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں: الشرف بالعقل و الادب؛ شرف عقل و ادب کے ذریعے ملتا ہے۔([7])

پھر امیر المومنین علی علیہ السالم فرماتے ہیں: الروح حیاۃ البدن و العقل حیاۃ الروح؛ روح جسم کی حیات اور عقل روح کی حیات ہے۔ ([8])

پھر امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں: اذا أراد اللہ بعبد خیراً منحہ عقلا قویا و عملا مستقیما؛ جب اللہ کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے عقل محکم اور بے عیب اعمال انجام دینے کی توفیق عطا کردیتا ہے۔ ([9])

پھر امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:ما آمن المؤمن حتی عَقَلَ؛ مومن اسی وقت تک ایمان نہیں لاتا جب تک وہ عقل مند نہ ہوا۔([10])

عقل ہی سے تو انسان خدا و رسول اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی معرفت حاصل کرتا ہے اگر انسان کا عقل حجت نہ ہو تو پھر معارف کا کیا حال ہوگا۔

اگر عقل حجت نہ ہوتا تو صاحبان عقل سے مشورہ کرنے کا حکم کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر عقل حجت نہ ہوتا تو خدا قرآن میں بار بار فاعتبروا یا اولی الابصار نہ فرماتا۔

جس شخص کو اپنے عقل کی حجیت کے بارے میں شک ہے وہ اپنے قریبی ہاسپٹل میں معاینہ کروائے۔ احکام شرعی عاقل پر لاگو ہیں مجنون پر کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ فافہم جیداً۔

سوال:اصولی کو اصولی کیوں کہاجاتا ہے؟

جواب: اجمالاً اس کا جواب خود سوال سے معلوم ہے مخفی نہ رہے سب سے پہلے علم اصول کے مسائل کو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام نے بیان فرماتے ہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد جناب ہشام بن حکم متوفی ۱۷۹ ھ نے علم اصول میں باب الفاظ پر کتاب تالیف فرمائی تھی، پھر یونس بن عبد الرحمن مولی آل یقطین ، جو کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کا شاگرد تھا نے اختلاف الحدیث پر کتاب تالیف فرمائی جو کہ تعارض الدلیلین و التعادل و الترجیح بینھما کے بارے میں ہے۔

جناب شیخ مفید نے اصول فقہ پر کتاب تحریر فرمائی اور قدماء میں سید مرتضی علم الہدی نے علم اصول میں تفصیلی کتاب الذریعہ فی الاصول الشریعہ کے نام سے لکھی۔ اور پھرجناب شیخ طوسی مؤسس حوزہ علمیہ نجف نے علم اصول میں بہت تفصیلی اور تحقیقی کتاب عدۃ الاصول کو تحریر فرمایا اور اصول کو خود امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام نے اپنے شاگردوں کو لکھوایا ہے جن کو متاخرین نے مباحث کی ترتیب پر کتب کی شکل دی ہے جیسے اصول آل رسول۔

کتاب، الفصول المھمۃ فی اصول الائمۃ اور کتاب الاصول الاصلیۃ اور یہ اصول سب معتبر روایات میں ذکر ہوئے ہیں پھر زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ اس علم میں متاخرین نے وسیع پیمانے پر تحقیقات اور تفصیلی کتب تحریر کی ہیں۔

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: علینا القاء الاصول و علیکم التفریع؛ اصول کا القاء کرنا ہم پر ہے اور اس سے تفریع ، فرعیں نکالنا یہ تمہارا کام ہے۔ ([11])

سوال: سیرت شیخین کیا تھی جس کو حضرت علی بن ابی طالب ؑ نے رد کردیا؟

جواب: ان کے ذاتی نظریات اور اعمال تھے۔

سوال: احکام غیر ضروری دین کیا ہیں؟

جواب: ضروری دین وہ ہیں جن پر سب کا اتفاق ہے۔

سوال: شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (سنی) تحفہ اثنا عشر میں رقم طراز ہیں کہ جس دلیل سے شیعوں کے نائب امام ہیں اسی دلیل سے ہمارے خلفاء نائب رسولؐ ہیں۔ اس کا جواز ہے پیش کریں؟

