تولّی (تولّا) و تبرّی (تبرّا)

ارشاد رب العزت ہے:

{ لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الإيمَانَ}

(سورہ مجادلہ ،آیت ۲۲)

تولّا اور تبرّا کو اگرچہ فروع دین میں شمار کیا جاتا ہے اور مشہور بھی یوں ہی ہے لیکن یہ دونوں اصول اعتقاد سے ہیں اور بسا کہا جاتا ہے کہ ولایت اور براءۃ قلبی یہ اصول سے ہیں اور ان پر عمل کرنا فروع سے ہے۔ یہ اچھا قول ہے۔ تولّا سے مراد محبت اور تبرّا سے مراد بغض و عداوت ہے۔ محمد و آل محمد علیہم السلام سے محبت واجب ہے ۔بنصّ قرآن قربیٰ سے مودت کی جائے۔

{ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} (سورہ شوری، آیت ۲۳)

ترجمہ:تم کہہ دو کہ میں اس (تبلیغ رسالت) کا اپنے قرابتداروں کی مودّت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔

قُربیٰ سے مراد علی، فاطمہ حسن وحسین علیہم السلام ہیں اس بات کی تصریح کتب اہل سنت میں بھی موجود ہے۔

محمد و آل محمد علیہم السلام کی محبت گناہوں کو مٹا دیتی ہے اُن پر کثرت سے صلوات پڑھنا عظیم عبادت ہے۔ بلند آواز سے صلوات پڑھنا منافقت کو ختم کر دیتا ہے۔ محمد و آل محمد علیہم السلام کی خوشی کے ساتھ خوشی اور ان کی غمی کے ساتھ غمی کرنا چاہیے۔ سادات کرام جو کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذریت ہیں ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے۔ اور سادات کی ہتک کرنا حرام ہے۔ سادات عظام کو بھی چاہیے کہ صحیح عقیدہ کے ساتھ، نیک اعمال کو انجام دیں معصیت سے اجتناب کریں۔

خلاصہ یہ کہ اپنے آباء و طاہرین علیہم السلام کی سیرت پر ہمیشہ عمل پیرا رہیں اور اپنے آباء طاہرین علیہم السلام کے فضائل و مصائب کا انکار نہ کریں اور محمد و آل محمد علیہم السلام کے دشمنوں سے بچ کر رہیں۔

ارشاد ربّ العزت ہے:{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا } (سورہ احزاب، آیت ۵۷)

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔

جس نے حضرت علی، فاطمہ حسن و حسین اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کو اذیت دی اس نے رسولؐ کو اذیت دی جس نے رسولؐ کو اذیت دی اس پر اللہ کی لعنت ہے۔حاصل یہ کہ محمد و آل محمد علیہم السلام کے دشمنوں سے براءۃ و بیزاری واجب ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام ہر فریضۃ نماز کے بعد چند مردوں اور چند عورتوں کا نام لے کر ان پر لعنت کرتے تھے۔ جو شخص محمد وآل محمد علیہم السلام کے دشمنوں پر تبرّے کا انکار کرتا ہے وہ یا تو جاہل ہے یا خائن ہے۔ ہاں تقیہ کے احکام کی مراعات ضروری ہے عام مجالس میں نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کلی طور پر تبرّا کیا جائے مثلاً کہا جائے آل محمد علیہم السلام کے دشمنوں اور قاتلوں پر لعنت۔

دل میں یا خلوت میں آل محمد علیہم السلام کے دشمنوں پر نام لے کر تبرا کیا جاسکتا ہے۔

ایک حدیث میں امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہین جو شخص جبت و طاغوت (یعنی حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیہما السلام کے دشمنوں) پر ایک مرتبہ لعنت کرتا ہے خداوند متعال اس کے لیے ستر لاکھ نیکی لکھ دیتا ہے ستر لاکھ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے اور ستر لاکھ اس کے درجات بلند کر دیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اولیاء خدا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ اور ان کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا اور آئمہ طاہرین بارہ اماموں جن میں پہلے حضرت علی علیہ السلام اور آخری امام مہدی علیہ السلام ہیں ان سے محبت واجب ہے۔

اور خدا و رسول ﷺاور معصومین علیہم السلام کے دشمنوں سے بیزاری واجب ہے۔

محمد و آل محمد علیہم السلام کے ہم پر حقوق ہیں جن میں بعض یہ ہیں:

  1. 1.ان کی معرفت حاصل کریں،
  2. 2.ان سے محبت مرتے دم تک رکھیں،
  3. 3.ان کی اطاعت مرتے دم تک کریں،
  4. 4.ان کی قبور کی زیارت پر جائیں،
  5. 5.مشکلات میں ان سے توسل کریں چونکہ یہ ابواب اللہ (اللہ کے دروازے) ہیں،
  6. 6.ان کی خوشی کے ساتھ خوشی اور ان کی غمی کے ساتھ غمی کریں مجالس عزاداری اور ماتم داری کو اخلاص اور پورے اہتمام سے منعقد کیا کریں کیونکہ یہ مجالس محبوب خدا ہیں،
  7. 7.اپنے بچوں کے نام، ان کے ناموں پر رکھیں چونکہ یہ بھی ان سے محبت کی علامت ہے اور ان کی محبت آخرت میں کام آئے گی،
  8. 8.ان کی ذریت سادات عظام سے محبت اور ان کا احترام کریں،
  9. 9.ان کے مالی حقوق خمس کو ادا کریں، یہ سادات کا حق ہے،
  10. 10.ان کے محبوں سے بھی محبت کریں،
  11. 11.ان کے فقیراور نیاز مند محبوں کی مالی مدد کریں،
  12. 12.ان کے محبوں میں اگر کسی وجہ سے آپس میں رنجش پیدا ہوجائے تو ان کی صلح کروائیں،
  13. 13.ان کے دشمنوں سے بیزاری رکھیں،
  14. 14.مکتب حسینی کی سربلندی اور لوگوں کو محمد و آل محمد علیہم السلام کے دروازے پر آنے کی طرف راغب کریں۔ مذہب و دین کی خدمت، ان کی خدمت ہے۔
  15. 15.ان کے فضائل ومصائب کا انکار نہ کریں،
  16. 16.امام زمانہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لیے کثرت سے دعا کریں اور ان کی طرف سے صدقات و خیرات دیا کریں۔

یاد رہے کہ تولّا اور تبرّا خدا اوراس کے دین کی خاطر ہو۔ یعنی اولیاء اللہ، انبیاء و اوصیاء سے محبت، للہ (خدا کے لیے) ہو اور ان کے دشمنوں پر تبرّا بھی خدا کے لیے ہو، تولّا اور تبرّا کسی ذاتی غرض یا دنیوی طمع کے لیے نہ ہو۔

دعاگو ہوں کہ خداوند متعال بحق محمد وآل محمد علیہم السلام ہم سب کو اخلاص عطا فرمائے اور ہم سب کو محمد و آل محمد علیہم السلام کی محبت و مودت ، اور ان کی ولایت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، ہوای نفسانی اور شر شیطان سے محفوط فرمائے۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه