وہ عیوب جن کی وجہ سے عقد فسخ کیا جاسکتا ہے
مسئلہ ۶۱۲: اگر مرد کو عقد کے بعد پتہ چلے کہ عورت میں درج ذیل سات عیبوں میں سے کوئی عیب موجود ہے تو وہ عقد کو فسخ کرسکتا ہے:
۱۔ پاگل پن ۲۔ کوڑھ ۳۔ برص ۴۔ اندھا پن
۵۔ اپاہج ہونا اور مفلوج ہونا بھی اپاہج ہونے کے حکم میں ہے جب کہ عورت کا مفلوج ہونا واضح ہو۔
۶۔ افضا یعنی پیشاب اور حیض کا مخرج یا حیض او ر پاخانے کا مخرج ایک ہوجانا۔
۷۔ عورت کی شرم گاہ میں گوشت یا ہڈی کا ہونا جو جماع سے مانع ہو۔
مسئلہ۶۱۳: اگر عورت کو عقدے کے بعد پتہ چلے کہ اس کا شوہر عقد سے پہلے دیوانہ رہا ہے یا وہ عقد کے بعد مجامعت کرنے سے پہلے یا مجامعت کرنے کے بعد دیوانہ ہوجائے یا اس کا آلہ تناسل ہی نہ ہو یا اس کا آلہ تناسل عقد کے بعد لیکن مجامعت سے پہلے کٹ جائے یا اسے کوئی ایسی بیماری ہو جس کی وجہ سے وہ مجامعت پر قادر نہ ہو خواہ اسے وہ بیماری عقد کے بعد اور نزدیکی کرنے سے پہلے ہی کیوں نہ لاحق ہوئی ہو ان تمام صورتوں میں عورت طلاق کے بغیر عقد کو ختم کرسکتی ہے لیکن اس صورت میں جب کہ شوہر مجامعت نہ کرسکتا ہو عورت کے لیے لازم ہے کہ حاکم شرع یا اس کے وکیل سے رجوع کرے اور وہ اس کے شوہر کو ایک سال کی مہلت دے دے اور اگر پھر بھی وہ اس عورت یا کسی اور عورت سے مجامعت پر قادر نہ ہو تو عورت اس کے بعد عقد ختم کرسکتی ہے اور اگر مرد کا آلہ تناسل مجامعت کرنے کے بعد کٹ جائے اور عورت عقد ازدواج کو فسخ کرے تو اس فسخ کرنے کا کوئی اثر نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ شوہر اسے طلاق دے دے۔
مسئلہ ۶۱۴: اگر عورت کو عقد کے بعد پتہ چلے کہ اس کے شوہر کے تخم (فوطے) نکال دیئے گئے ہیں تو اس صورت میں جب کہ اس امر کو عورت سے مخفی رکھا گیا ہو وہ عقد کو ختم کرسکتی ہے لیکن اگر اس سے مخفی نہ رکھا گیا ہو تو احتیاط ترک نہ کی جائے۔
مسئلہ ۶۱۵: اگر عورت اس بنا پر عقد ختم کردے کہ مرد مجامعت پر قادر نہیں توشوہر کو چاہیے کہ اسے آدھا مہر دے لیکن اگر ان دوسرے نقائص میں سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے کسی ایک کی بناء پر مرد یا عورت عقد ختم کردیں تو اگر مرد نے عورت سے مجامعت نہ کی ہو تو کوئی چیز دینا اس پر واجب نہیں اور اگر مجامعت کی ہو تو اسے چاہیے کہ پورا مہر ادا کرے۔