جواب: بناء بر صحت نقل، شاہ صاحب کا قیاس غلط ہے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک رسول خداؐ کا جانشین نصّ سے متعین ہوتا ہے اور نائب رسولؐ کے لیے عصمت شرط ہے اور اس کا پوری امت میں مطلقا سب سے أعلم ہونا شرط ہے۔

نیز معجزہ کے مطالبے پر، معجزہ دکھا سکے، مردہ کو باذن اللہ زندہ کرسکے، سورج کو باذن اللہ واپس پلٹا سکے اور خدا کی عطا سے ماکان وما یکون و ہو کائن کا علم رکھتا ہو چونکہ امام وارث علم انبیاء ہوتا ہے اور امام حجۃ اللہ ہوتا ہے نائب رسولؐ امام معصوم کے پاس اسم اعظم ہوتا ہے اور یہ قدرت علماء و فقہاء میں نہیں پائی جاتی امام زمان (عج) کی غیبت میں فقہاء کے پاس مصلحۃ ایک عارضی قسم کی نیابت ہے تاکہ لوگ غیبت کبری کے زمانے میں اپنے دینی مسائل کی نسبت پریشان نہ ہوں لذا منقول ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: امّا الحوادث الواقعہ فارجعوا فیہا الی رواۃ أحادیثنا فانہم حجتی علیکم و أنا حجۃ اللہ۔

أمّا جو حوادث (مسائل) پیش آئیں تو ان میں ہماری احادیث کے رواۃ (فقہاء) کی طرف رجوع کرو کیونکہ یہ تم پر حجت ہیں اور میں اللہ کی حجت ہوں۔([12])

اس فرمان میں صراحت موجود ہے کہ امام ہی حجت اللہ ہے اور امام معصوم کی اطاعت سب لوگوں پر واجب ہے اور فقہاء حجۃ اللہ نہیں ہیں مومنین کے دینی مسائل کی نسبت امام علیہ السلام نے ان کو اپنے مکتب کے رواۃ، فقہاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن امامت پھر بھی امام علیہ السلام کے پاس ہے اور رسول خدا ؐ کے بارہ نائب ان کی رحلت کے بعد ان کے ہمیشہ کے لیے نائب اور مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں۔

اہل سنت کے خلفاء ثلاثہ کو کب رسول خداؐ نے اپنا خلیفہ و جانشین تعین کیا ہے؟ اگر رسول خداؐ نے پہلے کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا تھا تو اسے رسول خداؐ کا جنازہ چھوڑ کر ([13]) سقیفہ بنی ساعدہ میں جانے کی کیا ضرورت تھی؟

نائب رسولؐ امام کے پاس ہر مسئلہ کا جواب واضح موجود ہوتا ہے۔ اگر ثلاثہ رسول کے نائب اور امت کے امام ہوتے تو ثانی کو بار بار لولا علی لہلک عمر؛ اگر علی ؑ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا([14])، کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ نائب رسول، امام معصوم باذن اللہ معجزہ دکھا سکتا ہے چنانچہ حضرت علی ؑ نے کئی مردوں کو باذن اللہ زندہ کیا ہے نائب رسول یعنی امام معصوم ڈوبتے سورج کو باذن اللہ واپس پلٹا سکتا ہے چنانچہ بابل میں حضرت علی علیہ السلام نے پلٹایا تھا۔ شاہ صاحب کیا یہ کام تمہارے ثلاثہ کرسکتےتھے؟ جواب یقینی نفی ہی ہوگا۔ پس شاہ صاحب کا مقام میں قیاس کرنا غلط محض ہے۔

سوال: النائب کالمنیب کا کلیہ صحیح ہے یا غلط؟

جواب: سوال میں اجمال پایاجاتا ہے۔ کس چیز میں نیابت کے بارے میں سوال مطلوب ہے۔ چونکہ نیابت کبھی بعض امور میں ہوتی ہے اور کبھی کلی امور میں اور بعض اوقات نائب کو سب اختیار دیئے جاتے ہیں اور بعض اوقات جزئی اختیار دیئے جاتے ہیں۔ اور کبھی احکام شرعیہ کے حوالے سے نائب بنایا جاتا ہے جیسے جو خود حج پر نہ جاسکتا ہو اور حج بھی اس پر واجب ہو چکی ہو تو اپنی طرف سے نائب بناکر بھیج سکتا ہے۔ جب نائب حج کو صحیح طریقہ سے انجام دے دے تو گویا منوب نے انجام دے دی ہے اور حج منوب کی گردن سے ساقط ہوجائے گی۔

سوال: کیا تائید علی ولی اللہ وعزاداری حسین ؑ کرنے والوں سے بائیکاٹ کرنے والا جبکہ تقیہ کا دور نہیں ہے شیعہ ہوسکتا ہے؟

جواب: امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان کے گیارہ معصوم بیٹوں کی ولایت کا عقیدہ رکھنا واجب ہے ۔ مخفی نہ رہے کہ ولایت اسلام کی روح ہے اور عزاداری امام حسین علیہ السلام ، اسلام کی بقاء کی ضمانت ہے۔ سب اہل ایمان کو چاہیے کہ عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام میں شرکت کیا کریں اور عزاداری کو پورے خلوص اور اہتمام کے ساتھ برقرار رکھیں چونکہ عزاداری امام حسین علیہ السلام تقرب الٰہی کا موجب ہے۔

معصومین علیہم السلام کی نگاہ میں عزاداری کا بڑا مقام ہے۔ سزاوار ہے کہ مجالس عزا میں فضائل و مصائب محمد وآل محمد علیہم السلام کے ساتھ ساتھ عقائد حقہ اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی نورانی تعلیمات کو بھی بیان کیا جائے تاکہ مومنین ان پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت کی سعادت پر فائز ہوسکیں۔

سوال: حدیث ثقلین پر عمل پیرا اور عقل و اجماع کی ردّ کرنے والا ناجی ہے یا ناری ہے؟

جواب: مخفی نہ رہے کہ ہر مسلمان کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی وصیت پر حدیث ثقلین پر عمل کریں جس نے قرآن و عترت اہل بیت علیہم السلام ان دونوں کے ساتھ تمسک رکھا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔

اگر عقل نہ ہو تو نہ قرآن کو انسان سمجھ سکتا ہے اور نہ محمد و آل محمد علیہم السلام کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ ثواب اور عقاب عقل کے مطابق ہوگا کہ انسان کتنی معرفت رکھتا ہے۔

رہا اجماع، شیعہ کے نزدیک ہر اجماع حجت نہیں ہے وہ اجماع حجت ہے جو کاشف قول معصوم ہو اور غیبت کبری میں دینی مسائل میں مومنین کا وظیفہ، جامع الشرائط فقہاء کی طرف رجوع کرنا ہے تاکہ مؤمنین فقہ جعفریہ کو جان سکیں۔

سوال:جب کسی نائب امام سے سوال کیاجاتا ہے تو جواب کے اختتام پر واللہ اعلم لکھنے کا سبب کیا ہے؟

جواب: علماء اور فقہاء لوح محفوظ کا مطالعہ تو کر نہیں سکتے کہ واقع میں مسئلہ کی حقیقت کیاہے قرآن اور معصومین علیہم السلام کے فرامین سے اور ان کے بتائے ہوئے دیگر اصولوں سے مسائل شرعیہ کا استنباط کرتے ہیں کہ ہم نے قرآن اور حدیث معصومین علیہم السلام سے یہی سمجھا ہے۔

