۸۔ تبعیت
مسئلہ ۸۴: تبعیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نجس چیز، کسی دوسری چیز کے پاک ہونے کی وجہ سے پاک ہوجائے۔
مسئلہ ۸۵: اگر شراب سرکہ بن جائے تو اس کا برتن بھی اس جگہ تک جہاں تک شراب اُبل کر پہنچی ہو پاک ہوجاتا ہے اوراگر کپڑا یا کوئی دوسری چیز بھی نجس ہوئی ہو جو عموماً اس پر رکھی جاتی ہے وہ بھی پاک ہوجاتی ہے لیکن اگر برتن کی بیرونی سطح اس شراب سے آلودہ ہوجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ شراب کے سرکہ بن جانے کے بعد اس سے پرہیز کیا جائے۔
مسئلہ ۸۶: کافر کا بچہ تبعیت کے ذریعے دو صورتوں میں پاک ہوجاتا ہے :
۱۔ جو کافر مرد مسلمان ہوجائے اس کا بچہ طہارت میں اسی کے تابع ہے اوراسی طرح بچے کادادا یا بچے کی ماں یا دادی مسلمان ہوجائیں تب بھی یہی حکم ہے۔
۲۔ کافر کا بچہ کسی مسلمان کے ہاتھوں قیدی بنا ہواوراس کے با پ یا جداد میں سے کوئی اس بچے کے ساتھ نہ ہو اور ان دونوں صورتوں میں بچے کےتبعیت کی بنا پر پاک ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ ممیز ہونے کی صورت میں کفر کا اظہار نہ کرے۔
مسئلہ ۸۷: وہ تختہ یا سل جس پر میت کو غسل دیاجائےاور وہ کپڑا جس سے میت کی شرمگاہ ڈھانپی جائے نیز غسال (غسل دینے والے) کے ہاتھ یہ تمام چیزیں جو میت کے ساتھ ہی دھل گئی ہیں غسل مکمل ہونے کے بعد پاک ہوجاتی ہیں۔
مسئلہ ۸۸: غسل دینے والے کے ہاتھ کے علاوہ باقی بدن اور اس کا لباس اورغسل میں استعمال ہونے والے دوسرے آلات کا میت کو غسل دینے کے ساتھ پاک ہونا محل اشکال ہے۔
مسئلہ ۸۹: اگر کوئی شخص کسی چیز کو پانی سے دھوئے تو اس چیز کے پاک ہونے پر اس شخص کا وہ ہاتھ بھی جو اس چیز کے ساتھ ہی دھل چکا ہے، پاک ہوجاتا ہے۔
مسئلہ ۹۰: اگر لباس یا اس جیسی چیز کو قلیل پانی سے دھویا جائے اورمعمول کے مطابق نچوڑدیا جائے تاکہ جس پانی سے اسے دھویا گیا ہے وہ نکل جائے تو جو پانی اس میں رہ جائے وہ پاک ہے (البتہ مخفی نہ رہے کہ کسی چیز کی نجاست برطرف ہونے کے بعد کبھی ایک مرتبہ اسے دھونا ہوگا تو اس صورت میں اس سے جداہونے والا پانی پاک ہے جب اس میں عین نجاست نہ ہو۔ اورکبھی بعض نجاسات کی وجہ سے اسے قلیل پانی سے دو مرتبہ دھونا ضروری ہوتا ہے نجاست کے برطرف ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کے غسالہ سے بناء بر احتیاط واجب، اجتناب کرنا ضروری ہے اوردوسری مرتبہ دھونے کا غسالہ پاک ہے)
مسئلہ ۹۱: جب نجس برتن کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو جو پانی برتن کو پاک کرنے کے لیے اس پر ڈالا جائے اس کے بہہ جانے کے بعد جو پانی معمول کے مطابق اس میں باقی رہ جائے پاک ہےاوروہ پانی جو اس سے جداہو اس کا حکم اوپر والے مسئلہ میں بیان ہوچکا ہے۔