اور حقیقت واقع کا علم خدا کے پاس ہے لذا واللہ اعلم یا واللہ العالم آخر میں لکھ دیتے ہیں یہ مذہب حقہ شیعہ کے امتیازات سے ہے ورنہ اہل سنت کے نزدیک جو فتوی ان کا مجتہد دے دے وہ کہتے ہیں حکم واقعی یہی ہے۔

سوال: کیا معصومین علیہم السلام کی تقلید جائز ہے؟

جواب: معصومین علیہم السلام کی اطاعت سب پر واجب ہے ۔

مخفی نہ رہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کے پاس علوم ، رسول خداؐ کے ذریعے سے ہیں اور رسول خداؐ کے پاس خدا کی طرف سے ہیں۔ پس محمد و آل محمد علیہم السلام وارث علم الاولین و الاخرین ہیں ہر ہر مسئلے کا جواب معصومین علیہم السلام کے پاس ہے امام معصوم علیہ السلام کی موجودگی میں امام ؑ سے مسئلہ پوچھا جائے گا اور اس پر عمل کیا جائے گا یا امام علیہ السلام کے کسی شاگرد جس نے امام علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی ہو اور ان کے فرامین کی روشنی میں مسئلہ کو جانتا ہو سے سوال کیا جائے گا اور اس پر عمل کیا جائے گا جیسا کہ رسالہ ہذا میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔

غیبت کبری کے زمانے میں جبکہ امام زمان علیہ السلام پردہ غیب میں ہیں ائمہ طاہرین علیہم السلام کے مکتب کے علماء و فقہاء سے دینی مسائل پوچھے جائیں گے چونکہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے علماء و فقہاء قرآن اور محمد آل محمد علیہم السلام کے فرامین کی روشنی ہی میں فتوی دیتے ہیں اور ان کی تقلید در واقع معصومین علیہم السلام کی ہی پیروی ہے۔

جس تقلید سے منع کیا گیا ہے اس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مقابلے میں دکانیں کھول رکھی تھیں اور ان کو سرکاری حمایت بھی حاصل تھی اور وہ معصومین علیہم السلام کے فرامین کے مقابلے میں قیاس، استحسان اور اپنی ذاتی رائے سے فتوے دیتے تھے ایسے لوگوں کی تقلید شریعت میں ممنوع قرار دی گئی ہے۔

لیکن شیعہ علماء محمد و آل محمد علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں فتوے دیتے ہیں لذا کہا جاتا ہے فقہ جعفریہ([15])۔ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے کلام کو علماء و فقہاء ہی بہتر سمجھتے ہیں اگر شیعہ علماء معصومین علیہم السلام کے کلام کو اپنی کتب میں نقل نہ کرتے تو ہمیں معصومین علیہم السلام کی احادیث و فرامین کا علم نہ ہوتا۔ علماء حقہ، علوم آل محمد علیہم السلام کے مروّج، اور باب ائمہ علیہم السلام ہیں۔

خلاصہ یہ کہ جو لوگ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں موجود تھے وہ خود امام معصوم ؑ سے مسئلہ کا جواب لے سکتے تھے لیکن غیبت کبری کے زمانے میں مومنین، امام معصوم ؑ کی خدمت میں عام حالات میں جب چاہیں حاضر نہیں ہوسکتے([16])۔ لذا وہ فقہاء سے اپنے دینی مسائل کا جواب لیتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ امام علیہ السلام نے مومنین کو دینی مسائل کی نسبت اپنے رواۃ (فقہاء) کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس دور میں جس مومن کو کوئی دینی مسئلہ درپیش آئے اس کا جواب بہرحال اسے فقہاء سے ہی حاصل کرناپڑے گا۔ چونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں علوم آل محمد علیہم السلام کی تحصیل میں صرف کی ہیں انکے پاس علم کا ایک ذخیرہ ہے اور وہ مکتب ائمہ طاہرین علیہم السلام کے مروج اور محافظ ہیں۔ اگر یہ علماء و فقہاء نہ ہوں تو اس ترقی کے دور میں دینی مسائل خصوصاً جدید سے جدید اور مشکل مسائل جو مومنین کو درپیش آرہے ہیں ان کا جواب کون دے گا؟ اگر دینی مسائل کا جواب فقہاء ہی نے دینا ہے اور مومنین نے ان کے قول پر عمل کرنا ہے تو یہ تقلید نہیں تو اور کیا ہے؟

خلاصہ یہ کہ دینی وظائف کی ادائیگی کے لیے یا تو خود انسان مجتہد ہو یا احتیاط پر عمل کرے یا کسی جامع الشرائط فقیہ کی تقلید کرے۔


 

 



[1]۔اصول کافی، ج۱، ص ۴۸، ح ۱۲۔

[2]۔حوالہ بالا، ص ۵۰۔

[3]۔حوالہ بالا، ص ۶۴، ح ۱۸۔

[4]۔حوالہ بالا، ص ۳۸، ح۹۔

[5]۔حوالہ بالا، ص ۳۸، ح ۸۔

[6]۔تجلیات حکمت، ص ۳۳۰۔

[7]۔حوالہ بالا، ص ۳۳۱۔

[8]۔حوالہ بالا، ص ۳۳۲۔

[9]۔حوالہ بالا، ص ۳۳۳۔

[10]۔حوالہ بالا، ص ۳۳۴۔

[11]۔وسائل الشیعہ، ج۱۸، ابواب صفات القاضی، باب۶، ح ۵۲، ص ۴۱۔

[12]۔اکمال الدین و اتمام النعمۃ؛ احتجاج طبرسی ۲/ ۲۲۴؛ وسائل الشیعہ، ج۱۸، ص ۱۰۱، باب ۱۱، از ابواب صفات القاضی و کتب دیگر۔

[13]۔المصنف لابن أبی شیبہ، ج۸، ص ۵۷۲۔ طبع دار الفکر بیروت۔ الفاروق شبلی نعمانی، ص ۶۳، مکتبہ اسلامیہ۔

[14]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۴۹، طبع دار الفکر، کفایۃ الطالب، ص ۲۲۷، باب ۵۹ وکتب دیگر۔

[15]۔مخفی نہ رہے فقہ جعفریہ، فقہ اہل بیت علیہم السلام ہے۔ فقہ ائمہ طاہرین ؑ ہے یہ بارہ کی فقہ ہے جعفریہ کے نام سے اس لیے مشہور ہوئی ہے چونکہ نسبۃً امام جعفر صادق علیہ السلام کو اپنے والد گرامی امام محمد باقر علیہ السلام کی طرح تبلیغ دین کا کچھ زیادہ موقعہ ملا چونکہ بنی امیہ کی حکومت کا آخر تھا اور بنی عباس کی حکومت کا آغاز تھا اور وہ آپس میں جنگ میں مبتلا تھے۔ مشہور یہ ہے امام جعفر صادق علیہ السلام کے چار ہزار شاگرد تھے جنہوں نے دور دراز علاقوں میں مکتب امام صادق علیہ السلام کو پھیلایا۔

[16]۔اگرچہ اضطراری حالت میں امام علیہ السلام کی زیارت ممکن ہے اور بعض بزرگان اور صالحان کو نصیب بھی ہوئی ہے۔ پردہ غیب میں لوگ ان سے اسی طرح استفادہ کر رہے ہیں جس طرح سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جائے۔ بہرحال امام زمان علیہ السلام ہمارے اعمال پر ناظر ہیں اور ہماری مدد بھی فرماتے ہیں ہماری مجالس میں ناشناختہ طور پر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے لیے دعا فرماتے ہیں اور خدا کی مشیت سے جب وہ چاہے گا ظہور فرمائیں گے اور پوری دنیا کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیں گے جیسا کہ شیعہ و سنی روایات میں ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے ہماری تحقیقی کتاب عقائد الشیعہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه