چوتھا باب

 

خلافت و امامت

 

 

خلافت کی تعریف:خلافت، کسی شخص لیے حضورؐ کی نیابت، دینی اور دنیوی امور میں، خدا کی طرف سے عمومی ریاست کا نام ہے۔ ([1])

ضرورت امام: امام چونکہ حافظ شریعت ہوتا ہے اگر ہر زمانہ میں امام معصوم نہ ہو تو شریعت تغیر و تبدل سے نہیں بچ سکتی۔ امام لوگوں کو دین حق اور شریعت پیغمبرؐ پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کی تفسیر واقعی سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے چونکہ امام وارث قرآن ہوتا ہے اور لوگوں کے –خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان- شبہات کو دور کرتا ہے اور دین کی حفاظت کرتا ہے چنانچہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے عظیم قربانیاں دے کر دین محمد ﷺ کی حفاظت کی۔ ائمہ طاہرین علیہم السلام وقتاً فوقتاً، یہود و نصاری اور دیگر لوگوں کے مسائل کے جواب اور شبہات کو دور کرتے رہے، جیسا کہ امام حسن عسکری کے زمانہ میں بارش کا واقعہ بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے جس کو اہل سنت کے علماء نے بھی نقل کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معتمد عباسی کے دور میں سامراء میں شدید قحط پڑا تین دن لوگوں نے صحرا میں نماز استسقاء پڑھی لیکن بارش نہیں ہوئی۔ چوتھے دن نصرانیوں کا جاثلیق دیگر راہبوں کے ہمراہ نکلا جب اس نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیا تو بارش آنے لگی پھر اس کے بعد والے دن بھی آیا اور حسب سابق ہاتھ بلند کیا بارش آنےلگی لوگوں نے بڑا تعجب کیا اور بعض کے دلوں میں شک پیدا ہونے لگا اور لوگ دین اسلام سے عیسائیت کی طرف مائل ہونے لگے۔ تو حاکم وقت سخت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے تو کسی کو بھیجا کہ زندان([2]) سے امام حسن عسکری علیہ السلام کو اس کے پاس حاضر کرے جب امام ؑ کو حاضر کیا گیا تو معتمد عباسی نے کہا: اَدرِک أمۃ محمد؛ امت محمد ﷺ کی مدد کریں۔ چونکہ ایک عظیم مصیبت آپڑی ہے کہ لوگ گمراہ ہو رہے ہیں امام ؑ نے فرمایا کہ ان کو کہو کہ اگلے دن صحرا میں نکلیں تو اس نے کہا کہ اب لوگ بارش سے بے نیاز ہوچکے ہیں (چونکہ کافی بارش ہوئی ہے) اب نکلنے کا کیا فائدہ؟ فرمایا: لازیل الشک عن الناس؛ تاکہ لوگوں کا شک زائل کردوں۔ (تاکہ وہ دین محمدؐ سے عیسائیت کی طرف مائل نہ ہوں) عباسی حاکم نے جاثلیق ، راہبوں اور دیگر لوگوں کو اگلے دن صحرا میں نکلنے کا حکم دیا جب وہ نکلے تو ان کے ساتھ امام حسن عسکری علیہ السلام بھی نکلے جب راہب اور نصرانیوں نے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیئے تو آسمان سے بارش آنے لگی۔ امام علیہ السلام نے کسی کو فرمایا کہ راہب کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس کو اس کے ہاتھ سے پکڑ لے۔ تو اس شخص نے دیکھا اس کی انگلیوں میں انسان کی استخوان (ہڈی) تھی تو اس نے اسے نکال کر امام ؑ کے حوالے کردیا تو امام علیہ السلام نے اس کو اپنے کپڑے میں لپیٹ دیا اور اور فرمایا اب ان کوکہو کہ دعا کریں جب انہوں نے ہاتھ بلند کیئے تو جو بادل آئے ہوئے تھے وہ بھی ہٹ گئے اور سورج چمکنے لگا لوگوں نے تعجب کیا عباسی حاکم نے امام سے کہا یہ کیا ہے؟

تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ انبیاء میں سے ایک نبی کی استخوان ہے جس کو انہوں نے ان کی قبر سے حاصل کیا ہے۔ اور انبیاء کے بدن کی استخوان کی یہ برکت ہے کہ جب بھی اس کو آسمان کے نیچے ظاہر کیا جائے تو بارش آنے لگتی ہے۔ سب لوگ ، امام علیہ السلام کے عمل پر بہت خوش ہوئے اور پھر انہوں نے امتحاناً اس استخوان کو آسمان کے نیچے ظاہر کیا تو پھر بارش ہونے لگی پھر امام علیہ السلام اپنے گھر تشریف لائے۔ و قد أزال عن الناس ہذہ الشبہۃ و سر الخلیفۃ والمسلمون بذلک۔ اور امام ؑ نے لوگوں سے شبھہ کو دور کردیا عباسی خلیفہ اور سب مسلمان امام ؑ کے اس فعل سے بہت خوش ہوئے۔([3])

ضرورت امام پر مزید دلائل

۱۔ ضرورت دین اور نص قرآن سے ثابت ہے کہ جنات بھی ، امت محمد ؐ سےہیں او وہ بھی احکام اسلام کے مکلف ہیں تو ان کو احکام کی وضاحت کرنے والے اور شبہات کے جواب دینے والے کی ضرورت ہے۔ پیغمبر ؐ کے بعد کوئی ایسا ہو جو ان کی زبان جانتا ہو اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرے اور اگر ان میں جھگڑا ہوجائے تو ان کا فیصلہ کرسکے۔ وہ سوائے امام معصوم معلم عند اللہ کے کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے پاس کئی ایک جنات کبھی سانپ کی صورت میں کبھی کسی صورت میں احکام کی وضاحت کے لیے آتے تھے۔ اور امیر المومنین علیہ السلام کاجنات کے ساتھ جنگ کرنا اور ان کے جھگڑوں کو ختم کرنا اور متمرد و سرکش جنات کو مسلمان کرنےکے واقعات کتب میں موجود ہیں۔ انصاف کے ساتھ بتائیں کہ باقی امت، علماء فقہاء اور صحابہ میں کوئی ان کاموں کو کرسکتا تھا اور کرسکتا ہے؟ فرض کریں کسی کو سب لوگ ووٹ دے کر حضورؐ کے منبر پر بٹھا دیں تو کیا وہ شخص حضورؐ کی جانشینی کا حق ادا کر سکتا ہے کیا ووٹ دینے سے وہ قرآن کا وارث ہوجائے گا ؟ قرآن کے تمام حقائق سے آگاہ ہوجائے گا کیا جنات کی زبان سے فوراً آشنا ہوجائے گا، کیا دین کے تمام مسائل پر احاطہ پیدا کرلے گا؟

۲۔ اسلام کی پہلی صدی میں بہت سارے کفار پر اسلام کے حقائق مخفی تھے قرآن کے اعجاز کے درک کرنے پر عاجز تھے۔مانند اعراب بادیہ نشین جو حضورؐ سے معجزات کا تقاضا کرتے تھے جیسے سنگریزوں کا تسبیح پڑھنا وغیرہ۔

حضورؐ کی رحلت کے بعد اگرکوئی کافر آنجنابؐ کے منبر پر بیٹھنے والے سے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کردے کہ معجزہ دکھائے تو تب مسلمان ہوتا ہوں۔ اب منبر پر بیٹھنے والے کا کام اس کی پٹائی شروع کرنا ہے یا اس کے مطالبہ کو پورا کر دکھانا ہے تاکہ اس کی خلافت کی حقانیت کو دیکھ کر دین مبین اسلام کو قبول کرلے۔ آیا ووٹوں سے بنایا ہوا شخص معجزہ دکھا سکتا ہے؟ حضورؐ کی رحلت کے بعد کئی ایک راہب وغیرہ اسلام کی ندا سن کر مدینہ پہنچے تاکہ خدا کے رسولؐ کو آنکھوں سے دیکھیں اور یقین کے ساتھ ان کی رسالت کی گواہی دیں ۔ جب پہنچے تو آنجنابؐ کی رحلت ہوچکی تھی تو ان لوگوں نے سوال کیا تمہارے رسولؐ کا خلیفہ و جانشین کون ہے اس سے ہم سوال کرتے ہیں اگر صحیح جواب دے دے تو مسلمان ہوجائیں گے ورنہ معلوم ہوجائے گا کہ (نعوذ باللہ) اسلام جھوٹا دین ہے۔ جب ان کو مسجد میں لایا گیا مشکل سوالات کے جواب میں منبر پر ووٹوں کے ذریعے سے بیٹھنے والا، لاجواب ہوگیا۔ ان لوگوں نے اسلام کی تکذیب شروع کردی، جب سلمان فارسی نے ان کو امیر المومنین علی علیہ السلام کی طرف راہنمائی کی جو کہ باغ میں کام کر رہے تھے تو ان کے سوالات کے جواب جب حضرت علی علیہ السلام نے دیئے تو انہوں نے اسلام بھی قبول کرلیا اور جناب امیر علیہ السلام کے خلیفہ برحق ہونے کی گواہی بھی دی([4])۔ اگرکوئی کسی غرض یا مرض کی وجہ سے ان تاریخی حقائق کا انکار کردے تو ہم کہیں گے فرض یہ کرلیں کہ ایسا واقعہ رونما ہوجائے ۔ تو منبر پر بیٹھنے والے لاجواب،اور اسلام کے وہن کے موجب بننےوالے کو خلیفہ مانیں یا اسلام کی لاج رکھنے والے کو مانیں؟ آپ کا ضمیر کیا کہتا ہے؟

تاریخ کا مطالعہ کریں کیا یہ صحیح ہے کہ عمر بن خطاب نے کئی مرتبہ کہا :لولا علیٌ لَہَلَکَ عمر؛ اگر علی ؑ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔([5])

آپ ہی انصاف سے بتائیں کہ اس کو مانیں جو اسلام کے سب احکام کو جانتا ہے یا اس کو مانیں جو احکام نہ جاننے کی وجہ سے خود بھی ہلاک ہو رہا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈال رہا ہے؟

معلوم ہوا کہ پیغمبرؐ کی رحلت کے بعد بھی خدا کی طرف سے کسی معصوم امام اور راہنما کی ضرورت ہے اور وہ بارہ معصوم امام ہیں جن میں پہلے حضرت علی علیہ السلام اور آخری امام مہدی علیہ السلام ہیں۔

۳۔ جن وجوہ کی بنا پر نبی کی ضرورت ہوتی ہے انہی وجوہ کی بناء پر بقاء دین کے لیے امام کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ بعبارت دیگر نبی دین کے لیے علت محدثہ ہے یعنی ابتدائے دین کی علت نبی ہوتا ہے اور امام علت مبقیہ ہوتا ہے (یعنی دین کی بقاء کی علت امام ہوتا ہے)۔ یہی وجہ ہے ارشاد نبوی ؐ ہے: من مات ولم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ جاہلیۃ؛ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت کے بغیر مرگیا وہ جاہلیت (کفر) کی موت مرا۔([6])

تو اس حدیث نبویؐ سے مستفاد یہ ہے کہ امام زمانہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم ہے (نہ کہ امام کو بنانے کا) چنانچہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: {إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى}([7])بے شک ہدایت کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔

۴۔ ہر دور میں ایک حجت خدا کا ہونا ضروری ہے چونکہ زمین حجت سے خالی نہیں رہ سکتی۔ و فی صلوۃ عیسیٰ خلف رجل من ہذہ الامۃ مع کونہ فی آخر الزمان و قرب قیام الساعۃ دلالۃ للصحیح من الاقوال أن الارض لا تخلو عن قائم للہِ بحجۃٍ۔([8])

۵۔ و دلائل دیگر،ان شئت التفصیل فراجع الی المطولات۔

امامت، اصول دین سے ہے

امامت اصول دین سے ہے شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد آنجناب کے بارہ معصوم جانشین ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں:

۱۔ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام؛۲۔ امام حسن علیہ السلام؛

۳۔امام حسین علیہ السلام؛                        ۴۔ امام علی بن الحسین علیہ السلام؛

۵۔ امام محمد باقر علیہ السلام؛               ۶۔ امام جعفر صادق علیہ السلام؛

۷۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام؛    ۸۔ امام علی رضا علیہ السلام؛

۹۔ امام محمد تقی علیہ السلام؛                       ۱۰۔ امام علی نقی علیہ السلام؛

۱۱۔ امام حسن عسکری علیہ السلام؛   ۱۲؛ امام محمد مہدی علیہ السلام۔

شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح انبیاء خدا کی طرف سے آتے ہیں اسی طرح انبیاء کے اوصیاء بھی اسی کی طرف سے متعین ہوتے ہیں۔ ہم شیعیان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کے خلفاء کے لیے شرائط ہوتی ہیں ہرکوئی حضورؐ کا خلیفہ نہیں بن سکتا۔

خلافت کی شرائط:

۱۔ حضور کے خلیفہ کے لیے عصمت کا ہونا ضروری ہےورنہ اس کی بات پر مکمل اعتماد حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر حضورؐ کا خلیفہ خطاء کار ہو تو پھر اس کے لیے ایک اور راہنما کی ضرورت ہے اور فرض یہ کہ وہ بھی خطاء کار ہو تو پھر اس کے لیے ایک اور امام کی ضرورت ہوگی ۔ و ہکذا یتسلسل و التسلسل باطل، بالاخر ماننا پڑے گا ایک معصوم امام کا ہونا ضروری ہے جو خود خطاء سے محفوظ ہو۔

مقام میں صرف عدالت کافی نہیں ہے چونکہ عادل ہونے کی صورت میں جھوٹ کی نفی تو ہوجاتی ہے یعنی عادل شخص جھوٹ نہیں بولتا لیکن خطاء، اشتباہ، سہو و نسیان کا احتمال عدالت کے باوجود پایا جاتا ہے۔ لہذا خلیفہ اور امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ عصمت پر تفصیلی بحث آیندہ صفحات پر آرہی ہے۔

۲۔ آنجنابؐ کے خلیفہ کی خلافت پرنص قائم ہو، نص کے ذریعہ خلیفہ بنے نہ کہ ووٹوں کے ذریعہ۔

۳۔ آنجناب کے خلیفہ کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے سب لوگوں سے مطلقاً افضل ہو (علم کے حوالے سے عبادت و شجاعت کے حوالے سے و و۔۔۔

(جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ انصاف سے فیصلہ کریں کہ حضورؐ کے خلیفہ کے لیے شرائط ہونی چاہیں یا کہ نہیں؟ کیا ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے کو یونیورسٹی کا پروفیسر لگایا جاسکتا ہے اور اگر کسی طریقہ سے متعین ہو بھی جائے تو وہ طالب علموں کو خاک تعلیم دے گا۔

ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر جو کتاب نازل ہوئی ہے وہ قرآن مجید ہے جس کی فصاحت و بلاغت حیران کن ہے۔ جس میں اشارات بھی ہیں، رموز بھی ہیں، لطائف بھی ہیں، حقائق بھی ہیں جس کا ظاہر ہے اور اس کے کئی بطون ہیں جس میں ہر خشک و تر کا ذکر ہے۔اس کو وہی بتا سکتے ہیں جو راسخون فی العلم ہوں جو وارث قرآن ہوں، جن کے بارے میں حضورؐ نے ارشاد فرمایا: علیٌ مع القرآن و القرآن مع علیٍ([9])؛ علی ؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ؑ کے ساتھ ہے۔ اور یہ حدیث صحیح السند ہے۔

قرآن کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں اور مدعیان خلافت سے کوئی ایسا بھی تھا جس نے بارہ سال میں قرآن کی ایک سورہ بقرہ کو یاد کیا، جب یاد کرلیا تو (بطور خوشی) بچہ شتر کو نحر کیا([10]) اور دوستوں کو کھلایا۔ قارئین انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں کیا یہی خلافت نبوی ہے؟

بارہ برس میں ایک سورہ یاد کرنے والا وارث نبی ہے یا جو گھوڑے کی ایک رکاب میں پاؤں رکھے ابھی دوسرے رکاب میں پاؤں نہ پہنچے پائے بطور اعجاز و کرامت پورے قرآن کی تلاوت کرنے والا([11]) وارث پیغمبر ہے۔ جھگڑے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ قرآن، حدیث، تاریخ کو سامنے رکھیں تعصب سے دور ہوکر اپنی عقل سلیم سے فیصلہ کرلیں مغرض اور متعصب مولویوں کے پیچھے جانے کی کیا ضرورت ہے۔

تاریخ کو دیکھ لیں وہ کون ہے بدن کربلا میں ہے سر نوک نیزہ پر ہے اور قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔ ([12])

حضورؐ کے بعد سب سے زیادہ علم حضرت علی علیہ السلام کے پاس ہے یا کسی اور کے پاس؟ کسی غرض یا مرض کی بناء پر دعویٰ کر دینا کہ حضورؐ کے بعد فلاں افضل ہے پھر فلاں اور کتب میں تحریر کر دینے سے افضلیت ثابت نہیں ہوتی۔ انصاف کے ساتھ دیکھیں کہ حقائق کیا ہیں افضیلت کا معیار علم، عبادت، شجاعت و امثال ذلک ہوتا ہے کیا صحابہ میں سوائے علی بن ابی طالب کے کسی نے سلونی، مجھ سے پوچھو قبل اس کے مجھے مفقود پاؤ کا دعویٰ کیا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ([13])

حضرت علی علیہ السلام فرماتےہیں قرآن کی ہر آیت کے متعلق جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی۔ ([14])

نیز فرماتے ہیں کہ مجھ سے کتاب اللہ (قرآن) کے بارے میں پوچھو میں ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں رات کو نازل ہوئی یا دن کو سہل میں نازل ہوئی یا پہاڑ میں([15])۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں حضور ؐ نے فرمایا: انا مدینۃ العلم و علی بابہا([16])؛ میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اس کا دروازہ ہیں۔ نیز حضورؐ فرماتے ہیں:اعلم امتی بالسنۃ و القضاء بعدی علی بن ابی طالب؛ میرے بعد میری امت میں سنت اور قضا میں اعلم –سب سے زیادہ جاننے والا- علی بن ابی طالب ؑ ہے([17])۔

نیز فرمایا: اعلم امتی بعدی علی بن ابی طالب؛ میری پوری امت میں میرے بعد سب سے زیادہ جاننے والا علی بن ابی طالب ہے۔([18])

نیز ارشاد نبویؐ ہے: من أراد منکم ان ینظر الی آدم فی علمہ و الی نوح فی حکمتہ و الی ابراہیم فی حلمہ فلینظر الی علی بن ابی طالب؛ جو شخص تم میں آدم کے علم کو، نوح کی حکمت کو، ابراہیم کے حلم کو دیکھنا چاہتا ہے وہ علی بن ابی طالب ؑ کو دیکھ لے۔([19])

اہل سنت کے عالم گنجی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو آدم ؑ کے علم کے ساتھ تشبیہ دی ہے چونکہ اللہ نے حضرت آدم ؑ کو ہرچیز کی صفت کا علم دیا تھا { وَعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّهَا} خدا نے سب اسماء کی آدم کو تعلیم دی([20])۔ گنجی فرماتے ہیں پس ہر حادثہ ہر واقعہ کا علم حضرت علی علیہ السلام کے پاس ہے ان کے معانی کے استنباط میں وہ فہم رکھتے ہیں۔

عبد اللہ بن مسعود صحابی فرماتےہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا اور ہر حروف کے لیے ظاہر اور باطن ہے علی بن ابی طالب ؑ کے پاس ظاہر کا علم بھی ہے اور باطن کا علم بھی ہے۔ ([21])

دعوت فکر

جو شخص عقل سلیم رکھتا ہے جس شخص کا ضمیر زندہ ہے۔ جو شخص تعصب سے نفرت کرتا ہے ، جو شخص کچھ انصاف کو دوست رکھتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے دیگر فضائل کے قطع نظر مذکورہ مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کے ساتھ بتائے کہ خلافت نبویؐ کا مستحق علی بن ابی طالب ؑ ہیں یا وہ جس کو قرآن کی صرف دس آیات کا علم ہے یا وہ جو بارہ برس میں ایک سورہ یاد کرتا ہے؟ خلافت کا حق دار وہ ہے جو باب مدینۃ العلم ہے یا وہ جو کہتا ہے: لو لا علی لہلک عمر؛ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا([22])۔ یا وہ ہے جو کہتا ہے مجھے قرآن کی آیت، و فاکھۃ و اَبّاً کے معنی کا علم نہیں ہوا([23])۔ یا وہ ہے جو کہتا ہے مجھ سے تو بوڑھی عورتیں زیادہ احکام جانتی ہیں([24])۔ کیا یہی خلافت الہیہ ہے؟

حضور کا ارشاد ہے :من مات ولم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ جاہلیۃ([25])؛ جو شخص مرگیا اور اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کی وہ جاہلیت (کفر) کی موت مرا۔

قبر میں امام کے متعلق پوچھا جائے گا کہ تیرا امام کون ہے؟ حق کے ساتھ ہوجانا چاہیے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کا ایندھن نہیں بنانا چاہیے۔

سوال: اہل سنت مسئلہ امامت کو اصول دین سے کیوں نہیں مانتے بلکہ اسے فروع دین سے سمجھتے ہیں؟

جواب: چونکہ انکے پاس ثلاثہ کی خلافت پر قرآن و سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے اور ادھر ان کی خلافت کے قائل ہیں، بغیر دلیل کے خلیفہ کو کون مانے لہذا ناچار ہوکر دعوی کردیا کہ ان کی خلافت پر دلیل اجماع ہے۔ اجماع چونکہ ظنی دلیل ہے لہذا دعویٰ کردیا کہ خلافت کا مسئلہ فروع دین کا ہے تاکہ اسے اجماع کے ذریعہ ثابت کریں۔چونکہ اصول دین کا مسئلہ ظنی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا، حالانکہ اجماع کی حجیت پر جو دلیل دی جاتی ہے وہ روایت لا تجتمع امتی علی الخطاء ہے۔ قطع نظر از سند کے اس کی دلالت ان کے مدعی پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ روایت میں امتی کا لفظ ہے جس سے مستفاد یہ ہے کہ پوری امت کسی بات پر متفق ہوجائے تو وہ امر خطاء نہیں ہے حالانکہ سقیفائی خلافت کا بنی ہاشم اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام نے انکار کیا ہے اور دیگر کئی ایک صحابہ جن میں سعد بن عبادہ ہیں نے بھی انکار کیا ہے۔

پیغمبر اسلام ؐکی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام ان پر غضب ناک اس دنیا سے چلی گئی ہیں بلکہ وصیت فرمائی کہ مجھ پر ظلم کرنے والے میرے جنازے میں شریک نہ ہوں یہی وجہ ہے حضرت علی علیہ السلام نے ان کو رات میں دفن کیا۔ پھر امت پیغمبر ؐ میں تو شیعہ بھی ہیں جو ثلاثہ کو خلافت نبوی کا مستحق نہیں سمجھتے تو پھر اجماع کہاں رہا۔)

خلافت اور امامت کے بارے میں امت اسلامی میں دو نظریے پائے جاتے ہیں۔

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ اور امام، منصوص ہوتا ہے یعنی اس کی امامت و خلافت پر پیغمبر اسلام ﷺنے صراحت فرمائی ہو، چونکہ ہمارے نزدیک امامت و خلافت یہ منصب، عہد خدائی ہے۔ و الشاہد علی ذلک

{ وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ}([26])

اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم کا امتحان لیا اورانہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا ہم تم کو لوگوں کا امام بنا رہے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ میری ذریت۔ فرمایا کہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔

اس آیت سے چند چیزوں کا استفادہ ہوتاہے:

  1. 1.لوگوں کے لیے امام خدا بناتا ہے۔ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ؛خدا فرماتا ہے کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا رہا ہوں۔
  2. 2.امامت کوئی آسان عہدہ نہیں ہے اس کے لیے کئی امتحانات دینے پڑھتےہیں وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ ؛اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ حضرت ابراہیم کا امتحان لیا۔
  3. 3.صر ف امتحان دینا کافی نہیں بلکہ امتحان میں کامیابی شرط ہے۔ فَأَتَمَّهُنَّ ؛
  4. 4.امامت، نبوت سے بلند مرتبہ ہے چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے نبی تھے پھر امام بنے اگر نبی نہ ہوتے تو پھر ان پر وحی بعنوان شریعت نازل نہ ہوتی اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد بڑھاپے میں ہوئی{الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ}([27])؛ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے طرح طرح کے امتحانات دیئے ہیں؛ جن میں نمرود کی آگ میں پھینکا جانا، اپنی زوجہ اور بیٹے کو خشک وادی میں چھوڑنا اور ذبح اسماعیل بھی امتحان تھا۔معلوم ہوا کہ وہ پہلے نبی تھے بعد میں امامت ملی ہے اور آیت میں امامت سے مراد نبوت نہیں ہے اگرچہ اہل سنت کے اس بارے میں دو قول ہیں بعض نے نبوت مراد لی ہے اور بعض نے امامت کہا ہے لیکن چونکہ ان کی اولاد بڑھاپے میں ہوئی ہے اور جبرائیل کا ان کے پاس پہلے آنا، ملائکہ کا گفتگو کرنا وغیرہ یہ سب اس کے شواہد ہیں کہ وہ پہلے نبی تھے۔
  5. 5.امامت، عہد الٰہی ہے یعنی یہ منصب الٰہی ہے ، خدا کی طرف سے ملتا ہے جس پر کلمہ عَہدِی میرا عہد دلالت کرر ہاہے۔ خدا نے عہد کو اپنی طرف نسبت دی ہے۔
  6. 6.امام کا انتخاب اگر امت کے ووٹوں سے شرعاً جائز ہوتا توحضرت ابراہیم علیہ السلام خدا سے اپنی ذریت میں امامت کے ہونے کا سوال نہ کرتے۔
  7. 7.امامت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ظالم نہ ہو لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ؛ ظلم کی تعریف یہ ہے وضع الشی الی غیر محلہ؛ جو کسی شی کو اپنے محل کے غیر میں رکھے۔

انسان کبھی اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور کبھی دوسروں پر، کبھی حیوانات پر اور کبھی شرک کے کرنے سے۔ چنانچہ ارشاد رب العزت ہے:{ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}([28])

خلاصہ یہ کہ لوگوں کی چار قسمیں ہیں:

۱۔ پوری زندگی، اول زندگی سے لے کر آخر عمر تک معصیت کرتے ہیں؛

۲۔ کچھ لوگ ابتدائی زندگی میں گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن آخر عمر میں گناہ نہیں کرتے؛

۳۔ کچھ لوگ ابتدائی زندگی میں گناہ نہیں کرتے لیکن آخر عمر میں گناہ کرتے ہیں؛

۴۔ اور کچھ اول زندگی سے لے کر آخری عمر تک گناہ نہیں کرتے۔

قرآن کی نگاہ میں پہلی تین قسموں کے لوگ منصب امامت کو نہیں پاسکتے چونکہ ظالمین کے زمرے میں آتے ہیں۔ خداوند متعال نے حضرت ابراہیم ؑ کو فرمایا کہ میرے عہد (امامت) کو ظالمین نہیں پاسکتے۔ تو معلوم ہوا کہ امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ (مذکورہ چوتھی قسم) سے ہو اور ہر طرح کے گناہ سے محفوظ و مصون ہو۔ پس امام کا از نظر قرآن معصوم ہونا ضروری ہے۔

  1. 8.لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ؛سے مستفاد یہ ہے کہ اگرکوئی ظالم امامت کا دعوی کردے وہ شخص خدا کی طرف سے امام نہیں ہے۔ جو شخص بت پرست رہا ہو وہ شخص بنص قرآن ظالم کا مصداق ہے خواہ توبہ کرلے یا نہ کرے۔ ہاں اگر توبہ کرلے تو اس کے گناہ کی عفو ہوجائے گی لیکن چونکہ ظلم کے مبدا کے ساتھ متلبس رہا ہے لہذا یہ منصب امامت اباء رکھتا ہے کہ ایسا شخص امام ہو یعنی امام وہ ہوتا ہے جس نے کبھی بھی ظلم نہ کیا ہو۔ فافہم جیداً فانہ دقیق و مزل الاقدام۔

خلاصہ یہ کہ شیعہ کے نزدیک امامت منصب الٰہی ہے جس طرح کسی شخص کو ووٹوں یا شوریٰ کے ذریعہ نبی نہیں بنایا جاسکتا اسی طرح کسی کو ووٹوں یا شوریٰ کے ذریعہ امام برحق بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ امام کو خدا متعین کرتا ہے اور رسول اس کا اعلان کرتا ہے یا وہ امام جس کی امامت نص کے ساتھ ثابت ہو وہ دوسرے امام کی معرفی کرے دونوں طریقوں سے ہمارے ائمہ کی امامت ثابت ہے رسول خدا ﷺ کے بارہ معصوم جانشین ہیں جن میں پہلے علی ؑ اور آخری حضرت مہدی ؑ ہیں۔ لیکن اہل سنت کا نظریہ یہ ہے حضورؐ نے اپنے بعد اپنی امت کی ہدایت و راہنمائی کے لیے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا بلکہ یہ کام خود امت پر چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ حضور ؐ مختصر سفر پر بھی جاتے تو امور کی ادائیگی کے لیے کسی کو متعین کرکے جاتے تھے۔ یہ کیسے باور کیا جائے کہ حضورؐ ہمیشہ کے لیے سفر آخرت پر جا رہے ہیں اور امت کو کسی کے حوالے نہیں کرگئے حالانکہ چوپان بھی اگر صحرا سے تھوڑے وقت کے لیے بھی شہر یا دیہات آنا چاہے تو اپنی بھیڑ بکریوں کو وہاں کسی کے سپرد کرکے آتا ہے کیا پیغمبر اسلام ﷺ نے نعوذ باللہ اپنی امت کو بھیڑ بکریوں سے بھی پست سمجھا؟

حالانکہ شیطان گمراہ کرنے والا موجود ہے مدینہ منافقین سے بھر پڑا تھا (الفارق شبلی نعمانی) اسلام کو خارجی دشمنان کا خطرہ بھی تھا عربوں میں قبائلی نظام تھا۔ حضورؐ کی رحلت کے بعد کئی قبائل مرتد ہوگئے تھے اور خلافت کا مسئلہ حساس مسئلہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضورؐ نے کسی کو اپنا جانشین نہ بنایا ہو۔

اہل سنت کے ہاں امامت کا طریق کار

  1. 1.اہل حل و عقد ، علماء رؤسا، معزز طبقہ لوگوں کی بیعت سے امام منتخب ہوسکتا ہے۔ اس میں بیعت کرنے والوں کی عدد کی بھی کوئی شرط نہیں ہے اور دوسرے شہروں کا اتفاق بھی ضروری نہیں ہے بلکہ اہل حل و عقد کے ایک مطاع شخص کی بیعت بھی کافی ہے۔
  2. 2.شوری کے ذریعہ امام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔
  3. 3.اہل سنت کے نزدیک قہر و غلبہ کے ذریعہ بھی امامت ثابت ہوتی ہے۔ و کذا اذا کان فاسقا او جاہلاً علی الاظہر۔

بنا بر اظہر فاسق و فاجر اور جاہل شخص بھی (امت کا) امام ہوسکتاہے([29])۔ یہ ہے اہل سنت کا عقیدہ امامت۔

تذکر: مخفی نہ رہے کہ حضور کا کام صرف وحی کو پانا اور تبلیغ کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ درج ذیل کام بھی انجام دیتے تھے۔

  1. 1.قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن کے مقاصد کی تشریح اورر اس کے اسرار کو کشف کرتے تھے { وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ}([30])اور آپ کی طرف ہم نے جو ذکر کو (قرآن) کو نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کے لیے ان احکام کو واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔
  2. 2.حضورؐ کے زمانے میں جو موضوعات حادث ہوتے تھے ان کے احکام بیان فرماتے تھے۔
  3. 3.یہود و نصاری کے مشکل سوالات اور شبہات کے جواب دیتے تھے۔
  4. 4.اصول و فروع میں دین کی حفاظت فرماتے تھے تاکہ مسلمانوں کے قدم لغزش نہ کریں اور لوگوں کی اسلامی تربیت فرماتے تھے۔
  5. 5.شریعت کو نافذ فرماتے تھے اور حدود الٰہی کو جاری کرتے تھے۔
  6. 6.اسلامی معاشرے میں عدل و انصاف کو برقرار رکھتے تھے اور دشمنان اسلام کے مقابلے میں دفاعی اقدامات فرماتے تھے۔

تو یہاں پر تین طرح کے احتمال پائے جاتے ہیں:

۱۔ حضورؐ نے اپنے بعد اپنی امت کی راہنمائی اور آنے والے مسائل اور دین کی حفاظت کے لیے کوئی بندوبست نہیں فرمایا۔یہ احتمال ساقط ہے کیونکہ ان چیزوں کے ترک میں شریعت اور دین ضائع ہوجاتا ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ امت اس حد تک ترقی اور کمال کوپہنچ گئی تھی کہ ان امور کے انجام پر قادر تھی حالانکہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ یہ احتمال بھی باطل ہے کیونکہ حضورؐ کی رحلت کے بعد کئی قبائل مرتد ہوگئے تھے اور دستگاہ سقیفہ کا علمی مشکلات میں گِھر کر بار بار اعتراف کرنا لولا علی لہلک عمر؛ مذکورہ احتمال کے بطلان پر واضح شاہد ہے۔

تیسر احتمال یہ ہے کہ حضورؐ نے کسی مثالی شخصیت کو اپنا قائم مقام بنایا ہو یہ احتمال اقرب الی الصواب بلکہ متعین ہے۔ کیونکہ ایک طرف مدینہ منافقین سے بھرا پڑا تھا اور دوسری طرف بیرونی دشمنان اسلام کا خطرہ تھا اور ادھر تازہ مسلمانوں کے برگشت کا خوف بھی تھا اور آنجنابؐ کی روش یہ تھی کہ جب بھی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے غیاب میں امور، کسی نہ کسی کے حوالے کرکے جاتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضورؐ نے اپنی رحلت کے بعد اپنی امت کی ہدایت اور اسلام کی حفاظت کے لیے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہ فرمایا ہو۔

حق کے طالب اور منصف مزاج کے لیے مذکورہ مطالب پر فیصلہ کرنا بہت آسان ہے متعصب اور ہٹ دھرم بیسیوں دلائل سے بھی قانع نہیں ہوتا۔

اہل سنت کے ہاں امامت کی شان

ملخص یہ کہ اہل سنت کے نزدیک امام اگر فسق و فجور بھی کرے لوگوں پر ظلم کرے اور ان کا مال غصب بھی کرلے ،قتل و غارت اور حقوق کو پائمال،حدود کو معطل بھی کردے تو اس پر خروج واجب نہیں ہے بلکہ اس امام کو وعظ و نصیحت کرنا واجب ہے اور اس کو ڈرانا ضروری ہے تاکہ وہ معصیت انجام نہ دے۔([31])

انصاف: تعصب و ہٹ دھرمی سے دور ہوکر عقل سلیم کے ساتھ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ شیعہ کا عقیدہ امامت صحیح ہے یا غیر شیعہ کا؟ اپنی عقل سے صحیح فیصلہ کرلیں چونکہ قبر میں امام کے متعلق پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے تیرا نبی کون ہے اور تیرا امام کون ہے؟

اب آپ کی مرضی کہ شیعہ کے عقیدہ کے مطابق منصوص، معصوم، افضل کو مان کر دنیا وآخرت کی سعادت پر فائز ہوجائیں یا ظالمین کو مان کر اپنی آخرت تباہ کرلیں۔ امامت کا مقصد لوگوں کی راہنمائی و ہدایت ہے اور اگر امام خود معصیت کار([32]) ہو اور لوگوں پر واجب ہو کہ وہ امام صاحب کو نصیحت کریں تو پھر امامت کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے۔

حالانکہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ }([33])

ایمان والوں اللہ کی اطاعت کرو ، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امرکی اطاعت کرو، یہاں تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے خدا، رسول اور اولی الامر ، اولی الامر سے مراد بارہ معصوم امام ہیں جن میں پہلے حضرت علی ؑ اور آخری حضرت مہدی ؑ ہیں جن کی امامت کا اعتقاد ہم شیعہ رکھتے ہیں مروی ہے کہ حضرت جابر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہؐ اولی الامر کون ہیں جن کی اطاعت ہم پرواجب ہے۔ تو حضور نے بارہ اماموں کے نام گرامی بیان فرمائے کہ یہ اولی الامر ہیں۔ جن میں پہلے حضرت علی ؑ اور آخری حضرت مہدی ؑ ہیں۔ آیت اطاعت کے بارے میں تفصیل، دلائل خلافت میں آئے گی، فانتظر۔

تو آیت مجیدہ میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے جس طرح رسول کی اطاعت مطلقاٍ ًواجب ہے اسی طرح اولی الامر کی اطاعت بھی مطلقاً واجب ہے۔ چونکہ آیت میں کسی قید و شرط کا ذکر نہیں آیا معلوم ہوا کہ قرآن کی نگاہ میں اولی الامر بھی رسول کی طرح معصوم ہوتا ہے۔ چونکہ اگر وہ معصیت کار اور خطاء کار ہو تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ معصیت اور خطاء میں بھی اس کی اطاعت کی جائے حالانکہ خدا معصیت سے روکتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اولی الامر معصوم ہوتا ہے۔

شرائط امامت وخلافت

امامت و خلافت کے لیے شرائط ہیں ہر شخص نبیؐ کا خلیفہ اور امت کا امام نہیں بن سکتا اَن پڑھ شخص کو تو کوئی سکول ٹیچر لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتا پرائمری اسکول کے ٹیچر کے لیے بھی شرائط ہوتی ہیں کہ پڑھا لکھا ہو، صلاحیت رکھتا ہو، شریعت میں پیش نماز (امام جماعت) کے لیے بھی شرائط ہیں ہر شخص پیش نماز نہیں ہوسکتا ، پیش نماز کی قرائت صحیح ہو، عادل ہو، حلال زادہ ہو اور دیگر شرائط بھی رکھتا ہو۔ یہ کیسے مانا جائے کہ پیش نماز اور اسکول ٹیچر کے لیے تو شرائط ہوں اور نبیوں کے سردار کے جانشین کے لیے کوئی شرط نہ ہو؟ یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ پوری امت کے امام کے لیے کسی وصف کی ضرورت نہ ہو جو بھی امامت کا عویٰ کردے وہی امام ہوجائے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے خلافت وامامت یہ ایک بلند منصب الٰہی ہے ہر ایک اس کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ خلیفہ اور امام کے لیے عقلاً اور شرعاً شرائط ہیں۔ جن میں ایک شرط یہ ہے کہ وہ عصمت رکھتا ہو یعنی معصوم ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی خلافت و امامت پر خدا کی طرف سے نص ہو اور رسول خداؐ نے اسے متعین فرمایا ہو۔

تیسری شرط یہ ہے وہ لوگوں میں رسول خداؐ کے بعد سب سے أعلم ہو،

چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ رسول خداؐ کے بعد سب لوگوں سے مطلقاً افضل ہو، (عبادت،شجاعت اور دیگر اوصاف کے حوالےسے)

پانچویں شرط یہ کہ وہ ہاشمی ہو (جو کہ قریش کا ایک قبیلہ ہے) جیسا کہ حضورؐ نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے بارے میں فرمایا : کلہم بنی ہاشم۔([34])

عصمت

عصمت کا لغت میں معنی، منع ہے([35]) عصمہ یعصمہ عصماً: منعہ وقاہ

المنجد میں ہے العصمۃ: بچاؤ، گناہوں سے بچنے کا ملکہ۔

تاج العروس، ج۸، ص ۳۹۹ پر ہے: العصمۃ بالکسر:المنع

مناوی نے کہا ہے العصمۃ ملکۃ اجتناب المعاصی مع التمکن منہا، گناہوں پر ارتکاب کی قدرت رکھنے کے باوجود، ان سے بچنے کے ملکہ کا نام عصمت ہے۔

عصمت کی اصطلاحی تعریف

عصمت ربانی قوت کا نام ہے جو کہ سب خطاؤں اور لغزشوں پر ان کے ارتکاب کی قدرت رکھنے کے باوجود سب حالات میں مانع ہوتی ہے۔

نبی اور امام اپنی پوری زندگی میں سب گناہوں کی نسبت خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے مبرّا اور مصون ہوتے ہیں نیز سہو و نسیان و شک، جہل و شبہات اور صفات رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے پاک ہوتے ہیں خلاصہ یہ کہ امام، نبی کی طرح مطلقاٍ معصوم ہوتا ہے۔ اور اہل سنت کے نزدیک امام کے لیے عصمت شرط نہیں ہے بلکہ امام سے فسق وفجور بھی صادر ہوجائے تو پھر بھی وہ امام رہتا ہے اور اس کو امامت سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔

عصمت کے دلائل

۱۔ اگر امام معصوم نہ ہو تو نقص غرض لازم آتی ہے چونکہ جوفوائد ان کے وجود پر مترتب ہوتے ہیں وہ پھر متحقق نہیں ہوں گے اور جو غرض اور مقصود امام کے نصب کی تھی وہ پھر حاصل نہیں ہوگی۔ نقض غرض یعنی مقصود کا حاصل نہ ہونا خدا پر محال ہے چونکہ یہ چیز جہالت اور عجز کو مستلزم ہے اور واجب الوجود کی ذات ان چیزوں سے مبرّا ہے۔ پس امام کامعصوم ہونا ضروری ہے چونکہ وہ حافظ شریعت ، ہادی اور شریعت کو نافذ کرنے والا ہوتا ہے۔

۲۔ اگر امام جائز الخطا ہو تو امام کے وجود پر فوائد منتفی ہوجائیں گے اور وہ خود ایک اور امام کی طرف محتاج ہوجائے گا اگر وہ (تیسرا شخص) خود معصوم ہو تو فثبت المطلوب؛ مطلوب ثابت ہوجائے گا وگرنہ وہ خود ایک امام کا محتاج ہوگا وہکذا یتسلسل؛ تو اس طرح تسلسل لازم آتا ہے جو کہ محال ہے۔ پس امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

اشکال:کیا عدالت کافی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ انصاف دلوائے اور شریعت کی حفاظت کرے۔

جواب: امام کے لیے صرف عدالت کافی نہیں ہے بلکہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے چونکہ جن وجوہ کی بناء پر نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے صرف عدالت ان کے لیے کافی نہیں ہے انہی وجوہ کی بناء پر امام کا بھی معصوم ہونا ضروری ہے چونکہ امام حافظ شریعت ہوتا ہے بقاء شریعت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امام بھی معصوم ہو ۔

۳۔ امامت کی تعریف سنی و شیعہ نے جو کی ہے وہ اس بات پر متفق ہیں کہ امام کی اتباع پوری امت پر واجب ہے([36]) تو اس بناء پر اگر امام جائز الخطاء و العصیان ہو تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ امت بھی گناہ میں مبتلاء ہوجائے گی حالانکہ محرمات سے اجتناب اور واجبات کو ادا کرنا دونوں فریقوں کے نزدیک مسلمات سے ہے۔ پس امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

۴۔ امام اگر عصیان کرے تو امام کو امربالمعروف اورنہی عن المنکر کی وجہ سے انکار کرنا امت پر واجب ہوجائے گا اور اس چیز سے نصب امام ، اطاعت امام اور تعظیم امام کی غرض مطلقاًٍ ختم ہوجائے گی چونکہ اولی الامر (امام) کی اطاعت ہر حالت میں واجب ہے چنانچہ خداوند متعال فرماتا ہے: { أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ }([37]) اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو، اس آیت میں کسی قید و شرط کا ذکر نہیں آیا پس ہر حالت میں اطاعت واجب ہے۔

۵۔ اگر امام سے معصیب صادر ہوجائے تو وہ لوگوں کی نظروں سے گر جائے گا اور لوگ اس کی پھر اطاعت نہیں کریں پس نصب امام کا فائدہ منتفی ہوجائے گا۔ پس امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

۶۔ اگر امام لغزش سے محفوظ نہ ہو تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ احکام الٰہی میں خدا کی طرف سے اجتماع ضدین ہو چونکہ امام کا حکم ماننا واجب ہے کیونکہ اس کی اطاعت واجب ہے فرض یہ ہے کہ وہ معصوم نہیں ہے جائز الخطاء و العصیان ہے تو صدور معصیت کی حالت میں لازم آئے گا کہ ایک ہی چیز واجب بھی ہو اور حرام بھی ہو۔یہ اجتماع ضدین ہوجائے گا۔ پس امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

۷۔ امام اگر جائز الخطا والذنب ہو تو لازم یہ آئے گا کہ وہ حزب شیطان میں داخل ہوجائے لانہم فعلوا ما اراد الشیطان و حزب الشیطان ہم الخاسرون۔

حالانکہ دلائل عقلیہ اور شرعیہ سے ثابت ہے کہ امام اور خلیفہ حزب اللہ ، اللہ کے گروہ سے ہیں جو کہ کامیاب ہیں۔

۸۔ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:

{ وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ}([38])

اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراہیم کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام بنا رہے ہیں انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ فرمایا کہ یہ میرا عہدہ (امامت) ظالمین نہیں پاسکتے۔

ظلم کی تعریف: وضع الشئی فی غیر موضعہ؛ کسی چیز کو اس کے مقام پر نہ رکھنے کا نام ظلم ہے۔

قرآن کی نگاہ میں ظلم

۱۔بندے کا ظلم، خدا کی نسبت:{ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}([39]) بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

۲۔{فَمَنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}([40]) اس کے بعد جو بھی خدا پر بہتان رکھے گا اس کا شمار ظالمین میں ہوگا۔ پس خدا پر افتراء باندھنا یہ بھی ظلم ہے اور ایسا کرنے والا ظالم ہے۔

۳۔ انسان کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا:{ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}([41]) الزام ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں پھیلاتےہیں انہی لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۴۔ انسان کا اپنے نفس پر ظلم کرنا:{ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ}([42]) ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔

{ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ}([43]) اور ان کی اولاد میں بعض نیک کردار اور بعض کھلم کھلا اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔

{ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ }([44]) اور جو خدا کی حدود سے تجاوز کرے گا اس نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا ہے۔

{ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}([45]) اور جو حدود الٰہی سے تجاوز کرے گا وہ ظالمین میں شمار ہوگا۔

انسان چار حال سے خارج نہیں ہے۔

  1. 1.ابتدائے زندگی سے لے کر آخر عمر تک معصیب میں مبتلاء ہو؛
  2. 2.اوّل عمر میں گناہ کرےاور آخر عمر میں نہ کرے؛
  3. 3.ابتدائے زندگی میں گناہ نہ کیا ہو لیکن آخر عمر میں گناہوں میں مشغول ہوجائے۔
  4. 4.ابتداء زندگی سے لے کر (یعنی بچپن سے لے کر) آخر زندگی (موت تک) گناہ میں مبتلاء نہ ہوا ہو۔

پہلی تین قسم کے لوگوں پر قرآن کی اصطلاح میں ان پر ظلم کا اطلاق ہوتا ہے اور ظالم بفرمان خداوند لاینال عہدی الظالمین، امام نہیں ہوسکتا۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

نوٹ: مخفی نہ رہے کہ آیت : انی جاعلک للناس اماما ، میں امامت سے مراد نبوت نہیں ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے منصب نبوت پر فائز تھے جب امتحانات کو پورا کر دکھایا۔ حضرت ہاجرہ اور اپنے فرزند اسماعیل ؑ کو مکہ میں کعبہ کے پاس خشک جنگل بیابان میں تنہا چھوڑنا یہ بڑا متحان ہے پھر حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کی خاطر ان کی گردن پر چھری چلانا یہ بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس طرح کے سب امتحانات کی کامیابی پر عہد امامت مل رہا ہے۔ جب نبوت کے لیے عصمت شرط ہے تو امامت جو کہ نبوت سے بلند مرتبہ ہے اس کے لیے بطریق اولیٰ عصمت شرط ہے۔

چنانچہ لا ینال عہدی الظالمین، سے امامت کے لیے عصمت کا استفادہ ہوتا ہے۔

بر فرض اگر امامت کا رتبہ، نبوت سے کم بھی ہو تو تب بھی اس آیت سے عصمت کا استفادہ ہوتا ہے جب امامت کے لیے عصمت شرط ہے تو نبوت جو کہ اس سے بلند مرتبہ ہے (بقول خصم کے) تو اس کے لیے بطریق اولیٰ عصمت شرط ہے حالانکہ امامت، کا رتبہ نبوت سے بلند ہے کما لا یخفی، نتیجہ یہ کہ بہرحال امامت کے لیے عصمت، شرط ہے۔

نوٹ: جو شخص شرک میں مبتلا رہا ہو خواہ بعد میں اسلام بھی لائے اس کے باوجود وہ منصب امامت پر فائز نہیں ہوسکتا چونکہ جو متلبس بہ شرک رہا ہو وہ قرآن کی نگاہ میں ظالم ہے اور یہ منصب اباء (انکار) رکھتا ہے کہ ظالم اس پر فائز ہو۔ فافہم جیداً۔

۹۔ اہل بیت کی عصمت پر قرآن گواہی دے رہا ہے۔

{ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}([46])

بس اللہ کا ارادہ ہے کہ اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

مفسرین شیعہ و سنی نے لکھا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اسلامؐ کے اہل بیت حضرت علی، حضرت فاطمہ ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہوئی۔ جبکہ رسول خداؐ نے ان کو اپنی چادر کے نیچے بٹھایا تھا۔ اور فرمایا : اللہم ہولاء اہل بیتی؛ خدایا یہی میرے اہل بیت ہیں۔ ([47])

ابن مردویہ سے منقول ہے کہ ایک سوسے زیادہ طرق سے منقول ہے کہ یہ آیت تطہیر حضرت محمدؐ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے([48])۔ ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ آیت تطہیر پانچ ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ قال رسول اللہؐ نزلت ہذہ الایۃ فی خمسہ فیّ و فی علی و حسن و حسین و فاطمہ۔ کما فی تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۱۴۸۲۔ چنانچہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں آیت تطہیر کے نزول کے بارے میں متعدد روایات کو ذکر کیا ہے۔

نوٹ:یہ آیت ازواج نبیؐ کے بارے میں نہیں ہے اس کی پہلی دلیل یہ کہ چونکہ آیت میں ضمائر مذکر کی ہیں۔ آیت تطہیر سے قبل اور بعد جہاں ازواج کا ذکر ہے وہ صیغے اور ضمائر مؤنث کے ہیں۔

دوسری دلیل یہ کہ آیت کے نزول کے وقت حضرت ام سلمہؓ نے چادر کے نیچے آنے کی خواہش کی تو حضورؐ نے فرمایا: اپنی جگہ پر ٹھہری رہو تم خیر پر ہو([49])۔ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ام سلمہ نے چادر کو اٹھایا تاکہ نیچے داخل ہوں تو رسول خدا نے چادر کو ان کے ہاتھ سے کھینچ لیا اور فرمایا تو ازواج سے ہے([50])۔ اور بعض روایات میں ہے حضرت ام سلمہؓ گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اور عرض کیا :یا رسول اللہ ألست من أل البیت؟ کیا میں اہل بیت سے نہیں ہوں؟ تو آپؐ نے فرمایا: انک الی الخیر انت من ازواج النبیؐ؛ تو خیر پر ہے تو ازواج نبیؐ سے ہے حضرت ام سلمہ ؓ کا کہنا ہے کہ گھر میں رسول خداؐ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام تھے([51])۔

تیسری دلیل یہ کہ اگر یہ آیت ازواج کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور حضرات علی و فاطمہ ، حسن و حسین علیہم السلام کو بھی اہل بیت میں قرار دیا تھا تو فرمانا چاہیے تھا کہ اَللَّھُمَّ ہَؤُلَاءِ مِنۡ اَہۡلِ بَیۡتِی؛ خدایا یہ میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ حالانکہ حضورؐ نے فرمایا: اللہم ہولاء اہل بیتی؛ خدایا یہی میرے اہل بیت ہیں تو معلوم ہوا کہ ازواج، اہل بیت شرف میں شامل نہیں ہیں۔

چوتھی دلیل یہ کہ ازواج کی عصمت کی نفی خود قرآن کر رہا ہے چنانچہ سورہ تحریم کی آیت میں ہے{ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما} تم دونوں کے دل کج (ٹیڑھے) ہوچکے ہیں([52])۔ اور یہ خطاب عائشہ اور حفصہ کے لیے ہے۔ جس کی خود علماء اہل سنت نے تصریح کی ہے۔

نیز اہل سنت کی روایات میں ہے کہ بی بی عائشہ کہتی ہیں میں نے رسول خداؐ کو دیکھا کہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کو بلایا اور اُن پر کپڑا (چادر) ڈالی تو میں ان کے نزدیک ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ و أنا من أہل بیتک؟ کیا میں آپؐ کے اہل بیت سے ہوں تو حضور ؐ نے فرمایا: تَنَحّیِ الخ؛ تو دور ہوجا([53])۔

جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام نے اتمام حجت کے لیے عائشہ کو خط لکھ کر بھیجا کہ تو اپنے گھر سے خدا اور رسولؐ کی معصیت کرکے نکلی ہے عورتوں کا میدان جنگ میں لشکر کشی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اللہ سے ڈر اور اپنے گھر لوٹ جا اور اپنے پردے کا خیال کر۔

وَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكِ خَرَجْتِ مِنْ بَيْتِكِ عَاصِيَةً لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ مُحَمَّد الخ ۔۔۔ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عَائِشَةُ وَ ارْجِعِي إِلَى مَنْزِلِكِ وَ أَسْبِلِي عَلَيْكِ سِتْرَكِ و السلام۔([54])

امیر المومنین علی علیہ السلام کی اس نصیحت کے باوجود گھر واپس نہ پلٹی اور امام برحق کے مقابلے میں جنگ میں حاضر رہی، اگر یہ معصومہ ہوتی تو ہرگز جنگ کے لیے اپنے گھر سے نہ نکلتی اور پھر جنگ کے بعد اپنی خطاء پر گریہ نہ کرتی۔ چنانچہ وہ جب بھی جنگ جمل کو یاد کرتی تھی تو گریہ کرتی تھی یہاں تک کہ اس کا دوپٹہ تر ہوجاتا تھا اور کہتی تھی اے کاش کہ نسیا منسیا ہوتی۔([55])

مخفی نہ رہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر اس بی بی نے سجدہ شکر کیا تھا۔([56])

تذکر: شوریٰ کے دن کمیٹی میں امیر المومنین علی علیہ السلام نے آیت تطہیر سے بھی اپنے مستحق خلافت ہونے کےبارے میں استدلال فرمایا تھا کہ میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ہے جس کی شان میں آیت تطہیر اتری ہو تو انہوں نے کہا: نہیں۔([57])

ذرا اپنے عقل سے کام ہو کہ معصوم کے ہوتے ہوئے غیر معصوم کیسے مقدم ہوسکتا ہے؟

پانچویں دلیل کہ جب سورہ طہ کی آیت نمبر ۳۲{ وأمر أہلک بالصلوۃ و اصطبر علیہا}نازل ہوئی تو رسول خدا آٹھ مہینے حضرت علی ؑ کے دروازے پر آکر آیت تطہیر کی تلاوت کرتے رہے اور فرماتے رہے: الصلوۃ رحکما اللہ([58])۔ اور بعض روایات میں: الصلوۃ رحمکم اللہ ؛ کے الفاظ ہیں۔

نوٹ: أنس صحابی کی روایت کو ابن أبی شیبہ، احمد، ترمذی، ابن جریر اور حاکم نیشاپوری اور طبرانی نے نقل کیا ہے جس کو ہمارے رسالہ تحقیق در تفسیر آیہ تطہیر میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

نوٹ: بعض روایات میں چھ ماہ بعض میں سات ماہ اور بعض میں نو ماہ کا ذکر ہے([59]) اور بعض میں اس سے زیادہ کا بھی ذکر ہے۔ تو ان روایات میں کوئی منافات نہیں ہے ممکن ہے کسی راوی نے چھ یا سات ماہ سنا ہو تو اس نے چھ ماہ کا ذکر کردیا اور کسی نے آٹھ ماہ سنا ہو تو اس نے آٹھ ماہ ذکر کردیا اور کسی نے زیادہ مدت سنا تھا تو اس سے زیادہ مدت ذکر کردی۔ چنانچہ ابن مردویہ کی روایت میں ہے حضورؐ نو ماہ ہر نماز کے وقت علی علیہ السلام کے دروازے پر دن میں پانچ مرتبہ تشریف لاتے اور فرماتے: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ أہل البیت ؛ پھر آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے : الصلوۃ رحمکم اللہ۔

اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کے دروازے پر فرماتے تھے: السلام علیکم أہل البیت و رحمۃ اللہ و برکاتہ الصلوۃ رحمکم اللہ، انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطھر کم تطہیرا۔([60])

مخفی نہ رہے حضرت فاطمہ علیہا السلام کا دروازہ،حضرت علی علیہ السلام کا ہی دروازہ ہے اور بعض روایات میں دونوں حضرت علی و حضرت فاطمہ علیہما السلام کے نام کا ذکر آیا ہے۔([61])

اور بعض روایات میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ آپؐ جناب سیدہ فاطمہ علیہا السلام کے دروازے پر آیت تطہیر کی تلاوت کے بعد فرماتے تھے: انا حرب لمن حاربھم أنا سلم لمن سالمہم؛ جن سے تمہاری جنگ ہوگی ان سے میری جنگ ہوگی اور جن سے تمہاری صلح ہوگی ان سے میری صلح ہوگی۔([62])

تذکر: اہل سنت کی بعض روایات میں ، ائمہ طاہرین علیہم السلام بارہ اماموں کا ذکر بھی آیت تطہیر کے شان نزول میں آیا ہے رسول خداؐ نے حضرت ام سلمہ کو فرمایا یہ آیت میرے بارے میں اور (میری بیٹی) اور میرے بھائی علی بن ابی طالب اور میرےدو بیٹوں (حسن اور حسین علیہا السلام) اور حسین علیہ السلام کی اولاد سے نو (اماموں) کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ آیت ہمارے بارے میں خاص ہے اس میں ہمارے علاوہ اور کوئی شریک نہیں ہے۔([63])

حافظ ابن عقدہ کوفی کی کتاب میں ایک طولانی روایت میں بھی یہی فرمان رسالت منقول ہے جس میں حضرت علی ؑ نے ابو درداء اور ابو ہریرہ اور دیگر ہمراہ لوگوں کو خطاب کرکے فرمایا: اےلوگو کیا جانتے ہو کہ خداوند متعال نے اپنی کتاب میں آیت { إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} کو نازل فرمایا، پس رسول خداؐ نے مجھے، فاطمہ، حسن اور حسین کو چادر کے نیچے جمع کیا پھر فرمایا خدایا یہی میرے محبوب ، میری عترت ، میرے ثقل، میرے خاص اور میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کوپاک رکھ جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے تو ام سلمہ نے عرض کیا ، کیا میں بھی ان میں ہوں؟ تو ان کو فرمایا تو نیکی پر ہے۔ بتحقیق یہ آیت میرے بارے میں اور میرے بھائی علی اور میری بیٹی فاطمہ اور میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین اور حسین ؑ کی نسل سے نو اماموں کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی ہے اس فضیلت میں ہمارے علاوہ کوئی بھی ہمارے ساتھ شریک نہیں ہے۔

ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ صلوات اللہ علیہ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ مَنْ حَوْلَهُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ { إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً} فَجَمَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ‏ (ص) وَ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ فِي كِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ "اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَحِبَّتِي‏ وَ عِتْرَتِي وَ ثِقلی وَ خَاصَّتِی وَ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيراً " فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَ أَنَا فَقَالَ لَہَا أنۡتِ إِلَى خَيْرٍ ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِيَّ وَ فِي أَخِي عَلِيٍّ وَ فِی ابْنَتِي فَاطِمَةَ وَ فِی ابْنَيَّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ فِي تِسْعَةٍ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْن‏ خَاصَّۃ لَیۡسَ فِیہَا مَعَنَا أَحَد غَیرنا۔([64])

نیز رسول خداؐ نے اپنے آخری وقت بھی اہل بیت کون ہیں کی تشریح میں بارہ اماموں کا ذکر فرمایا جو کہ زمین پر خدا کے گواہ اور اس کی مخلوق پر حجت ہیں من اطاعہم اطاع اللہ، جس نے ان بارہ کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی و من عصاہم عصی اللہ، جس نے ان بارہ کی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔([65])

پس ان بارہ اماموں کی عصمت بنص حدیث ثقلین سے ثابت ہے چونکہ رسول خداؐ نے اپنی امت کے لیے دو چیزوں کو چھوڑا ہے قرآن اور اپنی اہل بیت۔ اور امت کو ان دونوں کے ساتھ تمسک کرنے کا حکم دیا ہے چونکہ اس صورت میں پھر امت کی گمراہی کا خوف نہیں ہے۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک حضورؐ کے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں تو اس حدیث سے ثابت ہے کہ جس طرح قرآن بے عیب ہے اسی طرح اہل بیت بھی بے عیب اور گناہوں سے پاک اور معصوم ہیں۔ قرآن قیامت تک کے لیے ہے تو ہر زمانہ میں اہل بیت علیہم السلام کا کوئی نہ کوئی فرد قرآن کے ہمراہ، امت کے لیے امام اور ہادی موجود ہے۔

دلیل دہم: پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا: خمسۃ منّا معصومون أنا و علی و فاطمہ و الحسن و الحسین؛ ہم میں پانچ معصوم ہیں ، میں، علی، فاطمہ ، حسن اور حسین (علیہم السلام) ([66])

نیز حضورؐ نے فرمایا: فانا و اہل بیتی مطہرون من الذنوب؛ میں اور میرے اہل بیت گناہوں سے پاک ہیں۔([67])

اہل سنت کے محدث کبیر جوینی نے اپنی اسناد کے ساتھ عبد اللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول خداؐ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا میں اور علی ؑ، حسن، حسین اور حسین کی اولاد سے نو (امام) پاکیزہ اور معصوم ہیں۔

عَنِ عبد اللہِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ص) يَقُولُ أَنَا وَ عَلِيٌّ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ وَ تِسْعَةٌ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ مُطَهَّرُونَ مَعْصُومُونَ([68])

نوٹ:عصمت پر عقلی اور نقلی (یعنی آیات و روایات) کے حوالے سے بہت دلائل ہیں لیکن منصف مزاج کے لیے اسی میں کفایت پائی جاتی ہے۔ ([69])

افضلیت،اعلمیت اور عظمت امیر المومنین علی علیہ السلام کے بارے میں فرمان رسالت اورر اعترافات صحابہ اور بزرگان۔

رسول خداؐ نے فرمایا: جو روئے زمین پر چل رہا ہے ان سب میں میرے بعد علی بن ابی طالب ؑ اچھے اور افضل ہیں۔

عن حبشی بن جنادۃ قال رسولاللہ(ص) خیر من یمشی علی الارض بعدی علی بن ابی طالب۔([70])

نیز رسول خدا ﷺ نے سلمان (فارسی) کو مخاطب کرکے فرمایا: آج میں تمہیں گواہ کرکے کہتا ہو ان سب میں علی بن ابی طالب اچھے اور افضل ہیں۔

أشہدک الیوم علی بن ابی طالب خیرہم و أفضلہم۔([71])

نیز رسول خدا ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا: أنت خیر أمتی فی الدنیا و الاخرۃ۔(اے علیؑ) تو دنیا و آخرت میں میری امت میں سب سے اچھا (افضل) ہے۔([72])

حسن بن أبی الحسن بصری سے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ اس امت کے ربانی، صاحب فضیلت، صاحب سابقت اور رسول خداؐ سے قرابت رکھنے والے تھے۔([73])

حذیفہ سے حضرت علی ؑ کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے بہتر و افضل ہیں اور اس میں سوائے منافق کے کوئی شک نہیں کرتا۔

سئل حذیفہ عن علیؑ فقال خیر ہذہ الامہ بعد نبیہا ولا یشک فیہ الّا منافق۔([74])

حضرت جابر بن عبد اللہ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ خیر البشر تھے۔([75])

عبد اللہ نے کہا:أعلم أہل المدینۃ بالفرائض علی بن ابی طالب؛ مدینہ والوں میں فرائض کی نسبت سب سے أعلم (سب سے زیادہ جاننے والے) علی بن ابی طالب ہیں۔([76])

نوٹ: مدینہ کا نام اس لیے آیا ہے کہ اس وقت مدینہ اسلام کا مرکز تھا۔ نیز عبد اللہ نے کہا ہےکہ ہم گفتگو کرتےتھے کہ اہل مدینہ میں سب سے افضل علی بن ابی طالب ہیں۔

کنا نتحدث اَن أقضی اہل المدینۃ علی بن ابی طالب۔([77])

ام المومنین عائشہ کا بیان ہے کہ أما انہ لا علم الناس بالسنۃ؛ آگاہ رہو کہ وہ (علیؑ) سنت کی نسبت سب لوگوں سے اعلم ہیں۔([78])

عبد الملک بن أبی سلیمان نے کہا کہ میں نے عطا کو کہا کیا اصحاب محمدؐ میں کوئی، علی ؑ سے اعلم ہے تو اس نے کہا خدا کی قسم! میں کسی کو نہیں جانتا۔

عن عبد الملک بن أبی سلیمان قال قلت لعطاء أکان فی اصحاب محمد أحد أعلم من علیٍ، قال لا و اللہ ما أعلمہ۔([79])

یحیی بن سعید بن مسیب نے کہا لوگوں میں سوائے علی ابن ابی طالب ؑ کے کسی نے سلونی کا دعویٰ نہیں کیا۔

ما کان أحد من الناس یقول سلونی غیر علی بن ابی طالب(ع)۔ ([80])

معاویہ اپنی عداوت کے باوجود بھی اپنی مجبوری کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام سے مسائل پوچھتا تھا چونکہ حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ مسائل کا کوئی حل نہیں تھا۔ جب معاویہ کو، حضرت علی ؑ کی شہادت کی خبر پہنچی تو کہا ابو طالب کے بیٹے کی موت کے ساتھ فقہ اور علم بھی چلا گیا ہے۔ ذہب الفقہ و العلم بموت ابن أبی طالب۔([81])

محمد بن منصورطوسی کہتا ہے کہ میں نے احمد بن حنبل سے سنا وہ کہہ رہے تھے اصحاب محمدؐ میں جتنے فضائل علی بن ابی طالب ؑ کے نقل ہوئے ہیں اتنے فضائل کسی کے نہیں ہیں۔

محمد بن منصور الطوسی یقول سمعت احمد بن حنبل یقول ما جاء لاحد من اصحاب رسول اللہ ؐ من الفضائل لعلی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ۔([82])

اور ابن عبد البر نے استیعاب میں تحریر کیا ہے کہ احمد بن حنبل اور اسماعیل بن اسحاق قاضی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ جتنے فضائل حسان اسانید کے ساتھ علی بن ابی طالب کے روایت ہوئے اتنے فضائل، صحابہ میں سے کسی کے نقل نہیں ہوئے۔ اور اسی طرح احمد بن شعیب بن علی نسائی نے بھی کہا ہے۔

اہل سنت کے حافظ گنجی اپنی کتاب میں([83]) حدیث منزلت کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں حضرت ہارون ، حضرت موسی علیہ السلام کی امت کے سب سے افضل شخص تھے پس اس نصّ صریح کے تحفظ کی وجہ سے ثابت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بھی پوری امت محمدؐسے افضل ہوں۔

خلاصہ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلامﷺ کے بعد پوری امت سے ہر حوالے سے افضل ہیں افضل اور أعلم کے ہوتے ہوئے مفضول کو امامت و خلافت میں کیسے مقدم کیا جاسکتا ہے؟ ذرا عقل سے کام لو۔

امام اور خلیفہ کی سب شرائط، پیغمبر اسلام ؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ حضورؐ کے بعد معصوم، منصوس من اللہ و رسولہ، اعلم الناس، اشجع الناس، أزہد الناس، قریشی و ہاشمی تھے۔

أزہد الناس، لوگوں میں سب سے بڑا زاہد علی ؑ ہے۔

عمر بن عبد العزیز نے کہا: أزہد الناس فی الدنیا علی بن ابی طالب؛دنیا میں سب سے بڑا زاہد علی بن ابی طالب ہیں۔ ([84])

قبیصہ بن جابر نے کہا میں نے دنیا میں علی بن ابی طالب سے بڑھ کر کسی کو زاہد نہیں دیکھا۔

قال ما رأیت أزہد فی الدنیا من علی بن ابی طالب علیہ السلام۔([85])

دلائل خلافت

آیات:

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ حضور نے امت کی راہنمائی ، ہدایت اور دین کی حفاظت کے لیے اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا ہے اور وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں جن کی خلافت و امامت کا کئی ایک مقامات و مناسبات پر اعلان فرمایا جن میں ایک مناسبت دعوت ذی العشیرہ تھی جسے یوم الدار سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ بعثت پیغمبر ﷺ سے جب تین سال گزر گئے تو حضورؐ کو کھل کر دعوت اسلام کرنے کا حکم ہوا۔

آیت اول:{ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأقْرَبِينَ }([86]) اور پیغمبرؐ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حضور ؐ نے اپنے خاندان کے بزرگوں کی دعوت کی جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی جب وہ اکٹھے ہوئے تو انہیں فرمایا میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کی خیر و نیکی لایا ہوں پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں؛ ایکم یوازرنی علی ہذا الامر علی ان یکون اخی و وصی و خلیفتی فیکم۔ یعنی تم میں کون اس کام میں میری مدد کرے گا تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور تم میں میرا خلیفہ ہو؟ حضور ؐ نے تین بار اس جملہ کودہرایا،ہربار کسی نے حضرت علی علیہ السلام کے سوا حضورؐ کی بات کا جواب نہ دیا۔ حضرت علی ؑ نے عرض کیا:انا یا نبی اللہ اکون وزیرک علیہ؛ اے اللہ کے نبی! میں اس کام میں آپ کا وزیر اور مددگار بنوں گا۔ حضورؐ نے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:ان ہذا اخی و وصی و خلیفتی فیکم([87])۔ بے شک یہ تمہارے درمیان میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے۔

مخفی نہ رہے کہ اس واقعہ کو بہت سے مؤرخین، مفسرین اور محدثین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے([88])۔ بعض نے تفصیل کے ساتھ اور بعض نے اختصار و اجمال کے ساتھ، بعض نے واقعہ کے ذیل کو حذف کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اگر سب عبارات کو نقل کیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے گا۔ ہمارا مقصد یہاں واقعہ کی تفصیل کو بیان کرنامقصود نہیں ہے بلکہ اس واقعہ میں محل شاہد، فرمان رسالتؐ کو بیان کرنا مقصود ہے کہ حضورؐ نے اپنی پہلی اعلانیہ تبلیغ میں ان ہذا اخی و وصی و خلیفتی فیکم کہہ کر خلافت حضرت علی علیہ السلام کا بھی اعلان کردیا تھا۔ فہو المطلوب۔ اور یہ حدیث، حدیث دار کے نام سے معروف ہے البتہ بعض نے وصی و خلیفتی کے الفاط کو حذف کرکے اس کی جگہ کذا و کذا کو نقل کرکے اپنی خیانت کا ثبوت دیا ہے۔


آیت دوم:

{ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ}([89]) بتحقیق تمہارا ولی فقط اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو قائم کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوۃ کو درحالیکہ رکوع میں ہوتے ہیں۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام اور سب شیعہ علماء کے نزدیک یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اہل سنت کے مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت علی ؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے([90]) ۔ جب انہوں نے رکوع کی حالت میں زکوۃ (صدقہ) دی۔ اور آلوسی بغددی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں غالب اخبار یین کے نزدیک یہ آیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے([91]) اور شیعہ کے نزدیک بالاتفاق یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن نماز ظہر حضورؐ کے ساتھ پڑھی ایک شخص نے مسجد میں آکر سوال کیا لیکن سائل کو کسی نے کچھ نہ دیا، سائل نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیئے اور عرض کیا خداوندا! تو گواہ رہنا کہ میں نے اللہ کے رسول کی مسجد میں سوال کیا ہے اور مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا اور حضرت علی ؑ اس وقت (نافلہ نماز کے) رکوع میں تھے انہوں نے اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اشارہ کیا جس میں انگوتھی تھی سائل بڑھا اور اس نے رسول خدا ﷺ کے سامنے انگوٹھی لے لی، حضورؐ نے یہ منظر دیکھ کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا خدایا! میرے بھائی موسی نے تجھ سے سوال کیا تھا اور کہا تھا { قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي}([92])

پروردگار میرے سینے کو گشادہ کردے میرے کام کو آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے کہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دیدے ہارون کو جو میرا بھائی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک بنادے۔

تو نے موسی کے جواب میں قرآن ناطق کی یہ آیت نازل فرمائی:

{ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا }([93])

ہم عنقریب تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعہ مضبوط بنادیں گے تم دونوں کو غالب کردیں گے۔

(حضور ؐ نے درگاہ الٰہی میں عرض کیا) اللهم أنا محمد نبيك و صفيك فاشرح لي صدري و يسر لي أمري و اجعل لي وزيراً من أهلي عليا اشدد به ظہری قال أبو ذر فو اللہ ما اتّم رسول الله ہذہ کلمۃ حتى نزل جبرئيل فقال يا محمد اقرأ {إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُون}

اے اللہ میں محمد تیرا نبی اور تیرا برگزیدہ بندہ ہوں میرے سینہ کو کشادہ فرما، میرے امر تبلیغ کو آسان بنادے اور میرے اہل سے میرے بھائی علی کو میرا وزیر بنا اور اس کے ذریعہ میری کمر کو مضبوط بنا۔

ابوذر کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! ابھی رسول خدا ﷺ کے (دعاکے) الفاط ختم نہ ہونے پائے تھے کہ جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوا،کہا: اے محمدؐ پڑھیں انما ولیکم اللہ و رسولہ تا آخر آیت۔([94])

مخفی نہ رہے کہ مقام میں اہلسنت کے مفسرین نے متعدد روایات کو ذکر کیا ہے جن میں بعض کی سند بلا اشکال ہے کما فی تفسیر ابن کثیر اور دیگر بعض انہی کی موید ہیں ([95]) لہذا سندی حوالے سے یہاں کوئی اشکال نہیں پایا جاتا۔

دلالت کے حوالے سے بھی منصف مزاج کے لیے مسئلہ واضح ہے کیونکہ لفظ ولی سے متبادر معنی اولی بالتصرف، سرپرست اور حاکم ہے اور مقام میں انما حصریہ ہے جو ولی بمعنی دوست کی نفی کر رہا ہے چونکہ حضور کا خدا سے اپنے وزیر کے بارے میں سوال کرنا اور آیت کا نازل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ولی بمعنی حاکم ہے اور کلمہ زکوۃ سے مراد مقام میں صدقہ نافلہ ہے۔ جس کی کئی ایک علماء اہل سنت نے تصریح کی ہے۔([96])

نیز جمع کے صیغوں کا استعمال فرد واحد کے لیے قرآن میں اور کلام عرب میں بطور تعظیم پایا جاتا ہے جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت ۵۱ میں رسل، کلوا، و اعملوا، تعلمون۔ جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں حالانکہ نزول آیت کے وقت مکہ میں صرف ایک رسول ہمارے نبیؐ ہیں نیز آیہ مباہلہ میں فرد واحد کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں نیز سورہ آل عمران کی آیت ۳۹ میں الملائکہ جمع کا صیغہ صرف جبرائیل کے لیے ان کی تعظیم و شان کی خاطر آیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس طرح کا استعمال کلاب عرب میں بکثرت پایاجاتا ہے۔

اہل سنت کے مفسر زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف ج۱/ ۲۴۷ پر یوں جواب دیا ہے جئی بہ علی لفظ الجمع و اِن کان السبب فیہ رجلاً واحداٍ لیرغب الناس فی مثل فعلہ فینالوا مثل ثوابہ۔

سبب نزول صرف (علی ؑ) ہیں مگر ان کے واسطے جمع کا لفظ اس وجہ سے لایا گیا ہے کہ لوگوں کو ایسے نیک کام کرنے کی رغبت پیدا ہو تاکہ وہ حضرت علی ؑ کی طرح ثواب حاصل کریں۔

انگوٹھی کا رکوع کی حالت میں عطا کرنا یہ فعل کثیر نہیں ہے([97]) جو کہ نماز کے لیے مبطل ہوتا ہے۔

امیرؑ کا نماز کی حالت میں انگوٹھی کا دینا یہ خشوع و خضوع سے بھی منافاۃ نہیں رکھتا اور ان کی توجہ پورے خضوع و خشوع کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں تھی سائل کی آواز بھی بارگاہ الٰہی میں جب پہنچی تو وہاں یہ آواز سن کر اس غرض کے ساتھ کہ مسجد رسول سے سائل خالی نہ پلٹے انہوں نے انگوٹھی سائل کو دے دی تو یہ فعل عبادۃٌ فی العبادۃ عبادت کے اندر اور عبادت ہے۔

اگرچہ ولی کے متعدد معانی، محب، ناصر، صدیق وغیرہ نقل ہوئے ہیں لیکن مقام میں یہ معانی مناسبت نہیں رکھتے۔

ولی کا معنی آیت میں اولی بالتصرف ہے جو کہ اس لفظ سے متبادر ہے۔ ہذا اولاً

و ثانیاً: آیت میں کلمہ انما حصر کا ہے جو ولی بمعنی دوست کی نفی کر رہا ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے{ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ} (سورہ توبہ، آیت ۷۱)۔ چونکہ مومنین ایک دوسرے کے پہلے سے دوست بلکہ بھائی تھے۔

و ثالثاً: انما ولیکم یہ خطاب سب کے لیے ہیں چاہے وہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں خطاب کا عموم، اس بات سے مانع ہے کہ ولی بمعنی دوست ہو کیونکہ خدا اور رسول بدکاروں کو دوست نہیں رکھتے۔

رابعاً: خود آیت کی شان نزول کی بعض روایات میں تصریح موجود ہے کہ ولی سے مراد، اولی بالتصرف ، حاکم اور سرپرست مراد ہے۔ کمالا یخفی

وخامساً: سنن ترمذی([98]) جو کہ صحاح ستہ سے ہے اس میں یہ روایت موجود ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا :علی منّی و انا منہ وہو ولی کل مؤمن بعدی ؛ علی مجھ سے ہیں اور میں علی ؑ سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔

یہاں روایت میں کلمہ بعدی ، ولی بمعنی دوست کی تردید کر رہا ہے چونکہ حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں بھی دوست تھے اگر ولی بمعنی دوست تسلیم کیا جائے تو لازم آئے گا کہ علی علیہ السلام، حضورؐ کے زمانہ میں، مومنین کے دوست نہیں تھے حالانکہ بنص قرآن، مومنین ایک دوسرے کے دوست ہیں۔([99])

اور ابن مردویہ کی روایت میں فہو أولی الناس بکم بعدی کے الفاظ بھی موجود ہیں۔([100])

خلاصہ یہ کہ آیت ولایت میں اور مذکورہ حدیث میں ولی بمعنی اولی بالتصرف، حاکم و سرپرست کے ہیں جیسا کہ اس لفظ سے متبادر بھی یہی ہے جیسا کہ نکاح کے وقت کہا جاتا ہے بچی کے ولی کو بلاؤ۔ اور اسی طرح ولی الدم، ولی الیتیم وغیرہ کے اطلاق سے بھی یہی معنی متبادر ہوتاہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام اس آیت ولایت "انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنو الخ" کے بارے میں ایک طولانی روایت میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ؑ نے فرمایا یہودیوں کا ایک گروہ جن میں عبد اللہ بن سلام، و ثعلبۃ و ابن یامین و ابن صوریا بھی تھے اسلام لائے۔ اور حضور کی خدمت میں پہنچ کر عرض کرتے ہیں یا نبی اللہ، حضرت موسیٰ نے اپنے بعد کے لیے حضرت یوشع بن نون کو اپنا وصی بنایا؛ فمن وصیک یا رسول اللہ،یا رسول اللہ آپ کا وصی کون ہے؟ اور و مَن ولینا بعدک؛ آپ کے بعد ہمارا حاکم کون ہے تو یہ آیت {إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُون } نازل ہوئی۔ حضورؐ نے فرمایا:اٹھو (میرے ساتھ آؤ) وہ مسجد میں آئے تو ایک سائل مسجد سے نکل رہا تھا حضورؐ نے فرمایا: ہل اعطاک أحد شیئاً؟ کیا کسی نے تجھے کچھ عطا کیا ہے؟ کہا جی ہاں، یہ انگوٹھی ملی ہے،فرمایا کس نے عطا کی ہے؟ کہا: وہ شخص جو نماز پڑھ رہا ہے، فرمایا: کس حالت میں عطا کی ہے؟کہا: رکوع کی حالت میں تو حضورؐ نے تکبیر کہی اور حاضرین مسجد نے بھی تکبیر بلند کی۔

حضورؐ نے فرمایا: علیٌّ ولیکم بعدی ؛میرے بعد تمہارا ولیّ (حاکم) علی ؑ ہے انہوں نے کہا رضینا باللہ ربّا و بمحمد نبیاًٍ و بعلی بن ابی طالب ولیاً۔

کہ ہم اللہ کی ربوبیت اور محمد کی نبوت اور علی بن ابی طالب کی ولایت وحاکمیت پر راضی ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائیَ{ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ }([101])۔([102])

اور جو بھی اللہ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا سرپرست بنائے گا تو اللہ ہی کی جماعت غالب آنے والی ہے۔

نتیجہ: پس یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور نزول کے وجوہات میں سے ایک وجہ عبد اللہ بن سلام کا سوال ہے کہ آپ کا وصی کون ہے؟ اہل سنت کا یہ روایت اپنی کتب میں لکھنا کہ عبد اللہ بن سلام نے کہا: جب سے ہم اسلام لائے ہیں ہماری قوم نے ہمارا بائیکاٹ کردیا ہے اور اس مجلس، (یعنی مجلس النبیؐ) کے علاوہ اور ہماری کوئی مجلس نہیں ہے یعنی آپؐ کے سوا اور ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے۔

تو یہ روایت بھی مذکرہ روایت کے صدق کی شہادت دے رہی ہے کہ یا رسول اللہ ؐ اب تو آپ موجود ہیں اور آپ کا ہمیں سہارا ہے لیکن فرمائیں آپؐ کے بعد آپ کا ولی و جانشین کون ہے تاکہ وہ ہمارے حاکم اور ولی ہوں۔

ضمنا سیاق آیات کا اشکال بھی یہاں پر رفع ہوجاتا ہے چونکہ یہ سب آیات ایک دفعہ نازل نہیں ہوئیں اور نزول آیات کے وجوہات بھی مختلف ہیں چونکہ ممکن ہے سورہ مائدہ کی آیت ۵۱ طبق نظر مفسرین اہل سنت کے عبادۃ بن صامت اور اس کے ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی ہو اور اس مناسبت سے منافقین کی مذمت آئی ہے اور آیت نمبر ۵۴ میں خداوند متعال فرماتا ہے کہ اگر تم دین سے پھر بھی جاؤ تو خدا کو کوئی پرواہ نہیں وہ ایک قوم لائے گا جس کو وہ دوست رکھتا ہوگا اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے (مع بقیہ صفات کہ جو آیت میں مذکور ہیں)

اور آیت نمبر ۵۵ کے نزول کی وجہ عبد اللہ بن سلام کا حضورؐ سے وصیّ کے بارے میں استفسار ہو کہ آپؐ کے بعد ہمارا ولیّ و سرپرست و امام کون ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور اسی مناسبت سے جو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین یعنی حضرت علی ؑ کو اپنا ولی مانے وہی غالب ہیں یہ آیت نمبر ۵۶ نازل ہوئی اس مطلب پر شاہد روایات ہیں، کما لا یخفی۔

یہ کیسے مانا جائے کہ عبد اللہ بن سلام، وصی کے بارے میں سوال کرے کہ آپؐ کا وصی کون ہے جو کہ آپ کے بعد ہمارا حاکم ہو اور خدا جواب میں فرمائے کہ تمہارا دوست خدا،رسول اور مومنین (با صفات مذکورہ در آیت) ہیں۔ جواب، سوال کی مناسبت سے ہوتا ہے۔

نیز یہ بات بھی روشن ہوگئی کہ آیت کے نزول کا موجب عبد اللہ بن سلام کا سوال تھا کہ آپ کا وصی کون ہے۔ نہ یہ کہ یہ آیت عبد اللہ بن سلام کی شان میں نازل ہوئی فافہم جیدا۔ چونکہ حضرت علی ؑ کے علاوہ صحابہ میں سے کسی اور کی شان میں یہ آیت نازل نہیں ہوئی اور کسی معتبر روایت میں یہ نہیں ہے کہ ابوبکر نے رکوع کی حالت میں زکوۃ دی ہو۔

آیت سوم

ارشاد ربّ العزت ہے:{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ}([103])

اے ایمان والو خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ ہم سب شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اولی الامر سے مراد ائمہ اثنا عشر بارہ معصوم امام ہیں حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری نے رسول خداؐ سے اولی الامر کے بارے میں سوال کیا کہ ہمیں حکم ہے کہ ہم اولی الامر کی اطاعت کریں وہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا وہ میرے بعد خلفاء ہیں جن میں پہلا میرا بھائی علی ؑ ہے ان کے بعد حسن ؑ اور حسین ؑ پھر علی بن الحسین پھر محمد باقر، اے جابر آپ ان سے ملاقات کریں گے جب ملاقات کریں تو میرا ان کو سلام پہنچا دینا، ان کے بعد جعفر صادق ان کے بعد موسی کاظم ان کے بعد علی رضا ان کے بعد محمد جواد ان کے بعد علی ہادی ان کے بعد حسن عسکری ان کے بعد قائم منتظر مہدی ؑ۔ میرے بعد یہ امام ہوں گے۔([104])

نیز اہل سنت کے علماء نے بھی اسی مضمون کی روایت کو اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ چنانچہ محدث جوینی نے اپنی کتاب([105]) میں ایک طویل روایت نقل کی ہے جس میں آیت اطاعت و ولایت اور آیت ام حسبتم أن تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاہدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ الخ کی تفسیر کے بارے میں لوگوں نے حضورؐ سے پوچھا کیا یہ خاص ہے یا عام تو حضورؐ نے اس کی تفسیر فرمائی اور غدیر پر بارہ اماموں کا ذکر فرمایا جن میں پہلے علی ؑ پھر حسن اور حسین پھر حسین ؑ کی اولاد سے نو امام ہیں قرآن ان کے ساتھ ہے اور وہ قرآن کے ساتھ ہیں وہ قرآن سے جدا نہیں ہوں گے اور قرآن ان سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ حوض کوثر پر پہنچیں ۔

فی المناقب عن الحسن بن صالح عن جعفر الصادق ؑ فی ہذہ الآیۃ قال اولو الامر ہم الائمۃ من أہل البیت۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اس آیت میں اولی الامر سے مراد اہل بیت میں سے ائمہ طاہرین ہیں۔([106])

حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضورؐ نے فرمایا میرے بعد بارہ امام ہیں ان میں پہلے علی بن ابی طالب اور آخری قائم (امام مہدی ؑ) ہیں یہ میرے خلیفہ ، وصی اور مددگار ہیں میرے بعد میری امت پر اللہ کی حجت ہیں۔ جو ان کی امامت و خلافت کا اقرار کرے گا وہ مومن ہے اور جو ان کا منکر ہوگا وہ کافر ہوگا۔

قال الصدوق بِاسنَادِہِ عن علی (ع) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص الْأَئِمَّةُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَوَّلُهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَ آخِرُهُمُ الْقَائِمُ فَهُمْ خُلَفَائِي وَ أَوْصِيَائِي وَ أَوْلِيَائِي وَ حُجَجُ اللَّهِ عَلَى أُمَّتِي بَعْدِي الْمُقِرُّ بِهِمْ مُؤْمِنٌ وَ الْمُنْكِرُ لَهُمْ كَافِرٌ۔ ([107])

شیخ صدوق اپنی کتاب فقیہ میں لکھتے ہیں قوی اسناد کے ساتھ صحیح روایات میں آیا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے اللہ کے حکم کے ساتھ علی بن ابی طالب کو (اپنا) وصی بنایا اور انہوں نے حسن کو اور حسن نے حسین کو اور انہوں نے علی بن حسین کو انہوں نے محمد باقر کو انہوں نے جعفر صادق کو انہوں نے موسی کاظم کو انہوں نے علی رضا کو اور انہوں نے محمد (تقی) کو انہوں نے علی (نقی) کو انہوں نے اپنے بیٹے حسن (عسکری) کو انہوں نے اپنے بیٹے حجۃ اللہ القائم بالحق یعنی حضرت مہدی کو اپنا وصی بنایا۔ وہ مہدی اگر دنیا سے ایک دن بھی باقی رہ گیا تو خدا اس دن کو اتنا طولانی کردے گا یہاں تک کہ وہ خروج کریں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔([108])

محدث حر عاملی نے اپنی کتاب اثبات الہداۃ ج۱ میں آئمہ علیہم السلام کی امامت پر شیعہ و سنی کی کتب سے بارہ سو سے زائد نصوص کو ذکر کیا ہے اور کتاب مذکور کی جلد دوم میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی امامت و خلافت پر شیعہ کتب سے ایک ہزار انیس احادیث اور اہل سنت کی کتب سے پانچ سو سے زائد حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔ ان شئت التفصیل فراجع ہناک۔

ائمہ اثنا عشر کی امامت و خلافت کی نصوص کے بارے میں درج ذیل کتب کی طرف نیز رجوع فرما سکتے ہیں۔ کافی و الروضہ کلینی ، کتاب الغیبۃ نعمانی، امالی صدوق،عیون اخبار الرضا، کمال الدین و تمام النعمۃ، و کفایۃ الاثر مولفہ ابو القاسم علی بن محمد،الارشاد مفید، بحار الانوار مجلسی وغیر ذلک۔

نوٹ مخفی نہ رہے کہ ہمارے بارہ اماموں کا ذکر اہل سنت کے علماء نے بھی اپنی کتب میں بعض نے تفصیل کے ساتھ اور بعض نے اجمال کے ساتھ ذکر کیا ہے جیسے علامہ گنجی نے اپنی کتاب کفایۃالطالب،ابن صباغ مالکی نے اپنی کتاب فصول المہمہ، ملاں جامی نے اپنی کتاب شواہد النبوۃ اور علامہ شبلنجی نے اپنی کتاب نور الابصار اور ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں ذکر کیاہے۔ و نیز در کتب دیگر۔

اہل سنت کے محدث جوینی نے اپنی کتاب فرائد السمطین کی جلدی دوم کے صفحہ ۱۳۳۔ ۱۳۴ پر ابن عباس کی مفصل روایت کو ذکر کیا ہے جس میں نعثل یہودی نے حضور اکرم ﷺ سے آپ کے وصی کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون ہے کیونکہ ہر نبی کا وصی ہوتا ہے تو آپؐ نے فرمایا: میرا وصی اور میرے بعد خلیفہ علی ابن ابی طالب ہیں اوران کے بعد میرے نواسے حسن پھر حسین ہیں پھر حسین ؑ کی نسل سے نو امام ابرار ہیں۔ یہودی نے عرض کیا آپ ان کے نام لیں تو آپ نے فرمایا: حسین ؑ کے بعد ان کا بیٹا علی انکے بعد ان کا بیٹا محمد ان کے بعد ان کا بیٹا جعفر ان کے بعد ان کا بیٹا موسی ان کے بعد ان کا بیٹا علی ان کے بعد ان کا بیٹا محمد ان کے بعد ان کا بیٹا علی ان کے بعد ان کا بیٹا حسن اور ان کے بیٹے حجۃ ابن الحسن ہوں گے۔ یہ بارہ امام ہیں بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق ۔۔۔ پھر حضور ؐ نے فرمایا کہ میری اولاد سے میرا بارہواں نائب لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجائے گا اور میری امت پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی صرف اسلام کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط رہ جائے گا (کوئی تعلیمات قرآن پر عمل نہیں کرے گا) اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو خروج کی اجازت فرمائے گا پس وہ اسلام کو ظاہر کریں گے اور دین کی تجدید کریں گے۔

نیز محدث جوینی اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۳ پر ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول خداؐ سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ میں علی، حسن، حسین اور حسین کی اولاد سے نو (امام) پاکیزہ اور معصوم ہیں۔ عن عبد اللہ بن عباس قال سمعت رسول اللہ(ص) یقول أنا و علی و الحسن و الحسین و تسعۃ من ولد الحسین مطہرون معصومون۔

نیزاسی کتاب کے صفحہ ۱۳۷ پر حدیث لوح کو ذکر فرمایا ہے جس میں ہمارے بارہ اماموں کا ذکر ہے۔ نیز صفحہ ۱۵۳، ۱۵۴ پر ایک اور روایت میں بارہ اماموں کا ذکر فرمایا ہے نیز ص ۲۵۹ پر ائمہ اثنا عشر کے بارے میں فرمان رسالت ہے کہ آپؐ نے فرمایا انہی ائمہ کے صدقے میں خدا بارش برساتا ہے اور انہی کی وجہ سے میری امت کی دعائیں قبول ہوتی ہیں انہی کی وجہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں اور انہی کی وجہ سے خدا آسمان سے رحمت کو نازل کرتا ہے۔


آیت چہارم

{ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}([109])

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ کام نہ کیا تو گویا رسالت کو ہی نہ پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔ حضورؐ کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں لوگ خاندان دوستی کا الزام نہ لگادیں جس کے نتیجہ میں لوگ دین سے منحرف نہ ہوجائیں اور سب زحمات پر پانی نہ پھر جائے([110])۔

یہ آیت مقام غدیر خم-جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا - پر نازل ہوئی۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ کہ جب رسول خداؐ حجۃ الوداع سے فارغ ہوکر مدینہ کی طرف چلے تو مقام غدیر پر حضرت جبرائیل یہ آیت لے کر حضورؐ پر نازل ہوئے، دوپہر کا وقت تھا، شدید گرمی پڑ رہی تھی، صحابہ کی تعداد ایک لاکھ کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ تھے۔ بعض نے ایک لاکھ چوبیس ہزار تعدادنقل کی ہے۔ جو اصحاب آگے گزر گئے تھے ان کو پیچھے بلایا گیا اورر جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ ایک مخصوص منبر بنایا گیا اور منادی نے الصلوۃ جامعہ کی ندا دی۔ حضورؐ نے ایک عظیم خطبہ دیا جس میں حمد الٰہی کے بعد وعظ و نصیحت فرمائی۔ اور حضورؐ نے اپنی امت کو اپنی وفات کی خبر دی۔

پھر حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کر بلند کرکے فرمایا: اے لوگوں کیا میں تمہارے نفسوں کا تم سے زیادہ اولی، مالک ، بااختیار نہیں ہوں؟ سب نے کہا: بے شک اے اللہ کے رسول! آپ زیادہ مالک ہیں، تو حضورؐ نے فرمایا: من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ([111])؛ جس کا میں سردار ہوں اس کا یہ علی بھی سردار ہے۔ اے اللہ جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس کو دشمن رکھ۔

تو پھر حضرت علی ؑ کے لیے بیعت لی گئی تو حضورؐنے فرمایا: جو اس بیعت کو توڑے گا وہ اپنے لیے توڑے گا (یعنی اس کے نقصان اور ضرر کا وہ خود ذمہ دار ہوگا) اور جو اپنے عہد کئے ہوئے کو پورا کرے گا اور وفا دار رہے گا اس کو اللہ عنقریب اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ حضورؐ نے اپنے خطبہ میں آیت ولایت {انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنو الخ} کا حوالہ بھی دیا اور حدیث ثقلین کو بھی بیان فرمایا۔

رسول خداؐ نے حضرت علی ؑ کے سرپر دستار باندھی،صحابہ نے حضرت علی ؑ کو مبارک دی، عمر بن خطاب نے ان الفاط میں مبارک باد دی: ہنیأ لک یابن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مومن و مومنۃ۔([112])

اور روایت کے مطابق بخٍ بخٍ لک یا بن ابی طالب کے الفاظ کہے کہ اے ابو طالب کے بیٹے مبارک ہو کہ آپ میرے اور ہر مومنہ کے سردار ہوگئے ہو۔ ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ ابھی ہم پلٹنے نہیں پائے تھے کہ یہ آیہ مبارک نازل ہوئی۔

{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسْلامَ دِينًا}([113])

آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے اور تمہارے یے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ آیت غدیر خم پر نازل ہوئی۔([114])

تو حضور نے نعرہ تکبیر بلند کیا دین کے کامل ہونے پر اور نعمت کے پورے ہونے پر اور اپنی رسالت اور اپنے بعد علی ؑ کی ولایت سے اللہ کے راضی ہونے پر۔ ([115])

پھر مشہور شاعر حسان بن ثابت نے حضورؐ سے اجازت لے کر حضرت علی علیہ السلام کی شان میں قصیدہ پڑھا جس کا ایک شعر یہ تھا۔

فقال لہ قم یا علی فاننی

حضورؐ نے حضرت علی ؑ سے فرمایا اے علی ؑ اٹھ کھڑے ہو

رضیتک من بعدی اماما و ہادیا

میں نے اپنے بعد تم کو امام و ہادی بنانا پسند کیا ہے

جیساکہ مقتل الحسین للخوارزمی، ص ۸۱، فرائد السمطین، ج۱، ص ۷۳، ۷۵؛ تذکرۃ الخواص، ج۱، ص ۲۷۲ اور دیگر کتب میں منقول ہے۔

حدیث غدیر کو شیعہ و سنی محدثین نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے اور یہ حدیث صحیح بلکہ متواتر ہے([116])۔ جس کا سوائے متعصب کے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس حدیث کو زید بن ارقم اور دیگر صحابہ نے روایت کیا ہے، اس حدیث کی تفصیل کے لیے علامہ عبد الحسین امینی کی مشہور کتاب الغدیر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے اس کو ایک سو دس صحابہ اور تین سو ساٹھ علماء سے نقل کیا ہے۔

حضرت علی ؑ کی ظاہری خلافت میں تیس صحابہ نے اس حدیث کی گواہی دی ہے کما فی تاریخ الدمشق۔ نیز امیر المومنین علی ؑ نے اس حدیث سے بھی دستگاہ سقیفہ سے احتجاج کیا ہے۔ اگر حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و امامت پر اور کوئی آیت یا حدیث نہ بھی ہوتی تو یہ آیت تبلیغ اور حدیث غدیر ، من کنت مولاہ فہذہ علی مولاہ، ان کی خلافت بلافصل پر کافی تھی۔ حالانکہ امیر المومنین علی علیہ السلام کی خلافت و امامت پر بہت سی آیات اور احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے۔ ان شئت التفصیل فراجع الی المطولات۔

دلالت حدیث: اس حدیث غدیر کی دلالت منصف مزاج کے لیے روشن اور واضح ہے کہ لفظ مولی سے مراد المتصرف اور اولیٰ ہے اور یہی معنی یہاں متبادر بھی ہے۔ کہ آپؐ نے فرمایا: جس کا میں مولی، سردار ہوں علی ؑ بھی اس کے مولیٰ و سردار ہیں۔

چونکہ باقی معانی سے یا تو کفر لازم آتا ہے جیسے مولا بمعنی ربّ یا کذب لازم آتا ہے جیسے مولا بمعنی۔ العم، الابن، ابن الاخت، معتق، عبد، تابع، صاحب، جار، قریب وغیرہ بھی مراد نہیں لیئے جاسکتے چونکہ قرینہ حالیہ ان کے لیے مصحح نہیں ہے۔ ناصر اور محب بھی مراد نہیں ہوسکتے چونکہ ان باتوں کا سب کو علم تھا۔

اہل سنت کے علامہ سبط ابن جوزی اپنی کتاب تذکرۃ الخواص ، ج۱، ص ۲۷۱ پر فرماتے ہیں کہ مولا کا معنی یہاں اولی ہے معناہ من کنت أولی بہ من نفسہ فعلی اولی بہ اور اسی مطلب پر آنجناب کا فرمان الست اولی بالمومنین من انفسہم بھی دلالت کرتا ہے اور یہ حضرت علی ؑ کی امامت کے اثبات میں صریح نص ہے۔ انتہی

نیز قرائن حالیہ اور مقالیہ اور آیت کے نزول کے لحن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت اہم حکم تھا فقہی اور اخلاقی مسائل سے مربوط نہ تھا۔ سنی، شیعہ کتب سے بعض قرائن کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

قرائن

  1. 1.صدر روایت کے الفاظ یہ ہیں یا ایھا الناس اَلَستُ أولی بالمومنین مِن اَنفُسِکُم کما فی ترجمہ الامام علی ابن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۶۸ (یا قریب بہ مضمون جملات: ألم تعلموا انی أولی بکم من انفسکم([117])۔ پھر اس کے بعد تین مرتبہ فرمانا: من کنت مولاہ فعلیٌّ مولاہ۔
  2. 2.لوگوں سے توحید و رسالت ، جنت ودوزخ، موت اور قیامت کا اقرار لینا ألَستُم تَشہَدُونَ ان لا الہ الا اللہ و أنّ محمداً عبدہ و رسولہ ، پھر فرمانا: ایھا الناس ان اللہ مولای و أنا مولی المومنین و انی أولی بہم من أنفسہم، ان تمہیدی جملات کے بعد فرمانا: فمن کنت مولا فہذا (علی) مولا الخ اور پھر قرآن اور اپنی عترت کے بارے میں تاکید فرمانا۔ اور ان کی متابعت کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ حضورؐ نے اپنے جانشین، علی ؑ کی خلافت کا اعلان کیا ہے۔ ([118])
  3. 3.جب حضرت علی ؑ کا بازو پکڑ کر بلند کرکے فرمایا:من کنت مولاہ الخ، پھر ان کو دعا ([119])دینا: اللہم وال من والاہ و عاد من عادہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ۔ یہ دعا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی ؑ بلند مقام پر فائز ہوئے۔
  4. 4.خطبہ کے آخر میں فرمانا:أن یُبَلِّغَ الشاہدُ منکم الغائب، کہ تم میں جو حاضر ہے، اس فرمان کو غائب تک پہنچا دے۔ کما فی کتاب الولایۃ للحافظ ابن عقدہ، ص ۱۸۸۔ ۱۷۳۔ تو یہ تاکیدی حکم اس بات کی دلیل ہے کہ منصب ولایت ہی دیا گیا۔
  5. 5.حضرت علی ؑ کے سرمبارک پر حضورؐ کا دستار باندھنا۔ کما فی کنز العمال ۸/ ۶۰ وغیرہ۔
  6. 6.حضورؐ کا حضرت علی ؑ کو اپنے خیمہ میں بیٹھنے کا حکم دینا اور سب حاضر مسلمین کو حکم دینا کہ وہ حضرت علی ؑ کو مبارک باد دیں، کما فی الارشادللمفید، ج۱ / ۱۷۶۔
  7. 7.نیز حکم دیا گیا کہ حضرت علی ؑ کو امیر المومنین کہہ کر سلام کریں ، کما فی الارشاد ، ج۱/ ۱۷۶ و مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۵۵۔ نیز حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو ایک مخصوص الگ خیمے میں بیٹھنے کا حکم دیا اور لوگوں کو کہا کہ جاؤ علی ؑ کو ان کے خیمے میں مبارک باد پیش کرو ، کما فی روضۃ الصفا، ج۱/ ۱۷۳۔
  8. 8.عمر بن خطاب نے حضرت علی ؑ کو مبارک دی ([120])اور کہا: اصحبت و امسیت مولی کل مومن و مؤمنہ، کما فی کنزل العمال و رواہ عساکر فی تاریخہ اور کفایۃ الطالب کے ص ۶۰ پر ہے فقال ابوبکر و عمر أمسیت یا ابن ابی طالب مولی کل مؤمن و مؤمنہ۔

سالم بن أبی الجعد کا بیان ہے کہ کسی نے عمر کو کہا (جب عمر نے حضرت علی ؑ کو مبارک دی) کہ تم علی ؑ کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہو جو کسی اور صحابی کے ساتھ نہیں کرتے ہو ، عمر نے جواب دیا انہ مولای کہ وہ (علیؑ) میرے مولا ہیں۔ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب لابن العساکر، ج۲، ص ۸۲،طبع بیروت(نوٹ)اگر مولا کا معنی دوست ہے تو کیا عمر کا صحابہ میں سے اور کوئی دوست نہیں تھا۔

  1. 9.حسان بن ثابت کا حضورؐ سے اجازت لے کر حضرت علی ؑ کی شان میں حدیث غدیر کا منظر، قصیدہ کی صورت میں پیش کرنا اور اس میں امامت کی گواہی دینا([121])۔ رضیتک من بعدی اماما و ہادیا۔ اور حضور ؐ کا اس کو مشروط دعا دینا۔
  2. 10.حضور ؐ کا اور حاضر صحابہ کا حسان شاعر کو منع نہ کرنا کہ مولی کا معنی رہبری اور امامت نہیں ہے جو کہ تو نے سمجھا ہے بلکہ یہاں تو دوستی علی ؑ کا اعلان ہوا ہے ۔ حسان شاعر خود بھی عرب زبان تھا اس نے مولا کا معنی رہبری ہی سمجھا تھا اور حاضرین صحابہ کی کثیر تعداد کا منع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے۔
  3. 11.حضورؐ کا خطبہ سے پہلے اپنی موت([122]) کی خبر دینا اور پھر شدید گرمی میں سب کو کھڑا کر کے یہ اعلان کرنا۔

یہ سب اس بات کے شواہد ہیں کہ غدیر خم پر بحکم خدا ولایت علی ؑ کا عمومی اعلان تھا تاکہ امت حضورؐ کے بعد بغیر امام کے نہ رہے۔ اور بعد میں امامت و خلافت کے بارے میں جھگڑے نہ کریں۔

  1. 12.حارث بن نعمان فہری کا غدیر خم کے واقعہ کے بعد حضورؐ کے پاس آنا۔ اور اس کا اپنے لیے عذاب کا طلب کرنا اور پتھر کا نازل ہونا اور اس کا وہاں فی الفور مر جانا([123]) اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ غدیر اور حدیث غدیر، دوستی سے مربوط نہیں تھا بلکہ امر خلافت و امامت کے متعلق تھا۔
  2. 13.غدیر پر نماز کے بعد آنجنابؐ نے حضرت علی ؑ کے بارے میں خطبہ عظیمہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ کے بارے میں اہل سنت کے علامہ جزری اپنی کتاب اسمی المناقب فی تہذیب أسنی المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب ؑ کے ص ۲۹ پر لکھتے ہیں و ثبت ایضا ان ہذا القول کان منہ (ص) یوم غدیر خم و ذلک فی خطبۃ خطبہا النبی(ص) فی حقہ۔
  3. 14.غدیر خم پر لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے آیت اکمال{ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسْلامَ دِينًا} کا نازل ہونا اور رسول خدا کا تکبیر کہنا اور فرمانا:اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمۃ و رضی الرب برسالتی و الولایۃ لعلی من بعدی۔([124])

یہ اس بات کی منہ بولتی دلیل ہے کہ وہاں خلافت و ولایت علی ؑ کا اعلان ہوا تھا۔

  1. 15.حضرت علی ؑ کا اس حدیث سے احتجاج کرنا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ غدیر پر امامت علی ؑ کا اعلان ہوا تھا([125])۔ خصوصاً شوری میں حضرت علی ع کے احتجاج کو اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے([126])۔ نیز رسول خداؐ کی اکلوتی بیٹی فاطمہ الزہرا علیہا السلام نے بھی رحلت پیغمبرؐ کے بعد خلافت علی علیہ السلام کے بارے میں لوگوں کو غدیر اور حدیث منزلت کا حوالہ دیا ہے۔([127])
  2. 16.حضورؐ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے غدیر کے دن کو اسلامی مہم عید کا اعلان فرمایا ہے([128])۔ تاکہ ہر سال واقعہ کی یاد تازہ رہے کیا حضرت علی ؑ سے محبت اور دوستی کے اعلان کرنے کی خاطر عید کا اعلان ہوا ہے یا امامت و خلافت کی وجہ سے عید کا اعلان ہوا ہے۔

عید غدیر: قال رسول اللہؐ:یوم غدیر خمّ أفضل أعیاد أمتی؛

رسول خدا ﷺ نے فرمایا: میری امت کی عیدوں میں سب سے افضل عید غدیر خم کا دن ہے یہ وہ دن ہے جس میں خدا نے مجھے میری امت کے لیے میرے بھائی علی بن ابی طالب کو ہادی بنانے کا حکم دیا میرے بعد لوگ ان کے ذریعے ہدایت پائیں گے یہ وہ دن ہے جس میں خدا نے دین کو کامل کیا اور میری امت پر نعمت کو تمام کیا اور ان کے لیے اسلام پرراضی ہوا۔([129])

مفضل بن عمر کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مسلمانوں کے لیے کتنی عیدیں ہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا: چار عیدیں ہیں، میں نے عرض کیا: عیدین یعنی عید فطر اور عید الاضحی اور جمعہ کو تو پہچانتا ہوں (چوتھی عید کون سی ہے؟) تو امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ سب عیدوں سے بڑی اور اشرف عید ہے وہ اٹھارہ ذی الحجہ کو دن ہے جس دن حضور ؐ نے علی علیہ السلام کو لوگوں کے لیے ہادی بنایا۔([130])

اور جو اس دن روزہ رکھے تو اس کا یہ عمل ساٹھ سالوں کے اعمال سے افضل ہے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اٹھارہ ذی الحجہ کا دن عید اکبر ہے اوریہ اہل بیت محمدؐ کی عید کا دن ہے([131])۔ اس دن کے بہت فضائل ہیں جن کی تفصیل کو اسی روایت اور دیگر روایات میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

اس دن جب مومن کسی دوسرے مومن سے ملاقات کرے تو کہے : الحمد للہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایۃ أمیر المومنین و الائمۃ علیہم السلام۔

نوٹ: اہل سنت کی کتب میں بھی اس دن روزہ رکھنے کی فضیلت نقل ہوئی ہے جیسا کہ ابو ہریرہ نے کہا جو شخص اٹھارہ ذی الحجہ کو روزہ رکھے گا تو خدا اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزے کا ثواب لکھے گا۔([132])

نتیجہ بحث یہ کہ حضورؐ نے اپنی امت کی ہدایت اور رہبری کے لیے بحکم خدا حضرت علی ؑ کی امامت و خلافت کا اعلان فرمایا ہے اور چونکہ منصب امامت منصب نبوت و رسالت کی طرح، منصب الٰہی ہے -جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے- تو اس کے تعین کا اختیار بھی صرف خدا کے پاس ہے۔

{ وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ }([133]) اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسند کرتا ہے اور لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے خدا ان کے شرک سے پاک اور بلند تر ہے۔

جس طرح کسی شخص کو ووٹوں یا شوریٰ یا تبلیغات یا طاقت کے بل بوتے پر نبی نہیں بنایا جاسکتا اسی طرح کسی شخص کو مذکورہ چیزوں کے ساتھ امام بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار سوائے متعصب اور جاہل کے کوئی نہیں کرسکتا۔

چونکہ ارشاد رب العزت ہے:{ إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى}([134])

بے شک ہدایت کی ذمہ داری ہم پر ہے۔

اور خالق کائنات بہتر جانتا ہے کہ اس امر کے لیے کس کو منتخب کرے۔

اور وہ ارشاد فرماتا ہے:{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ }۔ اے مومنو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔([135])

تو معلوم ہوا صاحبان امر کی اطاعت بھی اسی طرح ہے جس طرح رسول کی اطاعت ہے۔ یہاں اطاعت کرنے میں کسی قید و شرط کا ذکر نہیں آیا تو معلوم ہوا کہ صاحبان امر بھی رسول کی طرح معصوم ہوتے ہیں اگر معصوم نہ ہوتے تو خدا مطلقاًٍ ان کی اطاعت کرنے کا حکم نہ دیتا۔ اور حضورؐ نے صاحبان امر کی تفسیر بتائی ہے کہ وہ بارہ معصوم امام ہیں جن میں پہلے علی ؑ اور آخری حضرت امام مہدی ؑ ہیں۔ یہی وجہ ہے پوری امت -بلکہ پوری دنیا- حضورؐ کے بارہویں جانشین کے ظہور کی انتظار میں ہے۔

جو بھی ان کے علاوہ مہدویت کا دعوی کرے گا وہ باطل ہے جس طرح حضورؐ کے بارہویں جانشین کو ووٹوں یا شوریٰ یا طاقت کے ذریعے منتخب نہیں کیا جاسکتا اور نہیں مانا جاسکتا اسی طرح حضورؐ کے پہلے جانشین کو بھی ووٹوں سے نہیں بنایا جاسکتا۔([136])

بعبارۃ دیگر کسی نبی کا خلیفہ ووٹوں یا شوریٰ سے نہیں بنا تو سید الانبیاءؐ کا خلیفہ ووٹوں یا شوریٰ سے کیسے منتخب ہوسکتا ہے؟


احادیث

امیر المومنین علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل پر بہت حدیثیں دلالت کرتی ہیں جس میں چند ایک احادیث کو ذکر کیاجاتا ہے کیونکہ طالب حق اور منصف مزاج کے لیے تو ایک ہی دلیل کافی ہوتی ہے اور متعصب ،ہٹ دھرم اور کج فہم بیسیوں دلیلوں سے بھی قانع نہیں ہوتا۔

پہلی حدیث: حدیث غدیر

حضورؐ نے غدیر خم پر علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کر بلند کرکے فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ؛جس کا میں مولا و سردار ہوں پس اس کا علی ؑ بھی مولا و سردار ہے یہ حدیث صحیح ہے بلکہ مشہور اور متواتر ہے کما لا یخفی۔ حدیث غدیر کو کتب ذیل میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

سنن ترمذی،ج۵، ص ۲۹۷؛

سنن ابن ماجہ، ج۱،ص ۴۵؛

المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص ۱۱۰؛

خصائص امیر المومنین للنسائی، ص ۵۰۔ ۹۴۔۹۵؛

مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص ۸۸ و ج۲، ص ۶۷۲؛

مجمع الزوائد، ج۹،ص ۱۰۴۔ ۱۰۵؛

مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۳۶۔ ۳۸۔ ۳۹؛

المناقب خوارزمی، ص ۷۹، ۹۴، ۹۵؛

تفسیر کبیر فخر رازی، ج۳،ص ۶۳۶؛

تفسیر در منثور، ج۵، ص ۱۸۲؛

ذخائر العقبیٰ، ص ۶۷؛

تاریخ الخلفاء سیوطی، ص ۱۸۹؛

تاریخ بغداد، ج۱۴، ص ۲۳۶؛

ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۴۶؛

شواہد التنزیل، ج۱، ص ۱۵۷؛

فرائد السمطین، ج۱، ص ۶۳۔ ۶۶؛

الاصابۃ، ج۱، ص ۳۰۵۔ ۳۷۲، ۵۶۷ و ج ۲، ص ۲۵۷، ۳۸۲، ۴۰۸، ۵۰۹ و ج۳، ص ۵۴۲ و ج ۴، ص ۸۰؛

کفایۃ الطالب، ص ۵۸؛

کتاب الولایۃ للامام الحافظ ابن عقدۃ الکوفی متوفی ۳۳۲؁ جمعہ و رتبہ و قدم لہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین؛

حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم، ج۵، ص ۲۶؛

اسد الغابۃ لابن الأثیر، ج۱، ص ۳۶۹ و ج۳، ص ۲۷۴ و ج۵، ص ۲۰۸؛

الریاض النضرۃ، ج۲، ص ۲۲۲۔ ۲۲۳۔ ۲۲۴؛

سر العالمین للغزالی، ص ۲۱؛

جامع الاصول لابن الاثیر، ج۹، ص ۴۶۸؛

البدایۃ و النہایۃ، ج۵، ص ۲۱۱۔ ۲۱۲۔ ۲۱۳۔۲۱۴ و ج۷، ص ۳۳۴، ۳۳۸، ۳۴۸، ۴۴۸؛

تاریخ الاسلام للذہبی، ج۲، ص ۱۹۶؛

تذکرۃ الحفاظ للذہبی، ج۱، ص ۱۰؛

أسنی المطالب فی احادیث مختلف المراتب، ص ۲۲۱؛

أنساب الاشراف (بلاذری) ج۲، ص ۱۱۲؛

صواعق محرقہ، ص ۲۵؛

میزان الاعتدال، ج۳، ص ۲۹۴؛

الاستیعاب، ج۲، ص ۴۷؛

الشفا للقاضی عیاض، ج۲، ص ۴۱؛

تذکرۃ الخواس، الباب الثانی؛

فتح الباری بشرح صحیح بخاری، ج۷، ص ۹۳؛

تہذیب التہذیب، ج۷، ص ۳۳۷؛

و کتب دیگر۔

نوٹ: حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ کے دن اپنی خلافت پر حدیث غدیر سے مناشدہ فرمایاتھا([137])۔ نیز خلافت کے نزاع پر مقام رحبہ میں بھی حدیث غدیر کا حوالہ دیا تھا اور کئی صحابہ سے اس حدیث کی گواہی دی کہ ہم نے اسے غدیر خم پر حضورؐ سے سنا تھا۔([138])

اہل سنت کے درج ذیل علماء نے حدیث غدیر پر مستقل کتب لکھی ہیں۔

  1. 1.محمد بن جریر الطبری متوفی ۳۱۰ ؁ نے کتاب الولایۃ فی طریق حدیث الغدیر کو تالیف فرمایا ہے جس میں انہوں نے پچھتر (۷۵) طریق اور بقولی ۹۵ طریق سے اس حدیث غدیر کو روایت کیا ہے۔ اس بات کی گواہی ذہبی اور ابن کثیر اور ابن حجر عسقلانی نے دی ہے۔
  2. 2.ابو العباس أحمد بن عقدۃ المتوفی ۳۳۳؁ نے کتاب الولایۃ (الموالاۃ)، فی طرق الحدیث الغدیر کو تالیف فرمایا ہے([139]) جس میں انہوں نے ایک سو پانچ اور بقول بعضی ڈیڑھ سو طریق سے صحابہ سے نقل کیا ہے۔ اہل سنت کے بہت سارے علماء نے اس کتاب کا اپنی کتب میں ذکر کیا ہے اور اس سے احادیث کو نقل کیا ہے۔
  3. 3.ابوبکر جعابی متوفی ۳۵۵ نے کتاب (من روی حدیث غدیر خم) کو تالیف کیا ہے جس میں انہوں نے ایک سو پچیس طریق سے اس روایت کو ذکر کیا ہے۔
  4. 4.الدار القطنی متوفی ۳۸۵ جیسا کہ علامہ گنجی شافعی نے اپنی کتاب کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب کے صفحہ ۶۰ پر ذکر کیا ہے۔ نیز حافظ ابن عقدہ کا بھی ذکر کیا ہے۔
  5. 5.أبو سعید السجستانی متوفی ۴۷۷؁ھ نے کتاب الدرایۃ فی حدیث الولایۃ کو تالیف کیا ہے۔
  6. 6.ابو القاسم عبید اللہ حسکانی نے دعاۃ الہداۃ الی أدا حق الموالاۃ کو دس جزوں میں تالیف فرمایا ہے جیسا کہ خود مؤلف نے اپنی کتاب شواہد التنزیل میں تصریح کی ہے۔
  7. 7.شمس الدین ذہبی متوفی ۷۴۸ کی کتاب کا نام ہے طریق حدیث الولایۃ۔
  8. 8.وکتب دیگر۔

نوٹ نمبر ۱: ہمارے ستائیس شیعہ علماء نے حدیث غدیر پر مستقل کتب تحریر کی ہیں جن میں علامہ امینی کی کتاب الغدیر ہے جو کہ بیس جلدوں میں ہے جن میں ابھی تک گیارہ جلدیں طبع ہوئی ہیں۔

نوٹ نمبر ۲: اہل سنت کے علماء نے دوسری صدی سے لے کر چودہویں صدی تک حدیث غدیر کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے ان علماء کی تعداد تین سو ساٹھ ہےجیسا کہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر ج۱، ص ۷۳ تا ۱۵۱ طبع بیروت میں ذکر کیا ہے۔ ان کے تراجم اور روایات کے مصادر کی تعیین کے لیے عبقات الانوار کے حصہ حدیث غدیر کی طرف رجوع فرما سکتے ہیں۔ مخفی نہ رہے کہ کتاب عبقات الانوار بہت اہمیت کی حامل ہے علامہ امینیؒ صاحب کتاب الغدیر نے اس کتاب سے بہت استفادہ کیا ہے مخفی نہ رہے کہ سید میر حامد حسین بن سید محمد قلی موسوی لکھنوی متوفی ۱۳۰۶؁ھ نے حدیث غدیر کے طریق اور اس کے تواتر اور معنی کو ۱۰۸۰ صفحہ کی دو ضخیم جلدوں میں لکھا ہے جو اِن کی گراں قدر کتاب عبقات کا حصہ ہیں۔

نوٹ نمبر ۳: شیخ سلیمان قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودۃ کے صفحہ ۳۶ پر ذکر کیا ہے کہ علامہ جوینی نے تعجب کیاہے اور کہا ہے کہ میں نے بغداد میں ایک جلد ساز کے ہاتھ میں غدیر کے طرق کے بارے میں ایک کتاب دیکھی جس پر لکھا ہوا تھا کہ اٹھائیسویں جلد ، المجلدۃ الثامنہ و العشرون من طرق قولہ (ص) من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ اور اس کے بعد انتیسویں جلد آرہی ہے۔

مخفی نہ رہے کہ حدیث غدیر سند کے حوالے سے صحیح بلکہ متواتر ہے۔ یہ حدیث ایک طریق سے نقل نہیں ہوئی بلکہ مختلف اسناد سے نقل ہوئی ہے اس حدیث کے طرق اور اسناد کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں اہل سنت کے کئی ایک حفاظ اور محققین نے مستقل کتب بھی تالیف کی ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے۔

صاحبان تحقیق کے لیے حدیث غدیر کی صحت اور کثرت طرق کے ہونے پر اہل سنت کے علماء کی بعض تصریحات کو ذکر کر رہا ہوں:

  1. 1.ابن مغازلی شافعی اپنی کتاب مناقب علی بن ابی طالب کے صفحہ ۴۳ پر اپنے استاد ابی القاسم فضل بن محمد سے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:قال أبو القاسم الفضل بن محمد ہذا حدیث صحیح عن رسول اللہ (ص) و قد روی حدیث غدیر خمّ عن رسو ل اللہ (ص) نحو من مائۃ نفس منہم العشرۃ و ہو حدیث ثابت لا أعرف لہ علّۃ تفرّد علی علیہ السلام بہذہ الفضیلۃ لیس یشرکہ فیہا أحد۔ ابو القاسم فضل بن محمد نے کہا کہ یہ حدیث ، رسول خدا ؐ سے صحیح ہے جس کو تقریباً سو افراد نے نقل کیا ہے جن میں عشرہ بھی شامل ہیں یہ حدیث ثابت ہے اور میں اس فضیلت میں علی علیہ السلام کے یکتا ہونے کی وجہ کو نہیں جانتا (اور یہ ایسی فضیلت ہے کہ) جس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے بعبارۃ دیگر یہ فضیلت صرف علی ؑ کے لیے ہے۔
  2. 2.اہل سنت کے عالم شمس الدین ابو الخیر محمد جزری متوفی ۸۳۳ اپنی کتاب اسمی المناقب فی تہذیب أسنی المطالب فی مناقب الامام أمیر المومنین علی بن أبی طالب علیہ السلام کے صفحہ ۲۲ پر تحریر کرتے ہیں: ہذا حدیث حسن من ہذہ الوجہ صحیح من وجوہ کثیرۃ تواتر عن امیر المومنین علی(ع) وہو متواتر أیضاً عن النبی (ص) رواہ الجمّ الغفیر عن الجمّ الغفر ولا عبرۃ بمن حاول تضعیفہ ممّن لا طلاع لہ فی ہذا العلم (اہل سنت کے عالم علامہ جزری شافعی نے حدیث غدیر کو اسی (۸۰) سلسلوں سے نقل کیا ہے اور (رحبہ) کے دن علی علیہ السلام کے مناشدہ کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں) یہ حدیث اس سند کے اعتبار سے حسن اور دوسری بہت سی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے امیر المومنین (علی) علیہ السلام سے بطور متواتر منقول ہے اور حضور ؐ سے بھی متواتر ہے ایک بڑے گروہ نے اس کو ایک جم غفیر سے نقل کیا ہے اس علم سے ناواقف شخص اگر اس کو ضعیف قرار دے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
  3. 3.حافظ ابن عساکر نے حدیث غدیر کو اپنی کتاب تاریخ دمشق میں متعدد طرق کے ساتھ ذکر کیا (تقریباً تیس طرق کے ساتھ)
  4. 4.حافظ عسقلانی اپنی کتاب تہذیب التہذیب ج۷، ص ۳۳۹ پر لکھتے ہیں :و قد جمعہ ابن جریر الطبری فی مؤلف فیہ اضعاف من ذکر و صححہ وا عتنی بجمع طرقہ ابو العباس ابن عقدۃ فاخرجہ من حدیث سبعین صحابیا أو اکثر۔ اور ابن جریر نے اس (حدیث) کو ایک کتاب میں جمع کیا ہے جس میں مذکورہ افراد سے کئی گنا زیادہ نام شمار کیے ہیں اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ابو العباس ابن عقدہ نے اس کے سلسلوں کو جمع کرنے پر توجہ دی ہے اور ستر (۷۰) یا اس سے زیادہ صحابیوں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
  5. 5.علامہ حسکانی اپنی کتاب شواہد التنزیل ج۱، ص ۱۹۰ پر لکھتے ہیں : و طرق الحدیث مستقصاۃ فی کتاب دعاۃ الہداۃ الی أدا حق الموالاۃ من تصنیفی فی عشرۃ أجزا۔ اس حدیث کے طرق کی مکمل بحث الہداۃ میں ہے جس کی دس جلدیں ہیں۔
  6. 6.نیز عسقلانی اپنی کتاب فتح الباری ج۷، ص ۹۳ پر لکھتے ہیں:و أمّا حدیث (ومن کنت مولاہ فعلی مولاہ فقد أخرجہ الترمذی و النسا۴ی و کثیر الطرق جداً و قد استوعہا ابن عقدۃ فی کتاب مفرد و کثیر من أسانیدہا صحاح و حسان۔ حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ کی تخریج ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور واقعاً اس حدیث کے طرق و اسناد بہت ہیں اس کا مکمل ذکر ابن عقدہ نے ایک مستقل جداگانہ کتاب میں کیا ہے اس حدیث کی بہت ساری سندیں صحیح اور حسن ہیں۔
  7. 7.حافظ معاصر شہاب الدین ابو الفیض احمد بن محمد صدیق حضرمی اپنی کتاب تشنیف الاذان کے صفحہ ۷۷ پر لکھتے ہیں ، اور حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ، نبی کرم ؐ سے متواتر ہے جس کو ساٹھ اشخاص نے نقل کیا ہے اگر ہم سب کی سندیں جمع کرنا چاہیں تو سلسلہ بہت طویل ہوجائے گا۔([140])
  8. 8.اہل سنت کے حافظ گنجی شافعی مقتول ۶۵۸ اپنی کتاب کفایۃ الطالب کے صفحہ ۵۹ پر امام احمد ابن حنبل کی بیان کردہ حدیث غدیر کو زید بن ارقم سے متعدد طرق کے ساتھ نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ احمد نے اس حدیث کو اپنی مسند میں اسی طرح نقل کیا ہے اگر ایک ہی سند کے ساتھ کوئی راوی روایت نقل کرے تو وہی تمہارے لیے کافی ہے چہ جائیکہ اس کے سلسلوں کو احمد جیسا امام جمع کرے۔

نیز ص ۶۰ پر جامعہ ترمذی سے اس کے سلسلوں کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ دارقطنی نے ایسے طرق کو ایک کتاب میں لکھا ہے اور حافظ ابن عقدہ کوفی متوفی ۳۳۳ نے اس کے بارے میں ایک جداگانہ کتاب لکھی ہے اور اہل سیر و تاریخ نے قصہ غدیر کو نقل کیا ہے۔

جن صحابہ نے حدیث غدیر کو روایت کیا ہے ان کے نام ملاحظہ فرمائیں

  1. 1.ابو ہریرۃ الدوسی
  2. 2.ابو لیلی الانصاری
  3. 3.ابو زینب بن عوف الأنصاری
  4. 4.ابو فضالۃ الانصاری
  5. 5.ابو قدامہ الانصاری
  6. 6.ابو عمرۃ بن عمرو بن محصن الانصاری
  7. 7.ابو الہیثم بن التیھان
  8. 8.ابو رافع القطبی مولی رسول اللہ ؐ
  9. 9.ابو ذویب خویلد (أو خالد) بن خالد بن محرث الھزلی
  10. 10.ابوبکر بن قحافہ التیمی
  11. 11.اسامہ بن زید بن حارثہ الکلبی المتوفی سنہ ۵۴
  12. 12.ابی بن کعب الأنصاری الخزرجی
  13. 13.اسد بن زرارۃ الانصاری
  14. 14.اسماء بنت عمیس الخثعیۃ
  15. 15.ام سلمۃ زوج النبیؐ
  16. 16.ام ہانی بنت أبی طالب
  17. 17.ابو حمزۃ انس بن مالک الانصاری الخزرجی (خادم النبیؐ المتوفی ۹۳ ھ)
  18. 18.بُراء بن عازب الأنصاری الأوسی المتوفی سنۃ ۷۲ ھ
  19. 19.بریدۃ بن الحصیب أبو سہل الاسلمی المتوفی سنۃ ۶۳ ھ
  20. 20.ابو سعید ثابت بن ودیعۃ الأنصاری المدنی
  21. 21.جابر بن سمرۃ بن جنادۃ أبو سلیمان السوائی

22. جابر بن عبد اللہ

  1. 23.جبلۃ بن عمرو الأنصاری

24.جبیر بن مطعم بن عدی القرشی النوفلی

25. جریر بن عبد اللہ بن جابر البجلی

26. ابوذر جندب بن جنادۃ الغفاری

  1. 27.ابو جنیدۃ جندب بن عمرو بن مازن الانصاری

28.حبۃ بن جوین أبو قدامۃ العرنی البجلی

  1. 29.حبشی بن جنادۃ السلولی

30.حبیب بن بدیل بن ورقاء الخزاعی

  1. 31.حذیفہ بن اُسید أبو تسریحۃ الغفاری
  2. 32.حذیفۃ بن الیمان الیمانی المتوفی سنہ ۳۶ ھ
  3. 33.حسان بن ثابت۔ جس نے غدیر خم پر امیر المومنین علی ؑ کی شان میں قصیدہ پڑھا تھا۔([141])
  4. 34.الامام الحسن المجتبیٰ علیہ السلام
  5. 35.الامام الحسین علیہ السلام
  6. 36.ابو ایوب خالد بن زید الانصاری
  7. 37.ابو سلیمان خالد بن الولید بن المغیرہ المخزومی
  8. 38.خزیمۃ بن ثابت الانصاری ذو الشہادتین۔ جنگ صفین میں حضرت علی ؑ کے ہمراہ ۳۷ھ؁ میں شہید ہوا

39.ابو شریح خویلد بن عمرو الخزاعی متوفی سنہ ۶۸ ھ

40. رفاعۃ بن عبد المنذر الانصاری

  1. 41.زبیر بن عوام

42.زید بن ارقم الانصاری

  1. 43.ابو سعید زید بن ثابت
  2. 44.زید (یزید) بن شراحبیل انصاری
  3. 45.زید بن عبد اللہ أنصاری

46.ابو اسحاق سعد بن أبی وقاص

  1. 47.سعد بن جنادۃ عوفی
  2. 48.سعد بن عبادۃ انصاری خزرجی متوفی سنہ ۱۴ یا ۱۵ ھ ، یہ جلیل القدر صحابی ہے جس نے شیخین کی بیعت نہیں کی۔

49. ابو سعید سعد بن مالک انصاری خدری

50. سعید بن زید قرشی عدوی

  1. 51.سعید بن سعد بن عبادۃ انصاری

52. ابو عبد اللہ سلمان فارسی، متوفی سنہ ۳۶۔ ۳۷

  1. 53.ابو مسلم سلمۃ بن عمرو بن اکوع اسلمی متوفی سنہ ۷۴ ھ
  2. 54.ابو سلیمان سمرۃ بن جند فزاری

55.سہل بن حنیف انصاری أوسی متوفی، سنہ ۳۸ ھ

56. ابو العباس سہل بن سعد انصاری خزرجی ساعدی متوفی سنہ ۹۱ ھ

  1. 57.ابو أمامہ صدی بن عجلان باہلی (سنۃ ۸۶ ہجری میں شام میں وفات پائی)
  2. 58.ضمیرۃ اسدی

59. طلحۃ بن عبید اللہ تمیمی

  1. 60.عامر بن عمیر نمیری
  2. 61.عامر بن لیلی بن ضمرۃ

62. عامر بن لیلی غفاری

  1. 63.أبو الطفیل عامر بن وائلۃ لیثی

64.عائشۃ بنت أبی بکر

65. عباس بن عبد المطلب بن ہاشم متوفی سنہ ۳۲ ھ

66. عبد الرحمن بن عبد رب انصاری

  1. 67.ابو محمد عبد الرحمن بن عوف قرشی زہری،متوفی ۳۱۔ ۳۲ ھ

68.عبد الرحمن بن یعمر دیلمی

  1. 69.عبد اللہ بن أبی عبد الاسد مخزومی

70.عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء، حضرت علی ؑ کے ہمراہ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔

  1. 71.عبد اللہ بن بشر (بسر) مازنی
  2. 72.عبد اللہ بن ثابت انصاری
  3. 73.عبد اللہ بن جعفرطیار متوفی ۸۰ھ؁
  4. 74. عبد اللہ بن حنطب قرشی مخزومی
  5. 75.عبد اللہ بن ربیعۃ
  6. 76.عبد اللہ بن عباس متوفی ۶۸ ھ؁
  7. 77.عبد اللہ بن أبی أوفی علقمہ اسلمی متوفی سنہ ۸۶۔ ۸۷ ھ
  8. 78.ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن خطاب عدوی متوفی ۷۲۔ ۷۳ھ

79.عبد اللہ بن یامیل (یامین)

80. عثمان بن عفان متوفی ۳۵ھ؁

  1. 81.ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مسعود ہذلی متوفی ۳۲۔ ۳۳ ھ (جنۃ البقیع میں دفن ہیں)

82.عبید بن عازب أنصاری

  1. 83.ابو طریف عدی بن حاتم متوفی ۶۸ ھ
  2. 84.عطیۃ بن بسر مازنی
  3. 85.عقبۃ بن عامر جھنی

86.امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؑ

  1. 87.ابو الیقظان عمار بن یاسر عنسی
  2. 88.عمر بن أبی سلمۃ بن عبد الاسد مخزومی متوفی ۸۳ ھ

89. عمر بن خطاب

  1. 90.عمارۃ خزرجی انصاری
  2. 91.ابو نجید عمران بن حصین خزاعی متوفی ۵۲ ھ
  3. 92.عمرو بن حمق خزاعی کوفی

93.عمرو بن شراحبیل

94. عمرو بن عاص

95. عمرو بن مرّہ جھنی

  1. 96.حضرت فاطمۃ الزہرا علیہا السلام

97.فاطمہ بنت حمزہ بن عبد المطلب

98. قیس بن ثابت بن شماس انصاری

  1. 99.قیس بن سعد بن عبادۃ انصاری خزرجی

100.أبو محمد کعب بن عجرۃ انصاری مدنی متوفی ۵۱ ھ

  1. 101.ابو سلمۃ مالک بن حویرث لیثی متوفی ۷۴ ھ
  2. 102.مقدام بن عمرو کندی زہری متوفی ۳۳ھ
  3. 103.ناجیۃ بن عمرو الخزاعی
  4. 104.أبو برزۃ فضلۃ بن عتبۃ اسلمی متوفی ۶۵ ھ
  5. 105.نعمان بن عجلان انصاری
  6. 106.ہاشم مرقال بن عتبۃ بن أبی وقاص مدنی
  7. 107.ابو وسمۃ وحشی بن حرب حبشی حمصی
  8. 108.وہب بن حمزۃ

109.ابو جحیفۃ وہب بن عبد اللہ سوائی (وہب الخیر) متوفی ۷۴ھ

  1. 110.ابو مُرزام یعلی بن مرۃ بن وہب ثقفی

نوٹ: مذکوروہ افراد کی روایات کے حوالے جات کی تفصیل کے لیے علامہ امینی کی کتاب الغدیر ج۱، ص ۱۴ تا ۶۰ طبع بیروت کی طرف رجوع فرما سکتے ہیں۔

سید بن طاووس نے اپنی کتاب طرائف میں ابن عقدۃ کی کتاب الولایۃ سے چند اور افراد کا بھی ذکر کیا ہے جن کے نام یہ ہیں:

  1. 111.عثمان بن حنیف انصاری

112. رفاعۃ بن رافع انصاری

  1. 113.أبو الحمراء خادم النبیؐ

114.جندب بن سفیان عقلی بجلی

115. امامۃ بن زید بن حارثہ کلبی

116. عبد الرحمن بن مدلج۔

نوٹ: مقام رحبہ پر حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور ان کو فرمایا میں تمہیں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں جس نے غدیر خم کے دن رسول خدا ﷺ سے حدیث غدیر کو سنا ہے وہ گواہی دے تو وہاں تیس صحابہ نے گواہی دی۔([142])

ان تابعین کے نام جنہوں نے حدیث غدیر کو روایت کیا ہے

  1. 1.ابو راشد حبرانی شامی
  2. 2.ابو سلمہ عبد اللہ (اسماعیل) بن عبد الرحمن بن عوف زہری مدنی متوفی ۹۴ ھ
  3. 3.ابو سلیمان مؤذن
  4. 4.ابو صالح سلمان ذکوان مدینی متوفی ۱۰۱ ھ
  5. 5.ابو عنفوانۃ مازنی
  6. 6.ابو عبد الرحیم کندی
  7. 7.اصبغ بن نباتۃ تمیمی کوفی
  8. 8.ابو لیلی کندی
  9. 9.ایاس بن نذیر
  10. 10.جمیل بن عمارۃ
  11. 11.حارثۃ بن نصر
  12. 12.حبیب بن أبی ثابت اسدی کوفی

13. حارث بن مالک

  1. 14.حسین بن مالک بن حویرث
  2. 15.حکم بن عتیبۃ کوفی کندی متوفی ۱۱۴ یا ۱۱۵ ھ
  3. 16.حمیدی بن عمارۃ خزرجی أنصاری

17. حمید الطویل أبو عبیدۃ بن أبی حمید بصری متوفی سنہ ۱۴۳ ھ

  1. 18.خثیمہ بن عبد الرحمن جعفی
  2. 19.ربیعۃ جرشی

20. ابو المثنی ریاح بن حارث نخعی کوفی

  1. 21.ابو عمرو اذان کندی بزاز متوفی سنہ ۸۲ ھ

22. ابو مریم زرّبن جیش اسدی

  1. 23.زیاد بن أبی زیاد

24.زیاد بن تبع ہمدانی کوفی

25.سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب عدوی متوفی ۱۰۶ ھ

26. سعید بن جبیر أسدی کوفی

  1. 27.سعید بن أبی حدّان

28.سعید بن مسیب قرشی مخزومی متوفی ۹۴ ھ

29. سعیدبن وہب ہمدانی کوفی متوفی ۷۶ ھ

30.ابو یحیی سلمۃ بن کھیل حضرمی کوفی متوفی ۱۲۱ ھ

31. ابو صادق سلیم بن قیس ہلالی متوفی ۹۰ ھ

  1. 32.ابو محمد سلیمان بن مہران اعمش متوفی ۱۴۷ یا ۱۴۸ ھ
  2. 33.سہم بن حصین أسدی
  3. 34.شہر بن حوشب
  4. 35.ضحاک بن مزاحم ہلالی متوفی ۱۰۵
  5. 36.طاووس بن کیسان یمانی جندی متوفی ۱۰۶ ھ
  6. 37.طلحۃ بن منصرف أیامی کوفی متوفی ۱۱۲ ھ
  7. 38.عامر بن سعد بن أبی وقاص مدنی متوفی ۱۰۴ ھ

39.عائشہ بنت سعد بن أبی وقاص متوفی ۱۱۷ ھ

40.عبد المجید بن منذر بن جارود عبدی

  1. 41.ابو عمارۃ عبد خیر بن یزید ہمدانی کوفی

42.عبد الرحمن بن أبی لیلی متوفی سنہ ۸۲ یا ۸۳ یا ۸۶ ھ

  1. 43.عبد الرحمن سابط،جس کو ابن عبد اللہ بن سابط جمحی مکی کہا جاتا تھا ۱۱۸ ھ میں وفات پائی
  2. 44.عبد اللہ بن أسعد بن زرارۃ
  3. 45.أبو مریم عبد اللہ بن زیاد أسدی کوفی

46.عبد اللہ بن شریک عامری کوفی

  1. 47.أبو محمد عبد اللہ بن محمد بن عقیل ہاشمی مدنی
  2. 48.عبد اللہ بن یعلی بن مرّۃ

49.عدی بن ثابت أنصاری

50. ابو الحسن عطیۃ بن سعد بن جنادۃ عوفی کوفی متوفی ۱۱۱ھ

  1. 51.علی بن زید بن جدعان بصری متوفی سنہ ۱۲۹ یا ۱۳۱ ھ

52. ابو ہارون عمار بن جوینی عبدی متوفی سنہ ۱۳۴ ھ

  1. 53.عمر بن عبد العزیز اموی متوفی ۱۰۱ ھ
  2. 54.عمر بن عبد الغفار

55.عمر بن علی علیہ السلام

56.عمرو بن جعدۃ بن ہبیرۃ

  1. 57.عمرو بن مرۃ أبو عبد اللہ کوفی ہمدانی متوفی ۱۱۶ ھ
  2. 58.عمرو بن عبد اللہ ابو اسحاق سبیعی ہمدانی متوفی ۱۲۷ ھ

59. عمرو بن میمون أودی

60. عمیرۃ بنت سعد بن مالک

  1. 61.عمیرۃ بنت سعد ہمدانی

62. عیسی بن طلحۃ بن عبید اللہ تمیمی

  1. 63.ابوبکر فطر بن خلیفۃ مخزومی

64.قبیصۃ بن ذؤیب متوفی ۸۶ ھ

65.أبو مریم قیس ثقفی مداینی

66. محمد بن عمر بن علی علیہ السلام

  1. 67.ابو الضحی مسلم بن صبیح ہمدانی کوفی عطار

68.مسلم ملائی

69. ابو زرارۃ مصعب بن سعد بن أبی وقاص زہری مدنی متوفی ۱۰۳ھ؁

70.مطلب بن عبد اللہ قرشی مخزومی مدنی

71. مطر ورّاق

  1. 72.معروف بن خربوذ
  2. 73.منصور بن ربعی
  3. 74.مہاجر بن مسمار زہری مدنی
  4. 75.موسی أکتل بن عمیر نمیری
  5. 76.ابو عبد اللہ میمون بصری مولی عبد الرحمن بن سمرۃ
  6. 77.نذیر ضبی کوفی
  7. 78.ہانی بن ہانی ہمدانی کوفی

79.أبو بلج یحیی بن سلیم فزاری واسطی

80.یحیی بن جعدۃ بن ہبیرۃ مخزومی

  1. 81.یزید بن أبی زیاد کوفی متوفی سنہ ۱۳۶ ھ

82.یزید بن حیان تیمی کوفی

  1. 83.ابو داؤد یزید بن عبد الرحمن بن اودی کوفی
  2. 84.ابو نجیع یسار ثقفی متوفی سنہ ۱۰۹ ھ

نوٹ: مذکورہ رواۃ کی تفصیل اور کتب اہل سنت سے ان کی روایات کے حوالا جات کے لیے الغدیر ج۱، ص ۶۲تا ۷۲ طبع بیروت کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

حدیث دوم: حدیث منزلت:از صحیح بخاری کتاب المغازلی، ان رسول اللہ (ص) خرج الی تبوک و استخلف علیّا فقال أتخلفنی فی الصبیان و النساء قال ألا ترضی ان تکون منّی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الّا انہ لا نبی بعدی۔([143])

بے شک رسول خدا ﷺ جنگ تبوک کی طرف نکلے اور حضرت علی ؑ کو (اپنا) خلیفہ مقرر فرمایا ، حضرت علی ؑ نے عرض کیا:کیا آپ ؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ فرمایا : کیا تو راضی نہیں ہے کہ تمہیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ: قال النبی (ص) لِعَلیٍّ أما ترضی ان تکونَ مِنّی بمنزلۃ ہارونَ من موسی؟

تہذیب التہذیب عسقلانی، ج۷، ص ۳۳۷ کی عبارت:انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی۔

کفایۃ الطالب صفحہ ۲۸۳ اور خصائص نسائی صفحہ ۷۸ کی عبارت:أما ترضی ان تکون منّی بمنزلۃ ہارون من موسی الّا انہ لا نبوۃ بعدی۔ اور اسی کتاب کے صفحہ ۲۸۱ پر یہی حدیث موجود ہے البتہ أما کی جگہ پر ألا کے ساتھ۔

أسمی المناقب، صفحہ ۴۸ اور خصائص نسائی ص ۷۷ کی عبارت:أو ما ترضی ان تکون فی بمنزلۃ ہارون من موسی الا النبوّۃ؟

ملخص حدیث منزلت یہ کہ حضورؐ نے علی ؑ کو فرمایا کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی منزلت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر میرے بعد نبوت نہیں ہے۔ یعنی نبوت کے علاوہ جو مناصب، مناقب اور مراتب حضرت ہارون کے لیے تھے وہی آپ کو بھی حاصل ہیں حضرت ہارون ، حضرت موسیٰ کے بلافصل خلیفہ تھے حضرت علی ؑ بھی حضورؐ کے بلافصل خلیفہ ہیں۔ حضرت ہارون معصوم تھے حضرت علی ؑ بھی معصوم ہیں۔

  • یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت پر سب کا اتفاق ہے۔ چنانچہ جزری اپنی کتاب أسمی المناقب کے صفحہ ۴۸ پر لکھتے ہیں: متفق علی صحتہ بمعناہ من حدیث سعد بن ابی وقاص؛
  • کفایۃ الطالب صفحہ ۲۸۳ میں اہل سنت کے عالم گنجی لکھتےہیں کہ ہذا حدیث متفق علی صحتہ ۔۔۔ و اتفق الجمیع علی صحتہ حتی صار ذلک اجماعا منہم؛ اس حدیث کی صحت اتفاقی ہے سب نے اس کی صحت پر اتفاق کیا ہے یہاں تک کہ ان کا اجماع ہوگیا ہے۔
  • ابن عبد البرّ اپنی کتاب استیعاب، ج۲، ص ۴۶پر لکھتے ہیں:"روی قولہ انت من بمنزلۃ ہارون منی موسیٰ " جماعۃ من الصحابہ وہو من اثبت الاثار و اصحّہا۔ عسقلانی اپنی کتاب فتح الباری ۷/ ۹۲ پر لکھتے ہیں کہ (حدیث منزلت) کی اسناد قوی ہیں۔
  • حاکم حسکانی اپنی کتاب شواہد التنزیل ۱/ ۱۹۹ میں لکھتےہیں: ہذا ہو الحدیث المنزلۃ الذی کان شیخنا ابو حازم الحافظ یقول خرجتہ بخمسۃ ألاف اسناد؛ یہ وہ حدیث منزلت ہے جس کے بارے میں ہمارے شیخ ابو حازم حافظ کہتے تھے کہ میں نے اس کی تخریج پانچ ہزار اسناد کے ساتھ کی ہے۔
  • حاکم نیشاپوری اپنی کتاب مستدرک ۲/ ۳۳۷ پر لکھتےہیں:ہذا حدیث دخل فی حد التواتر؛ یہ حدیث تواتر کی حدّ میں داخل ہے۔

نوٹ: علامہ سبط ابن جوزی نے بھی اپنی کتاب تذکرۃ الخواص باب ثانی میں اس حدیث کو صحیح اور مشہور آثار سے تسلیم کیا ہے۔ اور ائمہ صحاح نے اس حدیث کو اپنی صحاح میں نقل کیا ہے۔

رواۃ حدیث: اس حدیث منزلت کے راوی کثیر تعداد میں ہیں جن کو حافظ دمشقی نے اپنی کتاب تاریخ دمشق میں نقل کیاہے جن کو حافظ گنجی نے بھی اپنی کتاب کفایۃ الطالب ص ۲۸۵ پر نقل کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

روی الحافظ الدمشقی فی کتابہ قول النبی (ص) لعلیٍ (ع) انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ عن عدد کثیر من اصحاب رسول اللہ (ص) منہم عمرو، علی و سعد و ابوہریرہ وابن عباس و ابن جعفر و معاویۃ و جابر بن عبد اللہ و أبو سعید الخدری و البراء بن عازب و زید بن ارقم و جابر بن سمرۃ و أنس بن مالک۔ و زید بن أوفی و نبیط بن شریط و مالک بن الحویرث و أم سلمہ و أسما بنت عمیس و فاطمۃ بنت حمزہ و غیرہم و ذکر لکل واحد فہم طرقا و اتحد معنی الجمیع۔

مخفی نہ رہے کہ حدیث منزلت بہت طرق سے منقول ہے۔ بعض محققین نے حدیث منزلت کی طریق سعد بن ابی وقاص کے علاوہ بھی پچاس دیگر طرق کو ذکر کیا ہے([144])۔

مخفی نہ رہے کہ اس حدیث منزلت کو حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں دس مرتبہ فرمایا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے آباء طاہرین علیہم السلام سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے دس مقامات پر حضرت علی ؑ کی شان میں فرمایا:انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی: کہ تمہیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی([145])۔

وہ دس مقامات درج ذیل ہیں:

  1. 1.بوقت ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
  2. 2.بوقت مواخات بین الاصحاب
  3. 3.روز خیبر
  4. 4.روز غدیر
  5. 5.روز سد الابواب
  6. 6.سلمان صحابی کو خطاب کرکےفرمایا
  7. 7.عقیل، جعفر اور علی ؑ سے اپنی محبت کرنے کی علت کے بیان کے وقت
  8. 8.بوقت ارشاد حدیث لحمہ لحمی
  9. 9.بوقت ارشاد یا علی (ع) انت اول المؤمنین ایمانا و اوّل المسلمین اسلاما
  10. 10.جنگ تبوک پر جاتے ہوئے۔

دلالت حدیث منزلت

مخفی نہ رہے کہ حدیث منزلت میں لفظ منزلت ہارون کی طرف مضاف ہے اور اس میں عموم پایا جاتا ہے۔ یعنی جو مناصب، منازل حضرت ہارون کے لیے تھیں وہی حضرت علی ؑ کے لیے بھی ثابت ہیں حضرت ہارون، حضرت موسیٰ کے وزیر اور خلیفہ تھے حضرت علی ؑ بھی پیامبر اسلام ؐ کے وزیر اور خلیفہ بلافصل ہیں اور حضرت علی ؑ کے بارے میں آپ نے فرمایا:انت اخی فی الدنیا و الاخرۃ ؛ اے علی ؑ آپ میرے دنیا و آخرت میں بھائی ہیں۔ ([146])

حضرت ہارون کی اطاعت ، امت حضرت موسیٰ پر واجب تھی، حضرت علی ؑ کی اطاعت بھی واجب ہے حضرت ہارون امت موسی میں سب سے زیادہ علم اور فضیلت رکھتےتھے اسی طرح حضرت علی ؑ بھی امت محمد ﷺ میں سب سے اعلم اور افضل ہیں۔ امت موسیٰ پر حضرت ہارون کی مخالفت حرام تھی۔ امت محمد ؐ پر حضرت علی ؑ کی مخالفت حرام ہے جس طرح حضرت موسیٰ کے کوہ طور جانے کے بعد حضرت ہارون مظلوم ہوگئے تھے اسی طرح حضورؐ کے بعد حضرت علی ؑ بھی مظلوم ہوگئے۔ حضرت ہارون معصوم تھے حضرت علی ع بھی معصوم ہیں، حدیث منزلت میں استثناء صرف نبوت کے حوالے سے ہے کہ حضرت ہارون نبی بھی تھے لیکن حضورؐکے بعد نبوت نہیں ہے لہذا حضرت علی ؑ نبی نہیں ہیں۔ رہا مسئلہ کہ حضرت ہارون ؑ، حضرت موسیٰ کی زندگی میں رحلت کر گئے تھے تو یہ چیز، حضرت علی ؑ کا حضورؐ کے بعد بھی بلافصل خلیفہ ہونے سے منافات نہیں رکھتی چونکہ اگر حضرت ہارون زندہ رہتے تو جس طرح حضرت موسیٰ کی زندگی میں ان کے خلیفہ تھے ان کی موت کے بعد بھی ان کے خلیفہ ہوتے حضرت ہارون، حضرت موسیٰ کے خلیفہ بھی تھے اور نبی بھی تھے۔

حدیث منزلت میں حضورؐ نے نبوت کو مستثنیٰ کیا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے لہذا علی علیہ السلام نبی نہیں ہوں گے لہذا حدیث میں اتصال نبوت کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ خلافت کے حوالے سے ہے کہ ہارون موسیٰ کے خلیفہ تھے اور حضورؐ کے خلیفہ حضرت علی ع ہیں۔ اس کی تصریح اہل سنت کے معروف عالم ملاں علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ ۱۱/ ۳۳۶ پر یوں کی ہے: معنی الحدیث انت متصل بی نازل منی منزلۃ ہارون من موسیٰ و فیہ تشبیہ مبہم بیّنہ بقولہ الا انہ لا نبی بعدی فعرف ان الاتصال المذکورہ بینہما لیس من جہۃ النبوۃ بل من جہۃ ما دونہا و ہو الخلافۃ؛حدیث کا معنی یہ ہے کہ اے علی ؑ! تو میرے ساتھ متصل ہے اور تجھ کو میرے ساتھ ہر وہ منقبت و منزلت حاصل ہے جو ہارون ؑ کو موسیٰ ؑ سے حاصل تھی اور اس کلام میں تشبیہ مبہم ہے جس کو حضورؐ نے الّا انہ لا نبی بعدی سے بیان فرمایا ہے پس معلوم ہوا کہ اتصال مذکورہ حضورؐ اور حضرت علی علیہ السلام میں نبوت کی جہت سے نہیں ہے بلکہ نبوت کے علاوہ ہے اور وہ خلافت ہے پس دونوں میں اتصال خلافت سے ہے۔ اور اس چیز کی تصریح فتح الباری ۷/ ۹۳ اور ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اور دیگر کتب میں بھی موجود ہے۔

مخفی نہ رہے کہ مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کا بعنوان خلیفہ رہنا تشریفاتی نہیں تھا بلکہ ضروری اور لازمی تھا چنانچہ برا اور زید بن ارقم کی حدیث کی ابتداء میں ہے کہ حضورؐ نے علی علیہ السلام کو فرمایا:لا بد أن اقیم أو تقیم؛ مدینہ میں میرا یا آپ کا رہنا ضروری ہے۔ ([147])

مدینہ چونکہ دار الاسلام اور مرکز تھا وہاں سب امور کے انتظامات کے لیے حضرت علی ؑ خلیفہ تھے نہ صرف حضورؐ کے اہل و عیال میں خلیفہ تھے بلکہ مدینہ کے امور کی نسبت بھی خلیفہ تھے۔ چنانچہ عسقلانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں خلفہ رسول اللہ ﷺ علی المدینۃ ؛ رسول خداؐ نے ان کو مدینہ میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔([148])

اور ابن عبد بر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: الا تبوک خلفہ رسول اللہ ؐ علی المدینۃ و علی عیالہ و قال لہ انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی الّا انہ لا نبی بعدی۔ ([149])

ملخص یہ کہ حضورؐ (علی ؑ) کو مدینہ اور اپنے عیال میں جنگ تبوک کے موقع پر خلیفہ بنا گئے تھے۔

حدیث منزلت کے مدارک

صحیح بخاری (باب مناقب علی بن ابی طالب)

صحیح مسلم ج۷، ص ۱۲۱

سنن ترمذی، ج۵، ص ۹۴۱

المستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۰۹، ۱۳۳، بسند صحیح

خصائص امیر المومنین علی بن ابی طالب (للنسائی) ص ۷۶۔ ۷۷۔ ۷۸۔ ۷۹۔ ۸۰۔ ۸۱۔ ۸۲۔ ۸۳۔ ۸۴۔ ۸۵

مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۷۴

الاستیعاب، ج۲، ص ۴۶ (باب علی ؑ)

فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج۷، ص ۸۸

کنز العمال، ج۱۳، ص ۱۶۳

مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۴۴۔ ۴۵۔ ۴۶۔ ۴۷۔ ۴۸۔ ۴۹۔ ۵۰۔ ۵۱۔ ۵۲

کفایۃ الطالب ، ص ۲۸۲۔ ۲۸۳

المناقب خوارزمی، ص ۱۰۸، ۱۳۳، ۱۳۹، ۱۵۸

مناقب علی بن ابی طالب و ما نزل من القرآن فی علیٍ لابن مردویہ ص ۱۱۲

تذکرۃ الخواص (باب ثانی)

البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر دمشقی، حوادث سنہ ۹ ھ و سنہ ۴۰ ھ

حلیۃ الاولیاء، ج۷، ص ۱۰۵۔ ۱۹۶ (حالات شعبہ بن حجاج)

سنن کبری بیہقی، ج۹، ص ۴۰

ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۱، ص ۳۰۶ تا ۳۹۰

شواہد التنزیل ۱، ص ۱۵۰ (آیت اطاعت کی تفسیر میں)

فرائد السمطین۱، ص ۳۷۷

طبقات لابن سعد، ج۳، ص ۲۴

مشکوۃ شریف، ج۳، ص ۲۵۸

و کتب دیگر

نوٹ:شوریٰ کے دن حضرت علی ؑ نے اپنے مناشدہ میں اپنی خلافت پر حدیث منزلت سے بھی استدلال کیا ہے۔ کتاب الولایۃ لابن عقدۃ الکوفی، ص ۱۷۶۔

نتیجۃ الکلام

کہ حضرت ہارون ، حضرت موسیٰ کے وزیر اور خلیفہ تھے([150]) حضرت ہارون ووٹوں کے ذریعہ وزیر اور خلیفہ نہیں بنے۔ بلکہ حضر ت موسیٰ نے خدا سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنادے اور کوہ طور پر جاتے ہوئے حضرت موسیٰ نے ہارون کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ میری قوم یعنی (امت) کی اصلاح کرتے رہنا۔

حضرت ہارون وزارت اور خلافت کے منصب کے علاوہ نبی بھی تھے پیغمبر اسلامؐ نے حدیث منزلت میں حضرت علی علیہ السلام کو فرمایا تجھے مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو ہارون کوموسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔ پس حدیث میں اتصال از جہت خلافت کے ہے نہ کہ از جہت نبوت کے۔ یعنی جس طرح ہارون نص کے ساتھ، حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے اسی طرح تم بھی میرے خلیفہ و جانشین ہو نص ّ کے ساتھ۔

اور خصائص نسائی صفحہ ۶۴ پر حدیث منزلت میں و انت خلیفتی تو میرا خلیفہ ہے کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ نیز حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :ان علیا منی و انا منہ و ہو ولی کل مؤمن من بعدی فلا تخالفوہ فی حکمہ؛ بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی ؑ سے ہوں اوروہ میرے بعد ہر مومن کے ولیّ (حاکم) ہیں پس ان کے حکم کی مخالفت نہ کرنا۔([151])

چنانچہ ترمذی نےبھی حضورؐ کے فرمان کو اپنی سنن میں نقل کیا ہے:ان علیاً منی و انا منہ و ہو ولیّ کل مؤمن بعدی([152])؛ بے شک علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی و حاکم ہیں۔

جب رسول خدا ﷺ نے حضرت علی ؑ کو اپنا خلیفہ مقرر فرما دیا تھا تو پھر حضورؐ کی رحلت کے بعد ان کا جنازہ چھوڑ کر([153]) سقیفہ جانے کی کیا ضرورت تھی؟

سوال: حضورؐ کے بعد لوگ، حضرت علی ؑ کی خلافت سے کیوں منحرف ہوگئے تھے؟

جواب: حضور کی اس پیشگوئی پر اچھی طرح غور فرمائیں:

ایک نسبۃ طولانی حدیث کے ذیل میں ہے: فلما خلا لہ الطریق اعتنقنی ثم أجہش باکیا فقلت یا رسول اللہ ما یبکیک؟ قال ضغائن فی صدور اقوام لا یبدونہا لک الا بعدی فقلت فی سلامۃ من دینی؟ قال فی سلامۃ من دینک۔ رواہ ابن عساکر فی تاریخہ۔

اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں قال ضغائن فی صدور رجال علیک، لن یبدوہا لک الامن بعدی الخ۔ رواہ ایضاً ابن عساکر([154])۔ ملخص یہ کہ خود حضرت علی ؑ سے روایت ہے کہ رسول خدا اور میں ایک دفعہ مدینہ کی بعض گلیوں میں کسی کام کے لیے چل رہے تھے ہم ایک باغ کے قریب سے گزرے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ: یہ باغ کتنا خوبصورت ہے؟ حضورؐ نے مجھ سے فرمایا کہ آپ کے لیے جنت میں اس سے بھی زیادہ حسین باغ ہے اسی طرح ہم نے سات باغ دیکھے اور آنجنابؐ مجھے بشارت دیتے رہے کہ تمہارے لیے جنت میں ان سے بھی خوبصورت باغات ہیں ایک مقام پر راستہ بالکل خالی ہوگیا، پیغمبرؐ نے مجھے گلے لگایا اور رونے لگے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپؐ کو کس چیز نے رلایا ہے آپؐ نے فرمایا لوگوں کے دلوں میں آپ کے متعلق کینے ہیں جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ میں نے عرض کیا (لوگوں کے کینوں اور بغض کے باوجود) اس میں میرے دین کی سلامتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں آپ کے دین کی سلامتی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت علی ؑ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ان حالات میں ، میں کیا کروں؟ فرمایا: صبر کرنا۔ ترجمۃ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر ، ج۲، ص ۳۳۵۔

قال علی عہد الی النبی(ص) أنّ الامّۃ ستعذربک من بعدی، رواہ ابن عساکر فی تاریخہ([155])۔

حضرت علی ؑ فرماتے ہیں حضورؐ نے جو مجھ سے عہد کیے (ان میں سے) ایک یہ ہے کہ بالتحقیق امت، میرے بعد تجھ سے عذر کرے گی۔ حاکم نیشاپوری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ نیز اہل سنت کی کتب میں یہ بھی موجود ہے کہ حضورؐ نے فرمایا (اے علی ؑ) لوگوں کے دلوں میں تیرے لیے کینے ہیں جن کو وہ میرے بعد ظاہر کریں گے([156])۔ جیسا کہ اوپر بھی اس چیز کا ذکر گزر چکا ہے۔

حضرت علی ؑ کی منزلت حضرت ہارون جیسی ہے جس طرح حضرت موسیٰ کے کوہ طور جانے کے بعد ان کی قوم ان کے خلیفہ حضرت ہارون سے منحرف ہوکر سامری کے گوسالہ کی پرستش کرنے لگی تھی اسی طرح حضورؐ کے بعد لوگوں نے حدیث غدیر کو فراموش کردیا اور دنیا کی خاطر، حضرت علی ؑ سے منحرف ہوگئے۔ ([157])

منقول ہے کہ حضورؐ کے بعد لوگ نہ تنہا حضرت علی ؑ کو سلام نہیں کرتے تھے بلکہ آنجناب ؑ کے سلام کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔


دوسری حدیث ،حدیث ثقلین

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النبی (ص) مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ و نَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمَّمن ثُمَّ قَالَ كَأَنِّي دُعِيتُ فَأَجَبْتُ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي اہل بَیۡتِی، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِّي فِيهِمَا فَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ وَ أَنَا مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيِّ رضی اللہ عنہ فَقَالَ مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَهَذَا وَلِيُّهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ ۔([158])

بعض روایات میں: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ اِلی الأرضِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي و لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِّي کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

اور بعض روایات میں: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمۡ خَلِیۡفَتَین کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔([159])،([160])

سند کے لحاظ سے حدیث ثقلین صحیح اور ناقابل انکار ہے۔

دونوں روایتوں کا ملخص یہ کہ زید بن ارقم نے کہا جب رسول خدا ﷺ حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مقام غدیر خم پر سایہ بان کے برپائی کا حکم دیا پس اس کا انتظام کیا گیا۔

پھر فرمایا: میں بلایا گیا ہوں پس جانے والا ہوں اور تم میں دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے ان سے تمسک رکھا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

ایک ان میں دوسرے سے بڑی ہے (ان میں ایک) کتاب اور (دوسرے) میرے اہل بیت ؑ عترت ہیں پس میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد ان سے کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو اور وہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر آئیں گے۔

پھر فرمایا: بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا مولا (حاکم) ہوں پھر حضرت علی ؑ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا جس کا میں ولی (حاکم) ہوں پس اس کا یہ علی ؑ بھی ولی و حاکم ہے۔ اے اللہ! جو اس کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس کو دشمن رکھ۔

حدیث ثقلین کے حوالہ جات

درج ذیل کتب میں حدیث ثقلین کو مختلف الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

  1. 1.صحیح مسلم، باب فضائل علی بن ابی طالب ؑ، ج۳، ص ۵۲۲، طبع کراچی
  2. 2.سنن ترمذی، ج۵، ص ۳۲۹، ح ۳۸۷۶،طبع دار الفکر

3. تفسیر در منثور، ج۶، ص ۷

4. تفسیر ابن کثیر، ج۴، ص ۱۱۳

  1. 5.تفسیر خازن، ج۱، ص ۴
  2. 6.المستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۰۹

7. کنز العمال، ج۱۳، ص ۱۴۰

8. مشکوۃ شریف، ج۲، ص ۲۷۱

  1. 9.معجم صغیر طبرانی، ج۱، ص ۱۳۵

10. اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ، لابن اثیر، ج۲، ص ۱۳

  1. 11.صواعق محرقہ، ص ۱۴۷۔ ۲۲۶

12.نظم درر السمطین زرندی حنفی، ص ۳۲۸

  1. 13.ذخائر العقبی، ص ۱۶
  2. 14.فرائد السمطین، ، ۲، ص ۲۳۴، ص ۲۶۸۔ ۲۷۲۔ ۲۷۴

15.مجمع الزوا۴د، ج۹، ص ۱۶۲، ۱۵۴

16.کفایۃ الطالب گنجی شافعی، ص ۲۵۹

  1. 17.منصب امامت اسماعیل دہلوی، ص ۷۹
  2. 18.انساب الاشراف (بلاذری) ج۲، ص ۱۱۲

19. احیاء المیت (لسیوطی) ص ۴۷ طبع بیروت

  1. 20.مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی

21.تقویۃ الایمان، ص ۱۴۶

  1. 22.المناقب خوارزمی، ص ۲۰۰
  2. 23.ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، لابن العساکر، ج۲، ص ۳۶۔ ۴۶
  3. 24.مسند احمد، ج۳، ص ۱۷، ۲۶، ۵۹، ج۴، ص ۲۶۶، ۳۷۱، ج۵، ص ۱۸۱
  4. 25.تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمدؐ ص ۵۵
  5. 26.الاتحاف بحب الاشراف للشبراوی الشافعی، ص ۲۲
  6. 27.النہایۃ لابن الاثیر ج۱، ص ۱۵۵
  7. 28.مرقاۃ شرح مشکوۃ، ج۱۱، ص ۳۷۶، ص ۳۸۵ طبع ملتان
  8. 29.و کتب دیگر۔

حدیث ثقلین کے راویوں کے نام

  1. 1.امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام
  2. 2.امام حسن علیہ السلام
  3. 3.سلمان فارسی
  4. 4.ابوذر غفاری
  5. 5.عبد اللہ بن عباس
  6. 6.ابو سعید خدری
  7. 7.جابر بن عبد اللہ انصاری
  8. 8.ابو الہیثم بن التیہان
  9. 9.ابو رافع
  10. 10.حذیفہ بن یمان
  11. 11.حذیفہ بن أسید غفاری
  12. 12.خزیمہ بن ثابت ذو الشھادتین
  13. 13.زید بن ثابت
  14. 14.زید بن أرقم
  15. 15.ابو ہریرۃ
  16. 16.عبد اللہ بن حنطب
  17. 17.جبیر بن مطعم
  18. 18.براء بن عازب
  19. 19.انس بن مالک
  20. 20.طلحۃ بن عبد اللہ تیمی
  21. 21.عبد الرحمن بن عوف

22. سعد بن أبی وقاص

  1. 23.عمرو بن عاص

24.سہل بن سعد انصاری

25. عدی بن حاتم

26. ابو ایوب انصاری

  1. 27.ابو شریح خزاعی

28.عقبۃ بن عامر

  1. 29.ابو قدامۃ انصاری

30.أبو لیلی انصاری

  1. 31.ضمیرۃ اسلمی
  2. 32.عامر بن لیلی بن ضمرۃ
  3. 33.حضرت فاطمۃ الزہراء ؑ
  4. 34.ام المومنین حضرت سلمہ ؓ
  5. 35.حضرت ام ہانی   ؓ

نوٹ نمبر ۱: ان کی روایات کو عبقات الانوار حدیث ثقلین ج۱، ج۲ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ نمبر ۲: حدیث ثقلین کی سند معتبر ہے کئی ایک علماء اہل سنت نے اس حدیث کی صحت کا اعتراف کیا ہے اور اس حدیث کے تواتر معنوی کا انکار سوائے جاہل اور متعصب کے اور کوئی نہیں کرسکتا کمالا یخفی۔

اہل سنت کے حافظ ہیثمی اپنی کتاب مجمع الزوائد ج۹، ص ۱۶۲۔ ۱۶۳ پر حدیث ثقلین کو نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں کہ رواہ احمد و اسنادہ جید۔ اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سندیں جید (اچھی) ہیں۔

حاکم نیشاپوری اپنی کتاب المستدرک ج۳، ص ۱۰۹ پر حدیث غدیر کے ضمن میں حدیث ثقلین کو بھی نقل کیا ہے نقل حدیث کے بعد صحت حدیث کا اعتراف کیا ہے۔

ابن حجر مکی اپنی کتاب صواعق محرقہ کے صفحہ ۱۵۰ پر حدیث کے آخر میں لکھتا ہے کہ وسندہ لا بأس بہ، اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ نیز ۱۴۵ پر اس حدیث کو صحّ أنہ قال سے شروع کیا ہے۔

دلالت حدیث

اس حدیث شریف نے سب ابہامات کو دور کردیا ہے اور اس نظریہ کو باطل کر دیا ہے جو یہ کہتےہیں کہ حضورؐ نے اپنے بعد اپنی امت کی ہدایت و رہبری کے لیے کسی کو معین نہیں فرمایا بلکہ اس امر خلافت و امامت کو امت پر چھوڑ دیا ہے۔

حالانکہ پیامبر اسلام ﷺ فرماتے ہیں: انی تارک فیکم (یا قد ترکت) میں تم میں چھوڑے جا رہا ہوں یعنی تمہاری ہدایت اور رہبری کا بندوبست کرکے جا رہا ہوں قانون اسلام اور ہدایت کی کتاب قرآن اور اس کے مفسر اور اس کے احکام کو نافذ کرنے والے اپنے اہل بیت ؑ کو تم میں چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر تم نے ان سے تمسک رکھا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ تو معلوم ہوا جن میں چھوڑے جارہے ہیں ان کے گمراہ ہونے کا خوف ہے اور جن کو چھوڑا گیا ہے وہ معصوم اور بے عیب ہیں۔

پھر قرآن اور اہل بیت ؑ ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہیں ہوں گے۔ تو معلوم ہوا ہر زمانے میں اہل بیت ؑ کا کوئی نہ کوئی فرد ضرور موجود ہے جس کے ساتھ تمسک کا حکم دیا گیا ہے ورنہ لازم آئے گا کہ قرآن موجود ہو اور اہل بیت ؑ موجود نہ ہوں حالانکہ حدیث میں ہے کہ قرآن اور اہل بیت ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک میرے پاس حوض کوثر تک آپہنچیں۔

بعض روایات میں اس حدیث میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں۔

فلا تقدموا ہما فتہلکوا و تقصروا عنہما فتہلکوا ولا تعلموہم فانہم اعلم منکم۔([161])

قرآن اور اہل بیت ؑ سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور ان سے بالکل پیچھے بھی نہ ہٹنا ورنہ ہلاکت میں پڑ جاؤ گے اور ان کو نہ سکھانا کیونکہ وہ بے شک تم سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔

اور مذکورہ زید بن ارقم کی روایت یں غدیر کے دن حضورؐ کا حدیث ثقلین کو فرمانے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ کو پکڑ کر ان کی خلافت و ولایت کا اعلان کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بلا فصل مقرر فرمایا ہے غدیر کے دن مخاطبین میں اصحاب ثلاثہ بھی تھے ان کو بھی قرآن اور اہل بیتؑ کے ساتھ تمسک کا حکم دیا ہے تو معلوم ہوا فضیلت و افضلیت بھی حضرت علی علیہ السلام کے لیے ثابت ہے اور خلیفہ بلافصل بھی علی علیہ السلام ہیں۔([162])

اور افضلیت کے دیگر معیاروں کےلحاظ سے بھی حضورؐ کے بعد پوری امت میں سب سے افضل حضرت علی ؑ ہیں اور حضورؐ کے خلیفہ بلا فصل بھی حضرت علی علیہ السلام ہیں۔

نتیجہ: اہل سنت کے عالم شاہ عبد العزیز دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں حدیث ثقلین کے ذیل میں لکھتے ہیں:

ہذا الحدیث ثابت عند الفریقین اہل السنۃ و الشیعۃ و قد علم منہ أن رسول اللہ (ص) امرنا فی المقدمات الدینیۃ و الاحکام الشریعۃ بالتمسک بہذین العظیمی القدر و الرجوع الیہما فی کل امر فمن کان مذہبہ مخالفا لہما فی الامور الشریعۃ اعتقاداً و عملاً فہو ضال و مذہبہ باطل و فاسد لا یعباء بہ۔

یہ حدیث اہل سنت اور شیعہ کے نزدیک ثابت ہے اور اس سے معلوم ہوگیا کہ حضورؐ نے ہمیں دینی مقدمات اور احکام شرعیہ میں دو عظیم القدر (قرآن اور اہل بیت ؑ) کے ساتھ تمسک کرنے کا حکم دیا ہے اور انکی طرف ہر کام میں رجوع کرنے کا حکم دیا ہے پس جس شخص کا نظریہ شرعی امور میں اعتقادی اور عملی حوالے سے قرآن و اہل بیت ؑ کے خلاف ہو وہ شخص گمراہ ہے اور اس کا مذہب باطل اور فاسد ہے ایسے مذہب کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔

پس معلوم ہوا کہ حضورؐ نے ہر مسئلہ میں خواہ وہ اعتقادی ہو یا عملی ہو قرآن اور اہل بیت ؑ کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے اور جس کا اعتقاد اور عمل ان کے مخالف ہو وہ گمراہ شخص ہے اور اس کے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

خلیفہ کا کام یہ ہے کہ جو کام منوب کرتا تھا وہی فرائض خلیفہ بھی انجام دے اور مقام میں بحث خلافت رسولؐ میں ہے چونکہ حضورؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔ رسول کرم ﷺ کا کام صرف تحمل وحی ہی نہیں تھا بلکہ اس کے علاوہ ان کے فرائض میں قرآن کی تعلیم و تفسیر اور احکام کا بیان کرنا، مسلمانوں کے اعتقادات کی حفاظت کرنا اور ان کو گمراہی سے بچانا، لوگوں کی مشکلات کو حل کرنا، حدود الٰہی کو جاری کرنا، کفار ، یہود و نصاری کے شبہات کے جوابات دینا اور اسلام کی حفاظت کرنا و ۔۔۔ تھا۔ ([163])

حضورؐ نے اپنے اصحاب، امت کو اپنے بعد قرآن اور اہل بیت ؑ کے ساتھ تمسک کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر تم نے ان دونوں سے تمسک رکھا تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے پس ہر امر میں ان کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اہل بیت ؑ میں سب سے افضل حضرت علی ؑ ہیں جن کا بازو پکڑ کر اصحاب کو دکھا کر ان کی امامت و خلافت کا اعلان کیا ۔

اب یہ کیسے باور کیا جائے کہ ہر بات میں رجوع تو قرآن اور اہل بیت ؑ کی طرف کرنے کا حکم ہو اور خلیفہ کوئی اور ہو۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن کے مفسر حقیقی اور حضورؐ کی خلافت کے مستحق اور وارث آنجنابؐ کے اہل بیٹ ؑ ہی ہیں جن کے ساتھ ہر ایک کو تمسک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور گمراہی سے بچنے کی حتمی ضمانت بھی اسی میں ہے۔ و الشاہد علی ذلک حدیث السفینۃ۔

تیسری حدیث، حدیث سفینۃ

حنش کنانی کا بیان ہے کہ میں نے جناب ابوذر ؓ سے اس وقت سنا جب وہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے کہہ رہے تھے (ابوذر نے اپنی شناخت کروانے کے بعد کہا) کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا کہ آپؐ فرما رہے تھے:مثل اہل بیتی فیکم مثل سفینۃ نوح فی قوم نوح من رکبہا نجا و من تخلّف عنہا ہلک۔

میرے اہل بیت ؑ کی مثال نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس پر سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا۔([164])

حاکم نیشاپوری کے نزدیک یہ حدیث بناء بر روایت مسلم صحیح ہے اور ابن حجر مکی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حدیث سفینہ مختلف طریقوں سے پہنچی ہے اور وہ سب طریقے ایک دوسرے کو قوی اور مضبوط بناتے ہیں۔([165])

اسلام کو ہم نے اس لیے مانا ہے کہ تاکہ دنیا وآخرت کی سعادت کو پالیں اور خدا کے عذاب سے بچ جائیں۔ جب نجات کا دارو مدار اہل بیت رسولؐ کے ساتھ تمسک اور ان کی اتباع میں ہے اور ہلاکت کا دارو مدار اہل بیت نبیؐ کی مخالفت میں ہے۔ اور بمقتضای حدیث ثقلین قرآن ،اہل بیت ؑ کے ساتھ ہے اور ہمیں ہر بات میں قرآن اور اہل بیت ؑ کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔

تو پھر اگر کوئی شخص (جو اہل بیت ؑ سے نہ ہو) ہو خلافت کا ادعا کرکے منبر رسولؐ پر بیٹھ بھی جائے تو وہ خلافت کا مستحق نہیں ہے کیونکہ خود اس پر بھی اہل بیت علیہم السلام کی اطاعت و اتباع واجب ہے تو پھر کیا عقل سلیم یہ نہیں کہتی کہ منبر پر بیٹھنے والا مدّعی خلافت پر، جن کی اطاعت واجب ہے ہم سیدھے انہی کی امامت و خلافت کو مان لیں۔ چونکہ انہی کی اطاعت کا ہر مسلمان کو حکم ہے۔ ([166])

چوتھی حدیث

حضور ؐ نے حضرت علی ؑ کو فرمایا: انت منی و أنا منک ؛ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔([167])

حدیث کو کتاب میں لکھ دینا یا پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ فقہ الحدیث ضروری ہے حدیث کو سجھنا ضروری ہے مذکورہ حدیث پر غور کریں کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا (اے علی ؑ) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سےہوں۔کیا مطلب؟ یعنی تیرے پاس جو علوم، کمالات و فضائل ہیں وہ میری وجہ سے ہیں میں نے ہی تمہیں علوم سکھائے ہیں میں نے ہی تمہاری تربیت کی ہے۔

و أنا منک۔ اور میں تجھ (علی ؑ) سے ہوں کیونکہ میری بعثت کا ہدف لوگوں کو دین کی طرف ہدایت کرنا اور انہیں صراط مستقیم پر چلانا ہے۔ بعبارت دیگر سب انبیاء کی محنتیں کلمہ توحید کی خاطر تھیں اور دین اسلام کے لیے تمہید تھیں حضورؐ دین اسلام کو خدا کی طرف سے لائے جوکہ اس کا پسندیدہ دین ہے جس کے علاوہ اور کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ تو اس دین اسلام کا پھیلنا اور اس کی بقاء حضرت علی ؑ اور ان کی ذریت طاہرہ کی وجہ سے ہے حضورؐ کی زندگی کا مقصد اور ہدف اسلام کا پھیلانا اور اسکا بقاء مطلوب تھا اوریہ مقصد و ہدف حضرت علی ؑ کے ذریعہ محقق ہوا ہے۔ دنیا میں جو توحید اور رسالت کی گواہی دی جا رہی ہے یہ سب علی ؑ اور اولاد علی ؑ کی وجہ سے ہے چونکہ حضورؐ کا مقصد حضرت علی ؑ کے ذریعہ محقق ہوا ہے لہذا آپؐ نے فرمایا کہ (اے علی ؑ) میں تجھ سے ہوں۔ یعنی اگر آپ نہ ہوتے تو آج محمدؐ کا نام نہ ہوتا۔

فرمان رسول ؐ: ضربۃ علی یوم الخندق افضل من عبادۃ الثقلین؛ کہ خندق کے دن حضرت علی ؑ کی ضربت (جنگ) ثقلین کی عبادت سے افضل ہے([168])۔ یہ فرمان مذکورہ فلسفہ کا زندہ شاہد ہے چونکہ اگر خندق کے دن حضرت علی ؑ ، عمرو بن عبدودّ کافر کو قتل نہ کرتے تو اسلام کا (العیاذ باللہ) اس دن خاتمہ ہوجاتا۔

بلکہ اہل سنت کی روایات میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: یا علی انت منی منزلۃ رأسی من بدنی([169])؛ اے علی ؑ تجھ کو مجھ سے وہی منزلت ہے جو میرے سر کو بدن سے ہے بدن کی پہچان سر ، چہرہ سے ہوتی ہے اور رسالت کی پہچان خلافت و ولایت علی بن ابی طالب سے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضورؐنے تبوک کے موقع پر حضرت علی ؑ کو فرمایا: لا بد أن اقیم او تقیم([170])؛ مدینہ میں میرا رہنا یا آپ کا رہنا ضرور ی ہے۔

اور مکہ میں براءۃ من المشرکین کے اعلان کے لیے جب کسی اور کو بھیجا تھا توجبرائیل فرمان لے کر نازل ہوئے کہ آپ ؐ خود جائیں یا اس کو بھیجیں جو آپؐ سے ہو۔([171])

ولکن جبرائیل جاءنی فقال لن یؤدی عنک الا انت او رجل منک۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ولکن امرت ان لا یبلغہا الا انا او رجل منی([172])۔ بعض روایات میں رجل من اہل بیتی کے الفاط نقل ہوئے ہیں([173])۔ اور بعض روایات میں علی منی و أنا من علی ولا یؤدی عنی الاعلی کے الفاظ نقل ہوئے ہیں ،اخرجہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ۔ اور بعض روایات میں الّا انا اور أنت کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

مخفی نہ رہے کہ ان سب عبارات کی برگشت ایک ہی چیز کی طرف ہے۔

منصف مزاج کے لیے یہ سب فرامین رسالت، خلافت بلافصل علی علیہ السلام پر دلالت کرتے ہیں۔

پانچویں حدیث

ابی بریدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا ؐ نے ارشاد فرمایا: لکل نبی وصی و وارث و ان علیاً وصیی و وارثی۔([174])

کہ ہر نبی کا وصی ، وارث ہوتا ہے اور بتحقیق میرا وصی اور وارث علی ؑ ہے۔حافظ گنجی نقل حدیث کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

خلافت بلافصل علی بن ابی طالب ؑ پر اور بھی بہت سی حدیثیں دلالت کرتی ہیں منصف مزاج اور طالب حق کے لیے اسی میں کفایت ہے چونکہ جو شخص امیر المومنین علی علیہ السلام کی پوری زندگی اور ان کے فضائل و مناقب اور ان کی شان میں واردہ آیات و احادیث ، اور ان کا مقام خدا کے نزدیک اور ان کی نسبت و مقام پیغمبرؐ کے نزدیک ملاحظہ کرے تو اس پر روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ حضورؐ کا بلافصل خلیفہ علی بن ابی طالب ؑ ہیں۔

قال رسول اللہ ؐ اوحی الیّ فی علیٍ ثلاث انہ سید المسلمین و امام المتقین و قائد الغر المحجلین و ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔([175])

رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے میری طرف علی ؑ کے بارے میں تین چیزوں کے بارے میں وحی فرمائی کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور متقیوں کے امام اور قیامت کے دن جن کے چہرے سفید ہوں گے ان کے قائد ہیں۔ حاکم نیشاپوری حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کو شیخین نے نقل نہیں کیا۔

نوٹ: بعض روایات میں یعسوب الدین کا اضافہ بھی موجود ہے کما فی المناقب الخوارزمی اور بعض روایات میں یعسوب المومنین نقل ہوا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے انہ امیر المؤمنین و سید المسلمین الخ کما فی کتاب الولایۃ للحافظ ابن عقدۃ الکوفی المتوفی ۳۳۲؁ ص ۱۹۴ (جمعہ و رتبہ و قدم لہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین) ناشر انتشارات دلیل ما۔ اور ابن مردویہ کی انس بن مالک سے روایت میں ہے کہ اب مسلمانوں کے سردار اور امیر المومنین اور اولی الناس بالنبیین داخل ہوں گے اتنے میں علی بن ابی طالب تشریف لائے ۔۔۔ اور حضورؐ نے ان کو فرمایا: أما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسی؟الا انہ لا نبی بعدی انت اخی و وزیری اخیر من اخلف بعدی تقضی دینی و تنجر وعدی و تبین لھم و اختلفوا فیہ من بعدی و تعلمہم من تأویل القرآن مالم یعلموا و تجاہدہم علی التاویل کما جاہدتہم علی التنزیل۔([176])

کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیری منزلت مجھ سے ایسی ہے جیسے ہارون کو موسی سے؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، آپ میرے بھائی اور میرے وزیر ہیں اور جن کو میں اپنے بعد چھوڑے جا رہا ہوں ان میں سے سب سے اچھے ہیں آپ میرے (دین قرضے، معاہدہ) کو پورا کریں گے اور میرے وعدے نبھائیں گے اور ان لوگوں کے لیے وضاحت کریں گے جس کے بارے میں وہ میرے بعد اختلاف کریں گے اور آپ ان کو قرآن کی تاویل سکھائیں گے جس کو وہ نہیں جانتے اور ان سے تاویل پر جہاد کریں گے جیسے میں نے تنزیل پر کیا ہے۔

نیز رسول خداؐ نے فرمایا: یا علی انت سید فی الدنیا سید فی الاخرۃ ۔۔۔([177]) صحیح علی الشرط الشیخین۔

حضور ؐ نے علی علیہ السلام کو فرمایا کہ تو دنیا میں بھی سردار ہے (اور) آخرت میں بھی سردار ہے۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

نیز رسول خداؐ نے حضرت فاطمہ ؑ کو فرمایا تیرا شوہر دنیا و آخرت میں سردار ہے اور وہ اسلام لانے کے حوالے سے سب سے پہلے میرے صحابی ہیں اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور حلم و بردباری کے حوالے سے سب سے بڑے ہیں ۔و قال لہا زوجک سید فی الدنیا و الآخرۃ و انہ اوّل أصحابی اسلاما و اکثرہم علما و اعظہم حلما۔([178])

نیز رسول خدا ؐ نے فرمایا:اے فاطمہ ۔۔۔ خدا اہل زمین کی طرف مطلع ہوا پس ان میں سے مجھے اختیار کیا (چن لیا) پس مجھے نبی مرسل مبعوث فرمایا پھر مطلع ہوا یعنی نگاہ کرم فرمائی تو ان میں تیرے شوہر (علی ؑ) کو چن لیا پس مجھے وحی فرمائی کہ میں ان کی شادی تیرے ساتھ کردوں اور ان کو (اپنا) وصی بناؤں۔

یا فاطمۃ ۔۔۔ ان اللہ اطلع اطلاعۃ الی اہل الارض فاختارنی منہم فبعثنی نبیاً مرسلاً ثم اطلع اطلاعۃ فاختار منہم بعلک فأوحی الیّ أن أزوجہ ایّاکِ و أتخذہ وصیّاً۔([179])

نیز مناقب خوارزمی، ص ۳۴۶ پر ہے کہ جبرئیل نے کہا: اے محمدؐ خدا نے آپؐ کے لیے زمین سے (علی ؑ کو) بھائی اور وزیر اور صاحب اور داماد چن لیا۔

نیز رسول خدا ؐ نےفرمایا: علی علیہ السلام کاحق مسلمانوں میں ایسے ہی ہے جس طرح باپ کا حق اولاد پر؛ قال رسول اللہؐ حق علیٍ علیٰ المسلمین کحق الوالد علی ولدہ۔([180])

بعض روایات میں ہے حق علی بن ابی طالب علی ہذا الامۃ کحق الوالد علی ولدہ کما فی المناقب للخوارزمی، ص ۳۱۰ و فرائد السمطین، ج۱، ص ۲۹۷۔

نوٹ: معلوم ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت مسلمانوں پرواجب ہے۔ یہ کیسے مانا جائے کہ اطاعت تو حضرت علی ؑ کی امت محمد ؐ پر واجب ہو، اور خلیفہ کوئی اور ہو؟ حضرت علی ؑ جیسے روحانی باپ کے ہوتے ہوئے بیٹا کیسے مقدم ہوسکتا ہے؟

نیز رسول خدا ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے کوئی عہد نہ کرے اور نہ کوئی معاہدے کرے مگر میں خود یا علی ؑ۔([181])

عن حبشی بن جنادہ قال قال رسول ؐ علی منّی و انا من علی ولا یؤدی عنی الا انا أو علیٌّ ورواہ الترمذی و احمد عن أبی جنادۃ۔

نوٹ: یہ حدیث انہی الفاظ یا ان سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ دیگر کئی ایک کتب میں پائی جاتی ہے ۔ (جیسا کہ دیگر احادیث میں بھی یہی حال ہے کما مرّ و سیأتی)

نیز حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: علی ؑ کی نسبت مجھ سے ایسے ہے جس طرح میرے سر کی میرے بدن کے ساتھ؛ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ(ص) علی منی کرأسی من بدنی۔([182])

اور بعض روایات میں مثل رأسی اور بعض میں منزلۃ رأسی کے الفاظ نقل ہوئے ہیں لیکن سب عبارتوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔

نیز سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: اے علی جو مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے جدا ہوا، یا علی ؑ جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا([183])؛ حاکم نیشاپوری اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

عن أبی ذر رضی اللہ عنہ قال قال النبی ؐ یا علی من فارقنی فقد فارق اللہ ومن فارقک یا علی فقد فارقنی۔

علامہ خوارزمی نے اپنی کتاب المناقب میں ابن عمر سے یوں نقل کیا ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا: جو علی ؑ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا اور جو مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے جدا ہوا۔ عن ابن عمر قال قال رسول ؐ من فارق علیا فارقنی ومن فارقنی (فقد) فارق اللہ عزوجلّ۔ کما رواہ ابن المغازلی ایضاً فی مناقبہ۔

خلاصہ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام سے مفارقت درحقیقت خدا سے مفارقت ہے۔ رسول خداؐ نے کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رکھا غدیر خم پر علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کر حدیث ثقلین کے فرمانے کے بعد تین مرتبہ فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ؛ جس کا میں مولا و سردار ہوں اس کا یہ علی ؑ بھی مولا و سردار ہے۔ پھر آیت اکمال {الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا}نازل ہوئی۔ شیخین نے حضرت علی علیہ السلام کو مبارک بادی بھی دی جیسا کہ گزر چکا ہے۔ رسول خداؐ نے علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت، انکی متابعت کو اپنی متابعت قرار دیا ہے۔ گذشتہ آیات و روایات کو ملاحظہ کرنے کے ساتھ ہر منصب مزاج پر روز روشن کی طرح آشکار و واضح ہوگیا ہے کہ رسول خداؐ کا خلیفہ بلا فصل علی بن ابی طالب ؑ ہیں۔

قبر میں اور محشر کے میدان میں اور پل صراط پر حضرت علی ؑ کی ولایت و امامت کے بارے میں سوال ہوگا کہ حضورؐ کے بعد تو کس کو امام مانتا تھا؟

ہر شخص نے مرنا ہے لہذا متعصب لوگوں کے شکوک و شبہات کا شکار نہ ہوں اور اپنی آخرت کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت علی ؑ دنیا وآخرت کے سردار ہیں۔ جنت اور دوزخ کے تقسیم کرنے والے ہیں اور ان کے ہاتھ کے پروانہ کے بغیر پل صرار سے کوئی نہیں گزر سکے گا۔ محشر کے دن لواء الحمد حضورؐ کا مخصوص جھنڈا حضرت علی ؑ کے ہاتھ میں ہوگا([184])۔ جھنڈے کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اور اسی جھنڈے کے نیچے سب انبیاء اور اوصیاء، اور شیعیانِ علی ؑ ہوں گے۔ حوض کوثر پر شربت پلانے والے بھی علی ؑ ہوں گے پھر اس کو کیوں نہیں مانتے جس کے پاس سب کچھ ہے دنیا میں بھی حلال مشکلات ہے اور آخرت میں حلّال مشکلات ہے۔ اگر خلافت علی علیہ السلام پر اور کوئی حدیث بھی نہ ہوتی تو صرف حدیث ثقلین ہی ان کی خلافت بلافصل پر کافی تھی۔

حالانکہ ان کی امامت وخلافت پر بہت سی آیات و احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر مفصل گزر چکا ہے اور اسی میں طالب حق اور منصف مزاج کے لیے کفایت ہے خداوند متعال بحق محمد و آل محمدؑ سب کو حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

حضورؐ کے خلفاء کی تعداد بارہ ہے

  • یکون اثنا عشر امیراً۔ ۔۔ کلہم من قریش ؛حضورؐ نے فرمایا میرے بعد بارہ امیر ہوں گے وہ سب([185]) قریشی ہوں گے۔
  • لا یزال الدین قائماً حتی تقوم الساعۃ و یکون علیہم اثنا عشر خلیفۃ کلہم من قریش؛ قیامت تک یہ دین قائم رہے گا اور میری امت پر بارہ خلیفہ ہوں گے وہ سب قریش سے ہوں گے۔ ([186])
  • مسروق کا بیان کہ ہم عبد اللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے ایک شخص نے ان سے کہا: اے عبد الرحمن! کیا آپ لوگوں نے کبھی رسول خدا ؐ سے یہ بھی پوچھا کہ امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ عبد اللہ نے کہا کہ جب سے میں عراق آیا ہوں تم سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، پھر کہا ہاں ہم نے رسول اللہؐ سے پوچھا تھا اور آنجنابؐ نے فرمایا تھا کہ نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ ہوں گے۔([187])
  • یکون بعدی اثنا عشر خلیفۃ کلہم من قریش([188])؛ حضورؐ نے فرمایا:میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے سب کے سب قریش سے ہوں گے، اہل سنت کی بعض کتب میں کلہم من بنی ہاشم کے الفاظ بھی موجود ہیں۔([189])

اس مضمون کی بہت ساری احادیث بہ اختلاف الفاظ اہل سنت کی معتبر کتب صحاح، مسانید، تفاسیر تواریخ میں پائی جاتی ہیں۔

تحقیق کے طالبین درج ذیل کتب اہل سنت کو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔([190])

اس مضمون کی روایات کے راوی بزرگ صحابہ سے ہیں مانند ابن عباس ابن مسعود، سلمان فارسی، ابو سعید الخدری و أبوذر، جابر بن سمرۃ، جابر بن عبد اللہ و انس بن مالک و زید بن ثابت و زید بن أرقم ، أبی ثمامۃ ، واثلۃ بن الأسقع،ابو ایوب انصاری، عمار بن یاسر، حذیفہ بن أسید، عمران بن حصین و سعد بن مالک، حذیفہ بن یمان ابو قتادۃ انصاری، ابو سلیمان راعی، ابوبردہ اور دیگر صحابہ۔

شیخ محمد مرعی حلبی سابق سُنی،اپنی کتاب مذہب اہل بیت ص ۲۱۳ پر لکھتے ہیں سید ہاشم بحرانی نے اپنی کتاب غایۃ المرام میں بارہ اماموں کی احادیث کو اسناد کے ساتھ اہل سنت کے طریق پر چھیاسٹھ طرح نقل کیا ہے مغازلی شافعی کی کتاب مناقب امیر المومنین علیہ السلام سے سات طرح اور اہل سنت کے صدر الائمہ خوارزمی سے بارہ طرح اس حدیث (اثنا عشر) کو نقل کیاہے اور حافظ ابو نعیم اور حافظ خطیب بغدادی کی سند سے اورحموینی سے تئیس (۲۳) طرح نقل کیا ہے۔

حدیث اثنا عشر سے چند چیزوں کا استفادہ ہوتا ہے:

  1. 1.خلفاء کی تعداد بارہ ہے نہ اس سےکم نہ اس سے زیادہ۔
  2. 2.لا یزال الدین قائما حتی تقوم الساعۃ سے مستفاد یہ ہے کہ بارہ کی خلافت قیامت تک جاری ہے۔
  3. 3.بعض روایات میں میرے خلفاء کی تعداد نقباء بنی اسرائیل کے عدد کے مطابق ہے اور وہ بارہ تھے۔ تو اس میں یہ اشارہ ہے کہ خلفاء کو لوگ تعیین نہیں کرسکتے بلکہ خدا تعیین کرتا ہے چونکہ بنی اسرائیل کے نقباء کے بارے میں ارشاد رب العزت ہے:{ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا}([191])

بھیجنے کی نسبت خدا نے اپنی طرف دی ہے۔معلوم ہوا انتخاب خدا کا کام ہے نہ کہ لوگوں کا اور حضورؐ کا بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے خلفاء کی تعداد کو تشبیہ دینا یہ اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔

  1. 4.یہ سب خلفاء قریش سے ہوں گے بعض روایات میں ہے کہ بنی ہاشم سے ہوں گے، کما فی ینابیع المودۃ، ص ۵۰۴، طبع بیروت (ہر ہاشمی قریشی ہے لیکن ہر قریشی ہاشمی نہیں ہے) چنانچہ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الائمۃ من قریش غرِسُوا فی ہذا البطن من ہاشم لا تصلح علیٰ سواہم ولا تصلح الولاۃ من غیرہم۔([192])

بتحقیق قریش کے سب امام حضرت ہاشم کی اسی کشت زار میں قرار دیئے گئے ہیں اور یہ امامت نہ ان کے علاوہ کسی کو زیب دیتی ہے اور نہ ان سے باہر کوئی اس کا اہل ہوسکتا ہے۔

  1. 5.اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اہل سنت کا خلافت کے بارے میں یہ نظریہ کہ حضورؐ نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا یہ نظریہ باطل ہے چونکہ بعض روایات میں ہے کہ حضورؐ نے بارہ خلفاء کی صراحت فرمائی ہے۔
  2. 6.اسلام کی عزت انہی خلفاء پر موقوف ہے۔
  3. 7.دین کا قوام علم و عمل کے حوالے سے انہی خلفاء اثنا عشر کے ساتھ ہے۔ قرآن کے لیے مفسر اور تبیین کنندہ کی ضرورت ہے جو کہ قرآن کے معارف اور حقائق کو بیان کرے اور قرآن کے احکام اور شریعت محمدؐ کو نافذ کرنے کے لیے مقام عمل میں قانون کو نافذ کرنے والے کی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں مہم غرضیں ان ائمہ اثنا عشر میں خاص شرائط کے ساتھ متحقق ہوں گی۔
  4. 8.ان بارہ خلفاء کا انطباق صرف ہمارے ائمہ پر ہوتا ہے کیونکہ اگر اہل سنت کی خلافت راشدہ مراد لی جائے تو ان کا عدد کم ہے وہ صرف چار ہے۔ حالانکہ حضورؐ کے خلفاء کی تعداد بارہ ہے چار نہیں ہے پس وہ مراد نہیں ہیں اور اگر خلفاء بنی امیہ مراد لیئے جائیں تو ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہے اور ان میں معاویہ و یزید جیسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا حال سب کو معلوم ہے بلکہ سب خلفاء بنی امیہ ظالم تھے صرف عمر بن عبد العزیز کو (بظاہر) اچھا کہا جاتا ہے۔ فافہم۔

اور اس حدیث سے مراد خلفاء بنی عباس بھی نہیں ہیں چونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ ہے دوسرے یہ کہ انہوں نے آل پیامبرؐ کے حقوق کی مراعات نہیں کی بلکہ انہیں آزار و اذیت کرتے تھے۔ پس وہ بھی مراد نہیں ہیں۔

حضورؐ نے ارشاد فرمایا: من مات ولم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ جاہلیۃ؛ جو شخص اپنے زمانہ کےامام کی معرفت کے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا یعنی کافر مرا۔ ہر شخص نے مرنا ہے اور قبر میں امام کے بارے میں بھی سوال ہوگا لہذا ہر ایک کا وظیفہ یہ ہے کہ اپنے امام کی معرفت حاصل کرے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث اثنا عشر، صرف ائمہ اہل بیت ؑ پر منطبق ہے۔ تعداد کے حوالے سے بھی اور باقی شرائط کے بارے سے بھی۔ چونکہ وہ علم و تقویٰ حسب و نسب کے حوالے سے سب سے افضل ہیں اور ان کا علم حضورؐ سے وراثت کے طور پر ہے اور وہ علم لدنی بھی رکھتے ہیں۔ حضورؐ کی مراد اس حدیث اثنا عشر سے ائمہ اہل بیتؑ ہیں جس کی تائید حدیث ثقلین سے ہوتی ہے([193])۔ کہ حضور نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں قرآن اور اپنی اہل بیت و عترت۔ اگر ان کے ساتھ تمسک رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر تک میرے پاس پہنچیں۔

مخفی نہ رہے کہ حدیث ثقلین کو حضورؐ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے۔ جن میں ایک مقام غدیر خم ہے جہاں ایک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا حضورؐ نے ایک بڑا فصیح و بلیغ خطبہ علی علیہ السلام کے حق میں فرمایا جس میں قرآن اور اپنی اہل بیت کے ساتھ اپنی امت کو تمسک کرنے کا حکم دیا پھر علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کر فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ ، پھر{ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا } آیت نازل ہوئی۔ تو سلمان فارسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ آیات([194]) صرف علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہیں؟ تو حضور ؐ نےفرمایا: بل فیہ و فی أوصیائی الی یوم القیامۃ، فقال یا رسول اللہ (ص) بینہم لی قال علی اخی و وصی و وارثی و خلیفتی فی امتی و ولی کل مؤمن بعدی و أحد عشر اماما من ولد أوّلہم ابنی حسن ثم ابنی حسین ثم تسعۃ من ولد الحسین واحداً بعد واحدہم مع القرآن و القرآن معہم لا یفارقونہ ولا یفارقہم حتی یردوا علی الحوض ؛ بلکہ ان کے بارے میں (یعنی علی ؑ) اور قیامت تک میرے اوصیاء کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

توسلمان فارسی نے عرض کیا:یا رسول اللہ! اس بات کی وضاحت فرمائیں، تو فرمایا: علی میرا بھائی،میرا وصی، میرا وارث اور میری امت میں میرا خلیفہ ہے اور میرے بعد ہر مومن کا ولی اور علی ؑ کی اولاد سے گیارہ امام ہیں ان (گیارہ) میں سب سے پہلے میرے بیٹے حسن ؑ پھر میرا بیٹا حسین ؑ پھر حسین ؑ کی اولاد سے نو امام ہیں جو ایک دوسرے کے بعد ہوں گے۔وہ قرآن کے ساتھ ہوں گے اور قرآن ان کے ساتھ ہوگا وہ قرآن سےجدا نہیں ہوں گے اور قرآن ان سےجدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ مجھ تک حوض کوثر پر آپہنچیں۔ اور اس بات کی بارہ بدری صحابہ نے گواہی دی ہے کہ ہم نے فرمان رسول خداؐ کو غدیر خم پر سنا ہے ۔۔۔

ملخص یہ کہ پھر چار صحابیوں ابو الہیثم بن التیھان، ابو ایوب ، عمار اور خزیمۃ بن ثابت ذو الشہادتین نے غدیر خم کے دن فرمان رسالت کو کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کیا کہ رسول خداؐ نے فرمایا اے لوگو! بتحقیق خدا نے تمہیں اپنی کتاب میں نماز کا حکم دیا ہے اور میں نے تمہارے لیے نماز کے احکام اور آداب و سنن کو بیان کردیا ہے زکوۃ اور روزے کا خدا نے حکم دیا ہے میں نے ان کی تفسیر کردی ہے خدا نے اپنی کتاب میں ولایت کا تمہیں حکم دیا ہے۔

اور میں تمہیں گواہ کرکے کہتا ہوں کہ یہ ولایت و حاکمیت مخصوص ہے اس علی ؑ اور میرے دوسرے اوصیاء میری اولاد سے اور علی علیہ السلام کی اولاد سے۔ ان میں پہلے میرا بیٹا حسن ؑ ہے پھر حسین ؑ ہے پھر حسین ؑ کی اولاد سے نو وصی ہیں (جوکہ) قرآن سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ مجھ تک حوض کوثر پر آپہنچیں۔ پھر حضورؐ نے فرمایا: لوگوں میرے بعد تمہارا امام، ولیّ (حاکم) اور ہادی میرا بھائی علی بن ابی طالب ہیں اور وہ تم میں میری منزلت، (میری طرح) ہیں اپنے دین میں ان کی اتباع کرو اور اپنے سب امور میں ان کی اطاعت کرو بتحقیق جو کچھ خدا نے مجھے علم تعلیم دیا ہے وہ سب کچھ ان کے پاس ہے میں نے ان کو تعلیم دیا ہے پس ان سے پوچھو اور ان سے اور ان کے اوصیاء سے یاد کرو اور انہیں مت سکھاؤ اور ان پر مقدم نہ ہو یعنی ان کے آگے نہ چلو۔ اور ان سے پیچھے بھی نہ رہو۔ (بلکہ ان کی متابعت میں ان کے ساتھ ساتھ چلو) کیونکہ وہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے۔ حق ان سے جدا نہ ہوگا اور وہ حق سے جدا نہ ہوں گے۔

پھر علی علیہ السلام نے ابو درداء اور ابو ہریرہ اور جو ان کے ہمراہ تھے کو فرمایا کیا جانتے ہو کہ خدا نے اپنی کتاب میں آیت { إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}کو نازل فرمایا ہے۔پس رسول خداؐ نے اپنی کساء میں مجھے فاطمہ،حسن اور حسین کو جمع کرکے فرمایا: اللہم ہولاء أحبتی و عترتی و ثقلی و خاصتی و اہل بیتی فأذہب عنہم الرجس و طہّر ہم تطہیرا؛ خدایا یہی میرے احبہ، میری عترت و ثقل و خواص اور میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاکیزہ رکھ جس طرح پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

تو ام سلمہؓ نے عرض کیا اور میں (یعنی میں بھی چادر کے نیچے آجاؤں) تو انکو فرمایا: کہ تو نیکی پر ہے (اپنی جگہ پر ٹھہری رہو) حضورؐ نے فرمایا پس بتحقیق یہ آیت میرے بارے میں اور میرے بھائی علی ؑ اور میری بیٹی فاطمہ ؑ اور میرے بیٹوں حسن ؑ اور حسین ؑ اور حسین ؑ کی اولاد سے نو (اماموں) کے بارے میں خاص ہے اس (فضیلت) میں ہمارے ساتھ اور کوئی غیر شریک نہیں ہے۔ پھر سب لوگوں نے جو کہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے نے گواہی دی کہ ام سلمہؓ نے ہمیں یہ چیز بتائی ہے اور پھر ہم نے رسول خداؐ سے بھی سوال کیا تھا اور انہوں نے بھی اسی طرح بتایا جس طرح حضرت ام سلمہؓ نے بتایا تھا۔ پھر علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ خدا نے سورہ حج میں فرمایا ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔ وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۔۔۔}([195])۔

ایمان والو! رکوع کرو، سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور کارخیر انجام دو کہ شاید اسی طرح کامیاب ہوجاؤ اورنجات حاصل کرلو۔ اور اللہ کے بارے میں اس طرح جہاد کرو جو جہاد کرنے کا حق ہے کہ اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین میں کوئی سختی نہیں قرار دی ہے یہی تمہارے بابا ابراہیم کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی مسلم اور اطاعت گزار رکھا ہے تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ رہے اور تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو۔

ان آیات کے نازل ہونے پر سلمان (فارسی) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہؐ یہ کون لوگ ہیں کہ جن پر آپؐ گواہ ہیں اور وہ لوگوں پر گواہ ہیں جن کو اللہ نے چن لیا ہے اور ان کے جدّ ابراہیم ؑ کی ملت یں ان پر دین میں حرج قرار نہیں دی؟ تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اس سے تیرہ ہستیوں کا ارادہ کیا ہے۔

میں اور میرا بھائی علی ؑ اور ان کی اولاد سے ان کے گیارہ بیٹے۔ تو لوگوں نے تصدیق کی کہ ہم نے یہ چیز رسول خدا ؐ سے سنی ہے۔پھر علی علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہیں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں ، جانتے ہو کہ رسول خداؐ نے خطبہ دیا پھر اس کے بعد خطبہ نہیں دیا اور فرمایا:لوگوں میں نے تم میں دو چیزوں کو چھوڑا ہے اگر ان دونوں کے ساتھ تمسک رکھا تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے (ایک تو) کتاب اللہ ہے اور دوسری میر ی اہل بیت ؑ ہے اور لطیف خبیر نے مجھے خبر دی ہے اور مجھ سے عہد کیا ہے کہ یہ دونوں کبھی بھی آپس میں جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ مجھ تک حوض کوثر تک آپہنچیں۔ سب صحابہ نے کہا: ہاں خدایا ہم نے یہ سب کچھ رسول خداؐ سے دیکھا ہے۔

پھر جماعت سے (لوگوں سے) بارہ صحابی کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں جس دن حضورؐ کی رحلت ہوئی اس دن حضورؐ نے خطبہ دیا، عمر بن خطاب، غصے کی مانند حالت میں کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ یہ چیز آپ کے سب اہل بیت کے لیے ہے؟ تو حضورؐ نے فرمایا: نہیں (ولکن لاوصیائی منہم علی اخی و وزیری و وارثی و خلیفتی فی أمتی و ولی کل مومن بعدی و ہو اوّلہم و خیرہم ثم وصیہ بعدہ ابنی ہذا و أشار الی الحسن ثم وصیّہ ابنی ہذا و أشار الی الحسین ثم وصیّہ ابنی بعدہ سمی أخی، ثم وصیہ بعدہ سمیی، ثم سبعۃ من ولدہ واحد بعد واحد حتی یردوا علیّ الحوض شہداء اللہ فی ارضہ و حججہ علی خلقہ من اطاعہم أطاع اللہ و من عصاہم عصی اللہ)

لیکن ان میں میرے اوصیاء کے لیے ہے جن میں میرا بھائی علی ہے وہ میرا وزیر میرا وارث اور میری امت میں میرا خلیفہ ہے اور میرے بعد ہر مومن کا ولی (حاکم) ہے اور وہ ان میں پہلا ہے اور ان میں سب سے افضل ہے پھر ان کا وصی،ان کے بعد میرا یہ بیٹا ہے اور (حضرت امام) حسن ؑ کی طرف اشارہ کیا پھر ان کا وصی میر ا یہ بیٹا اور (حضرت امام ) حسین ؑ کی طرف اشارہ کیا پھر ان کا وصی میرا بیٹا ہے جس کا نام میرے بھائی کے نام پر ہے۔ (علی ؑ) بن الحسین پھر ان کا وصی جو میرا ہم نام ہے (یعنی محمد) باقر ؑ پھر ان کی اولاد سے سات وصی ایک دوسرے کے بعد ہیں یہاں تک کہ مجھ تک حوض کوثر پر آپہنچیں۔ یہ اللہ کے زمین پر گواہ ہیں اور اس کی مخلوق پر حجت ہیں جس نے ان کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔

ستر (۷۰) بدری صحابہ اور اتنے ہی مہاجرین سے لوگ کھڑے ہوئے اور کہا جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے ہم نہیں بھولے ، ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ چیز ہم نے رسول خداؐ سے سنی تھی۔

ابو درداء اور ابوہریرہ جو کہ معاویہ کی طرف سے علی علیہ السلام کے پاس پیغام لے کر آئے تھے، مذکورہ بیانات جو کہ حضرت علی علیہ السلام سے سنے اور صحابہ کی گواہیاں اور لوگوں کی تصدیقات کو معاویہ کے سامنے بتا دیا۔ ([196])

نوٹ نمبر ۱: عثمان کے دور میں مسجد رسولؐ میں بھی (ایک طویل روایت) میں، اس واقعہ کی روایت کے مشابہہ روایت منقول ہے جس کو اہل سنت کے محدث جوینی نے اپنی کتاب فرائد السمطین ، ج۱، ص ۳۱۲۔ ۲۵۰ پر ذکر کیا ہے۔ جس میں سلمان فارسی کی بجائے ابوبکر و عمر کا نام ہے کہ انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا یہ آیات علی ؑ کے بارے میں خاص ہیں ؟ تو حضورؐ نے فرمایا:بل فیہ و فی اوصیائی قال یا رسول اللہ بینہم لنا قال علی اخی و وزیری و وارثی و وصیی و خلیفتی فی امتی و ولیّ کل مومن بعدی ثم ابنی الحسن ثم الحسین ثم تسعۃ من ولد ابنی الحسین واحد بعد واحد القرآن معہم و ہم مع القرآن لا یفارقونہ و ولا یفارقہم حتی یردوا علی الحوض؛ بلکہ اِن کے بارے میں اور میرے اوصیاء کے بارے میں ہے کہا یا رسول اللہؐ ہمارے لیے ان کی وضاحت فرمائیں تو آپؐ نے فرمایا: علی میرا بھائی، میرا وارث، میرا وصی اور میری امت میں میرا خلیفہ ہے اور میرے بعد ہر مومن کا حاکم ہے پھر میرا بیٹا حسن پھر حسین پھر میرے بیٹے حسین کی نسل سے نو امام ایک دوسرے کے بعد ہوں گے قرآن ان کے ساتھ اور وہ قرآن کے ساتھ ہیں وہ قرآن سے جدا نہیں ہوں گے اور قرآن ان سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ مجھ تک حوض کوثر پر آپہنچیں۔ پھر سب صحابہ کا حضرت علی ؑ کی بات کی تصدیق کرنا تا آخر روایت۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس روایت میں بھی بارہ اماموں کا ذکر آیا ہے۔

نوٹ نمبر ۲: رحلت رسول خدا ﷺ کے بعد احادیث کو نقل کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی خصوصاً وہ روایات جو فضائل اہل بیت ؑ میں تھیں، بنی امیہ کے دور میں تو امیر المومنین علی علیہ السلام کا نام مبارک لینا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ لیکن اس سب پابندیوں کے باوجود علی علیہ السلام اور ان کے گیارہ معصوم بیٹوں کی امامت و خلافت کا ذکر اہل سنت کی کتب میں موجود ہے، کمامرّ۔

اگر مقام میں کچھ اشارہ بھی ہوتا تو منصف مزاج کے لیے کافی تھا لیکن مقام میں تو صریحاً نصوص پائی جاتی ہیں اور کئی ایک احادیث کی سند کی صحت اور تواتر کا علماء اہل سنت نے بھی اعتراف کیا ہے([197])۔

ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ وہ میری زندگی پر زندہ رہے اور میری موت پر مرے اور جنت عدن میں ساکن ہو جس کو خدا نے خلق فرمایا ہے پس وہ میرے بعد علی کو دوست رکھے اور ان کے دوست کو بھی دوست رکھے اور وہ میرے بعد ائمہ (اماموں) کی اقتداء کرے کیونکہ وہ میری عترت ہیں میری طین سے خلق ہوئے ہیں ان کو فہم اور علم عطا کیا گیا ہے ویل ہے ان لوگوں کے لیے جو میری امت سے ان کی فضیلتوں کی تکذیب کریں اور ان میں میرے صلہ کو قطع کریں ان کو خدا میری شفاعت نہیں پہنچائے گا۔([198])

امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء طاہرین کے واسطہ سے رسول خدا ﷺ سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

جو شخص چاہتا ہے کہ میرے دین کے ساتھ متمسک رہے اور میرے بعد نجات کی کشتی پر سوار ہوجائے پس وہ، علی بن ابی طالب کی اقتداء کرے اور ان کے دشمن کو دشمن رکھے اور ان کے چاہنے والے کو دوست رکھے کیونکہ وہ میرا وصی اور میری زندگی اور میری وفات کے بعد میری امت پر میرا خلیفہ ہے اور وہ ہر مسلمان کا امام ہے اور میرے بعد ہر مومن کا امیر ہے ان کا قول، میرا قول ہے اور ان کا حکم میرا حکم ہے اور ان کی نہی میری نہی ہے ان کی متابعت میری متابعت ہے ان کا مددگار میرا مددگار ہے ان کی مدد کو ترک کرنا میری مدد کو ترک کرنا ہے۔ پھر فرمایا: جو شخص میرے بعد علی ؑ سے جدا ہوگیا وہ قیامت کے دن میری زیارت نہیں کرسکے گا اور میں بھی اس کو نہیں دیکھو ں گا۔ اور جس نے علی ؑ کی مخالفت کی اس پر جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جس نے علی ؑ کی نصرت و مدد کو ترک کیا قیامت کے دن خدا اس کی مدد کو ترک کردے گا جس نے علی ؑ کی نصرت کی تو خدا اس کی اس کے ملاقات کے دن اس کی مدد کرے گا اور اسے پرسش کے وقت حجت کی تلقین کرے گا۔

پھر آپؐ نے فرمایا: حسن اور حسین اپنے باپ کے بعد میری امت کے امام ہین اور جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان دونوں کی ماں سب جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور ان دونوں کے والد وصیوں کے سردار ہیں اورحسین علیہ السلام کی اولاد سے نو امام ہیں ، نواں امام قائم میری اولاد سے ہے ان کی اطاعت میری اطاعت ہے ان کی نافرمانی میری نافرمانی ہے، میرے بعد ان کے فضائل کے منکروں کی، اور میرے بعد ان کی حرمت کو ضائع کرنے والوں کی شکایت خدا کی طرف کروں گا میری عترت اور میری امت کے ائمہ (اماموں) کےلیے مددگار خدا کافی ہے اور وہ ان کے حق کے انکار کرنے والوں سے انتقام لینے والا ہے (اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے۔)

عن علی بن موسی الرضا علیہ التحیۃ و الثناء عن أبیہ عن آبائہ علیہم السلام قال قال رسول اللہ ؐ من أحب أن یتمسک بدینی و یرکب سفینۃ النجاۃ فلیقتد بعلی بن ابی طالب ولیعاد عدوہ ولیوال ولیہ فانہ وصی و خلیفتی علی أمتی فی حیاتی و بعد وفاتی وہو امام کل مسلم و أمیر کل مؤمن بعدی قولہ قولہ و أمرہ أمری و نہیہ نہی و تابعہ تابعی و ناصر ہ ناصری و خاذلہ خاذلی

ثم قال علیہ السلام من فارق علیا بعدی لم یرنی ولم أرہ یوم القیامۃ ومن خالف علیاً حرّم اللہ علیہ الجنۃ و جعل مأواہ النار ومن خذل علیا خذلہ اللہ یوم یعرض علیہ ومن نصر علیاً نصرہ اللہ یوم یلقاہ و لقنّہ حجتہ عند المسألۃ ثم قال علیہ السلام و الحسن و الحسین اماما أمتی بعد أبیہا و سیّد الشباب أہل الجنۃ و أمّہّما سیدۃ نساء العالمین و أبوہما سید الوصیین ومن ولد الحسین تسعۃ ائمۃ تاسعہم القائم من ولدی طاعتہم طاعتی و معصیتہم معصیتی الی اللہ أشکو المنکرین لفضلہم و المضیّعین لحرمتہم بعدی کفی باللہ ولیاً و ناصراً لعترتی و ائمۃ أمتی و منتقما من الجاحدین حقہم { وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ }، (سورہ شعراء آیت ۲۲۷)([199])

عبایۃ بن ربیعی عن جابر قال رسول اللہ (ص) انا سید النبیین و علی سید الوصیین ان اوصیائی بعدی اثنا عشر أولہم علی و آخرہم القائم المہدی؛

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: میں نبیوں کا سردار ہوں اور علی وصیوں کے سردار ہیں بے شک میرے بعد میرے بارہ وصی ہیں ان میں پہلے علی ؑ اور آخری مہدی قائم ؑ ہیں۔([200])

عن سلمان المحمدی قال دخلت النبی (ص) و اذا الحسین علی فخذہ و یقبل عینیہ و یلثم فاہ و یقول انک سید ابن سید أبو سادۃ انّک امام ابن امام أبو ائمۃ انّک حجۃ ابن حجۃ أبو حجج تسعۃ من صلبک تاسعہم قائمہم؛

حضرت سلمان محمدی فرماتے ہیں کہ میں پیغمبر ؐ کے پاس آیا اور حسین ؑ ان کے ران مبارک پر تھے اور وہ ان کی آنکھوں کا بوسہ لے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بے شک تو سردار ہے اور سردار کا بیٹا ہے اور سرداروں کا باپ ہے تو امام ہے اور امام کا بیٹا ہے اور اماموں کا باپ ہے تو حجت ہے حجت کا بیٹا ہے اور حجج کا باپ ہے تیری صلب سے نو امام ہیں ان کا نواں قائم (مہدی) ہے۔([201])

امام مہدی علیہ السلام

شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، حضورؐ کے بارہویں جانشین ہیں اور وہ اولاد فاطمہ علیہا السلام اور ذریت امام حسین علیہ السلام سے ہیں وہ ۱۵ شعبان ۲۵۵؁ میں متولد ہوچکے ہیں ۔ تقریباً ستر سال غیبت صغری میں رہے اور اس دوران ان کے یکے بعد دیگرے چار خاص نائب تھے جن کے ذریعے مومنین ان سے رابطہ رکھتے تھے پھر اس کے بعد غیبت کبریٰ کا دور ہے اور سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے ان کی طولانی غیبت کی خبر دی ہے۔ جن کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ مومنین کا امتحان ہے تاکہ کھوٹے، مخلصین سے جدا ہوجائیں۔ اور ان کی امامت پر مخلصین، اور خالص صاحبان ایمان ہی باقی رہیں گے۔ غیبت کبریٰ میں دینی مسائل میں مومنین کا وظیفہ، امام عصر (عج) کے نواب عامہ، رواۃ حدیث ، جامع الشرائط فقہاء کی طرف رجوع کرنا ہے امام مہدی ؑ بحکم خدا، آخر الزمان میں ظہور فرمائیں گے اور پوری دنیا کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور کے ساتھ بھر چکی ہوگی۔

امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر پر اشکال کرنا یہ قدرت الٰہی پر اشکال کرنا ہے جو کہ سراسر جہالت ہے خداوند متعال بحق محمد و آل محمدؑ جملہ مؤمنین کو شیاطین اور وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

ہم نے اس موضوع کے بارے میں تمام شبہات کے مدلل اور متقن جواب اپنی کتاب دفع الشبھات عن الامام المہدی ؑ میں دیئے ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مشئیت الٰہی پر موقوف ہے جب وہ اذن فرمائے گا ظہور فرمائیں گے۔ لہذا ان کے جلد ظہور نہ کرنے پر اعتراض یہ ان پر اعتراض نہیں بلکہ خدا پر اعتراض ہے کہ وہ ظہور کا جلد اذن کیوں نہیں دے رہا اور جو خدا پر اعتراض کرے وہ بلاشک کافر ہے۔ اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ امام مہدی پیدا ہوں گے البتہ اہلسنت کے بعض محققین علماء کے نزدیک امام مہدی ؑ کی ولادت ہوچکی ہے([202]) وہ پردہ غیبت میں موجود ہیں ۔ وہ آخر الزمان میں ظہور فرمائیں گے۔ان شئت التفصیل فراجع الی البیان فی اخبار صاحب الزمان للحافظ گنجی۔

خلاصہ یہ کہ امام مہدی علیہ السلام کےظہور کا انکار کرنا کفر ہے اور ان کا آخری زمانہ میں ظہور کرنے پر پوری امت اسلام کا اتفاق ہے۔ امام مہدی ؑ کے بارے میں شیعہ و سنی کی ۳۸۹ احادیث میں آیا ہے کہ وہ حضورؐ کے اہل بیت ؑ سے ہیں۔ ۱۹۲ حدیثوں میں ان کا اولاد فاطمہ ؑ سے ہونا مذکور ہے۔ ۱۴۸ حدیثوں میں ہے کہ وہ امام حسین ؑ کی اولاد سے نویں فرزند ہیں۔ ۱۴۶ حدیثوں میں ہے کہ وہ امام حسن عسکری کی اولاد ہیں۔

۱۳۶ حدیثوں میں نقل ہوا ہے کہ وہ اہل بیت ؑ کے اماموں سے بارہویں ہیں۔

۲۱۴ حدیثوں میں ان کی ولادت کی خبر پائی جاتی ہے۔

۳۱۸ حدیثوں میں ان کی طولانی عمر کے ہونے کا تذکرہ ہے۔

۹۱ حدیثوں میں نقل ہوا ہے کہ وہ طویل عرصہ تک پردہ غیبت میں رہیں گے۔

۲۷ حدیثوں میں ہے کہ عالمی سطح پر اسلام کا ظہور ہوگا۔

۱۳۲ حدیثوں میں ہے کہ وہ زمین کو عدل وا نصاف کے ساتھ بھر دیں گے

۲۵ روایتیں ان لوگوں کے بیان میں ہیں جن کو غیبت صغریٰ کے زمانہ میں امام مہدی ؑ کا دیدار ہوا ہے۔ بعض کتب میں منقول ہے کہ تین سو کے قریب لوگوں نے آپ کی زیارت کی ہے۔

۲۷ حدیثیں غیبت صغریٰ میں آپ کے بعض معجزات کے بارے میں ہیں۔

۲۲ حدیثیں غیبت صغریٰ میں جناب ؑ کے سفیروں اور نائبوں کے بارے میں ہیں۔

۱۲ روایات غیبت کبریٰ میں آپ ؑ کے معجزات کے بارے میں ہیں۔

۱۳ روایات اس شخص کے بارے میں ہیں جس نے آپؑ کو غیبت کبریٰ میں آپ کی زیارت کی ہے۔

۱۲ حدیثیں آپ کے خروج و ظہور کی بعض کیفیتوں کے بارے میں ہیں۔

۳۷ حدیثیں آپؑ کے خروج سے پہلے رونما ہونے والے فتنوں، بدعتوں ظلم اور گناہوں کی کثرت اور ان کو انجام دینے والوں کی قوت اور اطاعت خدا کو اہمیت دینے والوں کی قلت اور فسق و فجور کے آشکار ہونے کے بارے میں ہیں۔

۲۹ حدیثیں آپ ؑ کے ظہور کی بعض علامتوں کے بارے میں ہیں۔

۳۹ حدیثیں، حضرت عیسیٰ کے نازل ہونے اور ان کا امام مہدی ؑ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں ہیں۔

۱۸ حدیثیں آپ کی خلافت کی مدت کے بارے میں ہیں۔

۶ حدیثیں آپ پر درود و سلام بھیجنےکے طریقہ کے بارے میں ہیں۔

۱۳ حدیثیں جو دعائیں آپ سے منقول ہیں ان کے بارے میں ہیں۔

۵۴ حدیثیں، آپ کے شیعوں کے بعض فرائض کے بارے میں ہیں۔

۲۳ حدیثیں ظہور کے انتظار کی فضیلت کے بارے میں ہیں۔ چنانچہ کمال الدین میں منقول ہے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اس امر یعنی ظہور کے انتظار میں مرگیا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ حضرت قائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہونے، بلکہ رسولؐ کے حضور میں تلوار سے جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔

۹ حدیثیں، امام مہدی ؑ کے انکار کے حرام ہونے اور ان کے منکر کا بڑا گناہ گار ہونے کے بیان میں ہیں۔

۲۳ حدیثیں اس شخص کی فضیلت میں جو امام مہدی ؑ کی غیبت میں آپ پر ایمان لائے اور آپ کی محبت پر ثابت قدم رہے، چنانچہ سید الساجدین امام علی بن الحسین ؑ نے فرمایا: جو شخص ہمارے قائم کی غیبت میں ہماری محبت پر ثابت قدم رہا خدا اس کو بدر و احد کے ہزار شہیدوں کے برابر اجر عطا فرمائے گا ۔ کما فی کمال الدین۔

ان احادیث کی تفصیل کے لیے کتاب ارزشمند منتخب الاثر([203]) کی طرف رجوع فرماسکتےہیں۔

دعا گو ہوں کہ خداوند متعال بحق محمد و آل محمدؐ ہم سب کو اس عظیم امتحان میں ، امام عصر امام مہدی علیہ السلام کی امامت و محبت پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ان کے خادموں میں سے قرار دے اور ان کی شفاعت ہمیں نصیب فرمائے۔

اہل سنت کے عالم شیخ عبد الوہاب بن احمد بن علی شعرانی مصری حنفی اپنی کتاب([204]) میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام عترت رسولؐ سے اور اولاد فاطمہ ؑ سے ہیں ان کے جدّ حسین بن علی علیہ السلام ہیں اور ان کے والد گرامی حسن عسکری ؑ ابن امام علی نقی علیہ السلام ہیں اور ان کی ولادت باسعات پندرہ شعبان ۲۵۵ ؁ میں ہوچکی ہے اور وہ زندہ ہیں یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ اکٹھے ہوجائیں۔

وہو من عترۃ رسول اللہ (ص) من ولد فاطمہ رضی اللہ عنہا جدہ الحسین بن علی بن أبی طالب و والدہ حسن العسکری ابن الامام علی النقی ابن محمد التقی ابن الامام علی الرضا ابن الامام موسی الکاظم ابن الامام جعفر الصادق ابن الامام محمد ابن الامام زین العابدین علی ابن الامام حسین ابن الامام علی بن ابی طالب۔

نوٹ: اہل سنت کے حافظ ابو الحسن محمد بن الحسین الابری نے کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اس امت سے ہیں اور حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اس بارے میں روایات متواتر ہیں۔

وقال أبو الحسن الخسعی فی مناقب الشافعی: تواترت الاخبار بأن المہدی من ہذہ الأمۃ و أن عیسی یصلی خلفہ۔([205])

صواعق میں حافظ بن حجر مکی تحریر کرتے ہیں: و قد تواترت الاخبار عن النبی (ص) بخروجہ و أنہ من أہل بیتہ و أنہ یملا الارض عدلاً؛ پیغمبر اسلام ؐ سے متواتر روایات ہیں کہ وہ (حضرت امام مہدی) خروج کریں گے اور وہ آنجنابؐ کے اہل بیت سے ہیں اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔


ازالہ شبھہ

سوال: جب یہ بات ثابت ہے کہ رسول خداؐ کے حقیقی جانشین حضرت علی ؑ ہیں تو آپ نے پھر دوسرے مدعیان خلافت سے جنگ کیوں نہیں کی یہ وہ سوال ہے جو اکثر عوام کے ذہن میں آتا ہے اور اس کے بارے میں استفسار کیا جاتا ہے۔

اما الجواب: حضرت علی علیہ السلام کا دیگر مدعیان خلافت سے جنگ نہ کرنے کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ اولاً تو جب حضورؐ نے رحلت فرمائی تو کئی ایک قبائل عرب، دین سے پھر گئے یعنی مرتد ہوگئے، اور خود مدینہ منورہ بقول شبلی نعمانی کے منافقین سے بھرا پڑا تھا۔ جو دل سے اسلام کو نہیں چاہتے تھے۔ ان اندرونی اسلام کے دشمنوں کی شرارتوں کا خوف بھی تھا اور بیرونی دشمنان اسلام کے حملوں کا خوف بھی تھا۔

ان حالات میں مصلحتاً اسلام کی بقاء کے لیے حضرت علی علیہ السلام نے جنگ نہیں کی۔

وثانیاً، حضور کی رحلت کے بعد لوگ بیعت غدیر سے پھر گئے تھے جو افراد اس بیعت پر ثابت قدم رہے ان کی تعداد قلیل تھی، لہذا عدم انصار کی وجہ سے جنگ نہ کی یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی ظاہری خلافت میں چونکہ انصار موجود تھے اسلامی حکومت کے مخالفین سے جنگیں کیں مثل جنگ جمل، صفین اور نہروان۔

و ثالثاً، حضور ؐ نے ان کو صبر کی تلقین فرمائی تھی۔

و رابعاً، مدینہ منورہ کی حرمت کو مدنظر رکھتے جنگ نہیں کی۔

و خامساً، حدیث میں منقول ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: تحقیق میرے اصحاب کی (تیسری چوتھی) پشت کے بعد ایسے آدمی مردوں اور عورتوں سے ہوں گے جو بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوں گے۔

لہذا جن کی پشتوں سے مومنین کے پیدا ہونے کی امید تھی ان کو قتل نہیں کیا۔

و سادساً، حضورؐ کی سیرت پر عمل کیا چونکہ حضورؐ نے مکہ میں عدم انصار کی وجہ سے کفار مکہ سے جنگ نہیں کی حضرت علی ؑ نے عدم انصار کی وجہ سے قتال نہیں کیا۔

قضاوت علی علیہ السلام کا ایک واقعہ

حضرت علی ؑ کے پاس دو عورتیں ایک بچے پر جھگڑے کی وجہ سے آئیں ، ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ بچہ میرا ہے۔ امام علیہ السلام نے اپنے مخصوس طریقہ سے حقیقت کے ظاہر ہونے کی خاطر قنبر کو حکم دیا کہ اس بچے کے تلوار سے دو ٹکڑے کردے ایک حصہ اس عورت کو دوسرا حصہ دوسری عورت کو دے دے تو جس عورت کا یہ بچہ تھا اس نے کہا مولا! آپ قنبر کو کہیں کہ اس بچے کے ٹکڑے نہ کرے یہ سارا بچہ اسی عورت کے حوالے کردو۔ حضرت علی ؑ نے فرمایا: یہ بچہ اسی عورت کا ہے جو کہہ رہی ہے کہ یہ بچہ اس دوسری عورت کے حوالے کردو۔ چونکہ یہ اس کی حقیقی ماں تھی اپنے بچے کے ٹکڑے ہونے کو برداشت نہ کرسکی۔ کہا اسی عورت کے حوالے کردو چلو میرا بچہ مجھے نہ ملا کم سے کم زندہ تو رہے گا۔

اسی واقعہ سے منصف مزاج کے لیے مذکورہ سوال کا جواب موجود ہے۔ جس علی ؑ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خاطر جہاد کیا ،بدن میں زخم برداشت کیے، بستر رسولؐ پر تلواروں کے سائے میں سوئے وہ علی ؑ حضورؐ کے بعد اپنے ذاتی حق کی خاطر کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ اسلام پر کی گئی ساری محنت ضائع ہوجائے اور لوگ محمد رسول اللہ پڑھنا چھوڑ دیں؟ جس اسلام کے پودے کی ساری زندگی آبیاری کرتے رہے وہ علی ؑ کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ حضورؐ کے بعد یہ پودا کٹ جائے؟لہذا حضرت علی ؑ نے اپنے حق کی نسبت صبر سے کام لیا جنگ نہ کی چلو مجھے میرا حق نہیں ملا کم سے کم کلمہ توحید و رسالت تو جاری ہے؟ فیصلہ دربار الٰہی میں قیامت پر چھوڑ دیا۔

انصاف آپ پر!        وما علینا الّا البلاغ المبین۔


ولایت تکوینی

علم و قدرت ائمہ معصومین علیہم السلام

شیعہ کا عقیدہ ہےکہ سب انبیاء کے علوم اللہ کے آخری نبی سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پاس ہیں اور اللہ نے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر قرآن نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے { تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}([206])

جس میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے۔ { وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ}([207])

اللہ نے ہمارے نبی کو علم غیب عطا فرمایا ہے{ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا ۔إِلا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ}([208])

وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کرے۔

اور حضورؐ کو ارشاد رب العزت ہے{قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا}([209])

کہو خدایا میرے علم میں اضافہ فرما۔

حضورؐ پر قرآن نازل ہوا جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے نیز حضورؐ تمام انبیاء کے علوم کے وارث ہیں پھر بھی حکم ہورہا ہے کہ مجھ سے علم کی زیادتی کے بارے میں دعا کرو۔ تم علم مجھ سے مانگو میں عطا کروں گا۔ دینے والا جواد و کریم (سخی) ہے اور لینے والے کا ظرف وسیع ہے پھر خود ہی انصاف سے فیصلہ کریں کہ حضورؐ کے پاس کتنا علم ہوگا۔

حضورؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، آنجنابؐ کے بعد امامت وخلافت کا سلسلہ شروع اور قیامت تک کے لیے موجود ہے چونکہ حضورؐ کی شریعت قیامت تک کے لیے لہذا حضورؐ کے کسی نہ کسی خلیفہ اور امت کے لیے معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضورؐ نے اپنے سب علوم کو اپنے پہلے جانشین حضرت علی علیہ السلام کو تعلیم فرمائے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اُن کی شان میں فرمایا: انا مدینۃ العلم و علی بابہا([210])؛ میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اس کا دروازہ ہیں فمن اراد العلم فلیأت الباب؛ جو علم چاہتا ہے وہ دروازے پر آئے، اور بعض روایات میں ہے: انا دار الحکمۃ و علی بابہا([211])؛ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی ؑ اس کا دروازہ ہیں۔ اور قرآن کی آیت {قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ}([212]) کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لیے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔ یہ آیت حضرت علی ؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ ([213])

حضرت علی علیہ السلام سب انبیاء کے علوم کے وارث ہیں اور ان کے بعد ان کی ذریت طاہرہ ائمہ طاہرین علیہم السلام ان کے علوم کے وارث ہیں۔ معتبر روایات میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول ہے کہ فرمایا ہم معدن علم (علم کی کانیں) اور اللہ کے علم کے خزانے ہیں۔ ان کے پاس ماضی، حال اور قیامت تک کے آنے والے حالات کا علم موجود ہے تو پھر یہ کہنا کہ ان کے پاس صرف بعض جزئی امور کا علم ہے یہ قول خلاف تحقیق اور صحیح نہیں ہے۔ فافہم جیداً۔

ولایت تکوینی، کائنات میں باذن اللہ ہر طرح کے تصرف کرنے کا نام ہے۔

اور اللہ نے تکوین کے تصرّف میں جو طاقت و قدرت گذشتہ انبیاء کو عطا فرمائی ہے وہ سب، اور اس کے علاوہ جتنا وہ چاہتاتھا ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو ولایت تکوینی عطا فرمائی ہے لہذا وہ (باذن اللہ) اللہ کی دی ہوئی قدرت کے ساتھ جو چاہیں کرسکتے ہیں مردہ کو زندہ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ، سورج کو دن میں کئی مرتبہ بھی لوٹانا چاہیں لوٹا سکتے ہیں پہاڑ کو چلنے کا حکم دیں توپہاڑ چل نکلے، اندھے کو بینا کرنا چاہیں تو کرسکے ہیں۔ اس میں تعجب کی کیابات ہے! آؤ قرآن میں نبی کی قدرت کو دیکھ لو!حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں:

{ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الأكْمَهَ وَالأبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ}([214])۔

میں تمہارے لیے مٹی سے پرندہ کی شکل بناؤں گا اور اس میں کچھ دم کردوں گا تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جائے گا اور میں پیدائشی اندھے اور مبروص کو اچھا کروں گا اور حکم خدا سے مردوں کو زندہ کروں گا اور تمہیں اس بات کی خبر دوں گا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھر میں ذخیرہ کرتے ہو ان سب میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں اگر تم صاحبان ایمان ہو۔

عیسیٰ نبی کی قدرت کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ باذن اللہ پرندہ خلق کرسکتے ہیں ، مریضوں کو شفا دے سکتے ہیں، مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں ، جو کچھ لوگ کھا کر آئیں وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا کھا کر آئے ہو اور جوگھروں میں ذخیرہ کر رکھا اس کو بھی بتا سکتے ہیں یعنی غیب کی باتوں کو بتاسکتےہیں یہ ہے عیسیٰ نبی کا علم و قدرت۔([215])

اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ حضرت عیسیٰ سے کئی درجہ افضل ہیں تو پھر ان کی قدرت اور علم کا کون اندازہ کرسکتا ہے؟ اور ہمارے نبی کے وارث وجانشین ائمہ طاہرین ہیں اور ان کے پاس بھی ولایت تکوینی مطلقہ ہے۔

حضرت عیسیٰ کے پاس یہ قدرت تھی کہ وہ مذکورہ کام باذن اللہ انجام دے سکتے تھے یہ لفظ باذن اللہ جو بار بار استعمال ہوا ہے یہ اس لیے چونکہ بنی اسرائیل کے بعض لوگ حضرت عیسیٰ کی خدائی کے بھی قائل تھے لہذا اگر آیت میں باذن اللہ نہ آتا تو لوگ مذکورہ کام جو کہ خدائی کام ہیں اس کو عیسیٰ کے خدا ہونے پر دلیل قرار دیتے لہذا لفظ باذن اللہ بار بار تکرار ہوا ہے کہ کوئی انہیں خدا نہ سمجھ بیٹھے۔

مخفی نہ رہے کہ جو کچھ انبیاء ، اوصیاء کے پاس ہے وہ سب اللہ کی عطا اور اذن سے ہے۔

حضرت عیسیٰ سے پہلے بھی حضرت سلیمان نبی کےجانشین آصف بن برخیا نے تکوین میں تصرف کرکے دکھایا ہے اور آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میل دور سے بلقیس کا تخت حضرت سلیمان کے پاس حاضر کردیا۔

{ قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي الخ}([216])

اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب سے کچھ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے۔

یہ طاقت و قدرت ہے حضرت سلیمان کے وصی آصف بن برخیا کی جن کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا۔ جس کی وجہ سے یہ اتنا بڑا کام کر دکھایا۔ کیا خیال ہے اس ہستی کے بارے میں جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے {قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ}([217])

تم (ان سے) کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان (میری رسالت کی) گواہی کے واسطے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔

اور یہ آیت حضرت علی ؑ کی شان میں اتری ہے۔ انصاف سے دیکھ ان وصیوں میں افضل کون ہے؟

اور مخفی نہ رہے کہ جب وصی سلیمان نے تخت کو آنکھ سے جھپکنے سے پہلے لانے کے لیے اعلان کیا تو اس عظیم کام کے لیے ساتھ لفظ باذن اللہ کو استعمال نہیں کیا بلکہ کہا:أنا أتِیکَ بِہٖ قَبلَ أن یَرتَدَّ الَیکَ طَرفُک؛ کہا آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو لاؤں گا اور ایسا ہی ہوا کہ سلیمان کے سامنے تخت کو حاضر کردیا۔ پھر حضرت سلیمان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ہذا من فضل ربی سے تعبیر کیا کہ اللہ نے ہم پر کتنا فضل کیا ہے اور ہمیں کتنی قدرت عطا فرمائی ہے۔

اور یہاں لفظ باذن باللہ کو حضرت آصف نے اس لیے نہیں کہا کہ اس عظیم کام کو دیکھ کر وہاں لوگوں کے گمراہ ہونے کا خوف و خطرہ نہیں تھا لہذا انہوں نے نہ تو لفظ باذن اللہ کہا اور نہ لوگوں کے سامنے دعا مانگی اور نہ ہی دو رکعت نماز پڑھ کر یہ کام کیا۔

آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میل سے تخت بلقیس کو حاضر کردیا یہ ولایت تکوینی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ حضرت سلیمان یا حضرت آصف سے کسی نے معجزہ کو طلب نہیں کیا تھا۔

آیا وصی سلیمان حضرت آصف بن برخیا نے پوری زندگی میں ایک ہی دفعہ اپنی قدرت و ولایت کو دکھایا؟ اورپھر کبھی بھی اپنی قدرت کا اظہار نہیں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ انبیاء اور اوصیاء کی زندگی کے سب واقعات اور جزئیات کو بیان کرے قرآن نے بتا دیا حضرت آصف بن برخیا وصی سلیمان جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا اُن کی یہ قدرت و طاقت ہے۔ اب ان کی مرضی اپنے حالات کے مطابق جب چاہیں جس وقت چاہیں جیسے چاہیں اس طاقت کو استعمال کریں۔([218])

اور یہ بات بھی مخفی نہ رہے کہ انبیاء اور اوصیاء کا خارق العادہ کام کرنے کےلیے ضروری نہیں ہے کہ ضرور کوئی کافر ایسے کام کے کرنے کا ان سے مطالبہ کرے اور تب وہ کام انجام دیں چنانچہ بلقیس کے تخت لانے کا مطالبہ کسی کافر نےنہیں کیا تھا بلکہ حضرت سلیمان اپنی سلطنت و شوکت اور قدرت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان کی شوکت و قدرت اور حقانیت کو دیکھ کر بلقیس ایمان لائی۔ حضرت عیسیٰ کے پاس مردوں کو زندہ کرنے اور نابیناؤں کو بینا کرنے کی طاقت تھی اب ممکن ہے کہ کوئی کافر ان سے معجزہ کا مطالبہ کرے کہ تب ایمان لاتا ہوں جب آپ اس مردہ کو زندہ یا نابینا کو بینا بنادیں۔ تو وہاں وہ معجزہ دکھائیں گے تاکہ ان کے دعوی نبوت کی صحت کی تصدیق بھی ہوجائے اور کافر کا بہانہ ختم ہوجائے اور اس پر حجت تمام ہوجائے اور ممکن ہے کہ نبی کے پاس کوئی ان کا مسلمان امتی ان سے درخواست کرے کہ ہمارے فلاں مردے کو زندہ کردیں تاکہ ہم اس سے ترکہ کے بارے میں پوچھ لیں کہ کہاں دفن کیا ہے تو یہاں بھی اللہ کا نبی یا امام معصوم اگر چاہے تو مردہ کو زندہ کرسکتا ہے چنانچہ امام ؑ نے اس غرض سے مردہ کو زندہ کیا ہے۔

اور اس طاقت و قدرت کو ولایت تکوینی کہتے ہیں کہ کائنات میں وہ باذن اللہ جس طرح چاہیں تصرّف کرسکتے ہیں اور معجزہ اسی، ولایت تکوینی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ البتہ انبیاء اور اوصیاء کے مراتب ہوتے ہیں خدا جتنا چاہتا ہے ان کو عطا کرتا ہے۔

چنانچہ حضرت سلیمان نبی، کے لیے خدا نے ہواؤں کو مسخّر کردیا تھا اور وہ اپنی مرضی سے جب ہوا کو حکم دیتے وہ چل پڑتی تھی اور ہواؤں کو جہاں چلانا چاہتے تھے چلاتے تھے۔

{ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ }([219])

تو ہم نے ہواؤں کو مسخر کردیا کہ انہیں کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں۔ اور وہ پرندوں کی بولیوں کو بھی جانتے تھے دور سے چیونٹی کی بات سن کر انہوں نے تبسم بھی فرمایا تھا۔ سورہ نمل، آیات ۱۶۔ ۱۸۔ ۱۹ کو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

چنانچہ حضرت سلیمان کے والد حضرت داؤد کے لیے خدا نے پہاڑ اور طیور (پرندوں) کو مسخر کردیا{۔۔۔سَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ }([220])

اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ وہ تسبیح پروردگار کریں اور طیور کو بھی مسخر کردیا تھا اور ہم ایسے کام کرتے رہتےہیں۔

باذن اللہ سے کیا مراد ہے؟

اذن کا جو معنی محاورات عرفی میں استعمال ہوتا ہے قرآن میں اس سے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہر فاعل، جو بھی فعل انجام دے اس میں اذن الٰہی کی تعبیر آئی ہے چاہے وہ فاعل ارادی ہو یا فاعل طبیعی مانند گیاہ کے ہو خواہ امور دنیوی ہوں یا اخروی۔ ان سب میں جو فاعل بھی تصرفات کو انجام دینا چاہے وہ اذن خدا کے ساتھ مشروط ہے۔ پس اذن تکوینی بھی ہے اور تشریعی بھی نیز اعتباری امور میں بھی اذن کی تعبیر آئی ہے۔ سبزہ کا باذن اللہ اگنے کے بارے میں ارشاد ربّ العزت ہے۔

{ وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ }([221]) اور پاکیزہ زمین کا سبزہ بھی اس کے پروردگار کے اذن سے خوب نکلتا ہے۔

تو یہاں اذن تکوینی ہے اور بعض چیزوں میں اذن تکوینی بھی ہوتا ہے اور اذن تشریعی بھی مانند افعال واجب ، مستحب اور مباح جو انسان سے صادر ہوتے ہیں۔ دیگر افعال میں جہاں قانون کی مخالفت ہو یعنی انسان جو حرام کام کرتا ہے وہاں اذن تشریعی نہیں پایا جاتا۔

خلاصہ یہ کہ خدا کی مِلک میں اس کے اذن کے بغیر کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔

سادہ لفظوں میں ، خدا ہی نبی اور امام کو معجزہ دکھانے کی طاقت اور قدرت عطا کرتا ہے اور معجزہ دکھاتے وقت اس قدرت کو سلب نہ کرنا یہی اذن الٰہی ہے اور معجزہ فعل نبی اور امام ہوتا ہے خدا کی قدرت کے ساتھ۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا: اُحیِ المَوتیٰ؛ میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں اذن الٰہی کے ساتھ۔

یا آصف بن برخیا کا کہنا: اَنَا اٰتِیکَ بِہٖ؛ میں ، آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس لاؤں گا۔ فعل کی نسبت اپنی طرف دی ہے۔([222])

البتہ مخفی نہ رہے کہ ولایت تکوینی اور معجزہ دکھاتے وقت، معصومین علیہم السلام کا دعا کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں ان ذوات مقدسہ کے مختلف حالات منقول ہیں کئی ایک واقعات میں انہوں نے دعا کی ہے اور معجزہ دکھایا ہے اور کئی واقعات میں دو رکعت پڑھنے کے بعد دعا کی ا ور معجزہ دکھایا اور کئی ایک واقعات میں انہوں نے نماز اور دعا کے بغیر معجزہ دکھایا ہے۔بلکہ ارادہ کیا ہے اور جو کچھ کر دکھانا مقصود تھا کر دکھایا ہے۔ معجزہ دکھاتے وقت دعا کرنے اور نماز پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کہیں انہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں۔

اور ویسے چونکہ نماز پڑھنا اور دعا کرنا یہ بندگی اور معرفت کی دلیل ہے اورمعصومین ؑ محمد و آل محمدؑ کمال معرفت کے درجہ پر فائز ہیں لہذا ان کی سعی یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدا کی عبادت کی جائے چونکہ بارگاہ الٰہی میں نماز اور دعا افضل اعمال اور خدا سے ارتباط کا ذریعہ ہے لہذا معجزہ دکھاتے وقت ان امور کی مناسبت بھی پائی جاتی ہے لہذا ایسا کرتے ہیں۔

اور جہاں کہیں اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہیں کہ خدا نے ہمیں کتنی قدرت عطا کی ہے حضورؐ اپنی نبوت اور ائمہ طاہرین ؑ اپنی امامت کی تصدیق کی صحت کی خاطر پیغام کے ذریعہ بھی مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں جیسا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے حضورؐسے خواہش کی کہ ہمارے فلاں فلاں مردوں کو زندہ کردیں تو حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو پیغام دے کر بھیجا کہ ان مردوں کے نام لے کر کہنا کہ محمدؐ تمہیں کہہ رہا ہے کہ قوموا باذن اللہ ؛ اللہ کے اذن سے اٹھو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا تو وہ مردے زندہ ہوگئے۔

اور وہ اپنے حالات اورمناسبات کو بہتر جانتے ہیں کہ کہاں دو رکعت نماز پڑھ کر معجزہ دکھائیں اور کہاں اس کے بغیر دکھائیں۔

البتہ مخفی نہ رہے کہ خدا نے انہیں علم بھی عطا فرمایا ہے اور معجزہ دکھانے کی قدرت بھی عطا فرمائی ہے۔ لہذا جو تصرف بھی وہ کرتے ہیں وہ خدا کے اذن کے ساتھ کرتے ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ معجزہ دکھانے کے بعد ان سے معجزہ کی قدرت سلب ہوجاتی ہو۔

جب فرض یہ ہے کہ وہ حجت خد ا ہے تو قدرت اس کے پاس موجود رہتی ہے۔ تکوین میں تصرف کرنے کے لیے نبی اور امام کا ارادہ ہی کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لٹکے ہوئے پردہ پر شیر کی تصویر کو امام کاظم علیہ السلام نے حکم دیا کہ یا اَسدَ اللہِ خُذ عَدُّو اللہِ۔ تو شیر کی شکل فوراً اصلی شیر بن گیا اور دشمن خدا کو نگل لیا۔([223])

جیسا کہ عبد الرحمن بن حجاج جو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے راستہ میں تھا اورکوئی تیسرا شخص نہیں تھا تو اس نے سوال کیا اے میرے سردار! ما علامۃ الامام؟ امام معصوم کی علامت کیا ہوتی ہے؟ قال انہ لو قال لہذا الجبل سِرلسار؛ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:اگر امام اس پہاڑ کو حکم دے کہ چل تویہ چل نکلے۔ راوی کہتا ہے میں نے نگاہ کی تو خدا کی قسم! پہاڑ چل رہا تھا۔ ([224])


خلاصۃ الکلام

انبیاء، اوصیاء،ملائکہ اور بالخصوس ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ جو کہ سب سے افضل ہیں اور ان کی پاک آل ، خدا کےمکرم بندے ہیں اللہ نے اپنی مشیئت سے ان کے مراتب اور مقتضی کے مطابق جتنا چاہتا تھا اُتنا ہی ان کو علم و قدرت سے نوازا ہے اگرچہ انبیاء و اوصیاء سب اولاد آدم سے ہیں اور بشر کی ہدایت و راہنمائی کے لیے آئے ہیں لیکن ان پر خدا کی خاص عنایات ہیں وہ ہم جیسے لوگوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ عام لوگوں سے امتیاز رکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ کا پنگوڑے میں قوم سے گفتگو کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے۔

{ فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا ۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ۔ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ۔ وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا ۔ وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا }([225])

انہوں (مریم) نے اس بچہ کی طرف اشارہ کردیا تو قوم نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گہوارہ میں بچہ ہے۔ بچہ نے آواز دی میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز اور زکوۃ کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے اور سلام ہے مجھ پر اس دن جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔

سورہ مبارکہ نحل کی آیت ۷۸ میں خدا ارشاد فرماتا ہے:

{ وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لا تَعْلَمُونَ شَيْئًا الخ}

اور اللہ نے تمہیں شکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔

معلوم ہوا جب عام انسان پیدا ہوتے ہیں تو کچھ بھی نہیں جانتے (جاہل پیدا ہوتے ہیں) اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں فرمایا کہ وہ (پیدا ہوتے ہیں) گہوارے میں گفتگو فرما رہے ہیں اور اپنی بندگی، اور نبوت و کتاب کا اعلان فرما رہے ہیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ ہمیشہ بابرکت ہوں نماز و زکوۃ کا پابند رہوں گا اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کروں گا۔ مجھ پر سلام ہو یوم ولادت، یوم موت اور یوم قیامت،

قارئین محترم قرآن کو سامنے رکھ کو خود ہی انصاف سے فیصلہ کریں کہ کیا نبی اور عام انسان ایک جیسے ہوتے ہیں؟

{ إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ }([226])

اور اس بات کو یاد کرو جب ملائکہ نے کہا کہ اے مریم ! خدا تم کو اپنے کلمہ مسیح عیسیٰ بن مریم کی بشارت دے رہا ہے جو دنیا اور آخرت میں صاحب وجاہت اور مقربین بارگاہ الٰہی میں سے ہے۔

بلکہ معلوم ہوا کہ نبی کی والدہ بھی مورد لطف خدا ہوتی ہے چنانچہ ملائکہ کا حضرت مریم سے گفتگو کرنا اور ان کو کہنا کہ خدا نے تمہیں چن لیا ہے اور پاکیزہ بنا دیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دے دیا ہے۔([227])

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گہوارے کی طرف اشارہ کیا تھا ان کو معلوم تھا کہ یہ بچہ اپنے زمانہ کا حجت خدا ہے یہ خود بول کر بتائے گا۔

اور حضرت موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی فرمائی (یعنی الہام)

{ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ}([228]) اللہ نے آدم ، نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو منتخب کرلیا ہے۔

اور آل ابراہیم سے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں۔

اور سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بارے میں ارشاد ربّ العزت ہے:{ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ }([229])

اور ہم نے آپ کو عالمین کے لیے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ حضورؐ کے وجود مبارک کی طرح ان کی رسالت بھی رحمت ہے اور یہ رحمت ایک عالَم کے نہیں عَالَمِین (سب جہانوں) کے لیے ہے۔

ارشاد ربّ العزت ہے:

{ أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا}([230])

یا وہ لوگوں سے حسد کرتےہیں جنہیں خدا نے اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا کیا ہے تو پھر ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم سب کچھ عطا کیا ہے۔

روایات میں کتاب سے مراد قرآن، حکمت سے مراد نبوت ، ملک عظیم سے مراد امامت اور آل ابراہیم سے مراد آل محمدؐ ہیں۔

ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ سب انبیاء کے علوم اور ان کی قدرت کے وارث ہیں اور ہمارے نبی کے وارث ان کی عترت و اہل بیت اور ان کی عترت سے ائمہ معصومین جانشین ہیں جن میں پہلے علی علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں قرآن نے انفسنا و انفسکم فرمایا ہے([231])۔ حضرت علی ؑ ، نفس پیغمبر ہیں نبوت کے سوا باقی جو کمالات و صفات و فضائل حضورؐ میں پائے جاتے ہیں وہ سب حضرت علی ؑ میں پائے جاتےہیں۔([232])

حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:انت منی و انا منک (اے علی ؑ) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں([233])۔ پس رسول خدا کے وارث و جانشین حضرت علی علیہ السلام ہیں اور ان کے وارث امام حسنؑ اور ان کے وارث امام حسین ؑ اور ان کے وارث باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام جن میں آخری امام مہدی ؑ ہیں۔

اسم اعظم کے تہتر حرف ہیں اور معتبر روایات میں (باختلاف الفاظ) منقول ہے کہ ان میں ۲۵ حروف کا علم حضرت آدم ؑ، ۱۵ کا حضرت نوح اور ۸ کا حضرت ابراہیم ، چار کا حضرت موسیٰ اور دو حروف کا علم حضرت عیسیٰ کے پاس تھا (اور انہی دو حرفوں کے ذریعہ وہ مردوں کو زندہ اور دیگر معجزات دکھاتے تھے)۔ ([234])

امام فرماتے ہیں:خدا نے ان تہتر حروف میں سے بہتر کا علم حضرت محمدؐ مصطفی کو عطا فرمایا ہے اور انہوں نے اپنے وصی حضرت علی ؑ کو عطا فرمایا اور ان کے ذریعے باقی ائمہ طاہرین کے پاس وہ علم موجود ہے۔

روایات میں ہے کہ حضرت آصف بن برخیا کے پاس اسم اعظم سے صرف ایک حرف کا علم تھا جس کی وجہ سے انہوں نے چشم زدن میں تخت بلقیس کو حاضر کردیا۔ جس کے پاس اسم اعظم کے دو حرفوں کا علم تھا وہ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اور نابیناؤں کو بینا کرسکتا ہے، کیا خیال ہے ان ذوات مقدسہ کی قدرت کے بارے میں جن کے پاس بہتر حرفوں کا علم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کے معجزات و کرامات کو دیکھ کر عقلیں متحیّر ہوجاتی ہیں اور کوئی شخص محمد وآل محمد کی کنہ کا ادراک نہیں کرسکتا۔

کیا نہیں دیکھتے کہ قبض ارواح کی ڈیوتی حضرت عزرائیل فرشتہ کے ذمہ ہے اور حضرت عزرائیل کو اللہ نے قدرت عطا فرمائی ہے کہ وہ ایک آن میں دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں انسانوں کی روح کو قبض کرلیتا ہے([235])۔ محمد و آل محمدؐ تو عزرائیل سے افضل ہیں وہ خد کی دی ہوئی قدرت کے ساتھ اگر تکوین میں تصرف کرلیں تو اس میں کونسی قباحت لازم آتی ہے؟

اگر وہ دنیا پر احاطہ رکھ سکتا ہے تو محمد و آل محمدؐ تو اس سے کہیں افضل ہیں۔ خدا کا ایک نام محیط ہے اور محمد و آل محمد علیہم السلام مظہر اسماء الٰہی ہیں

امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولادت سے لے کر شہادت تک ایک ہزار کے قریب معجزات ان سے ظاہر ہوئے ہیں جن کو سنی و شیعہ علماء اور رواۃ نے لکھا ہے۔ بلکہ ان کی شہادت کے بعد اتنے خارقہ العادۃ اورمعجزات ان کی قبر مطہر سے ظاہر ہوئے ہیں کہ سب لوگوں نے ان کو ہر زمانے میں سنا ہے۔ بالخصوص کئی کتابیں ان معجزات کے بارے میں لکھی گئی ہیں جو کہ امیر المومنین علیہ السلام کی قبر منور سے ظاہر ہوئےہیں۔ اس بات کی تصریح سید اسماعیل طبرسی نوری نے اپنی کتاب کفایۃ الموحدین ج۳، ص ۷۵ پر کی ہے۔

اور اسی طرح باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام کی قبور سے بہت معجزات اورکرامات ظاہر ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں جن پر کئی کتب اور رسالہ جات شائع ہوئے ہیں۔ منقول ہے کہ سید الشہداء امام حسین ؑ کی قبر پر ایک لاکھ بانج عورتوں نے حاضری دی تو امام ؑ کی برکت سے سب کے ہاں اولاد ہوئی۔

ائمہ طاہرین علیہم السلام کے روضوں پر کثیر تعداد میں لاعلاج مریضوں کا شفا پاجانا، مادر زاد نابیناؤں کا بینا ہوجانا، مشکلات کے آسان ہوجانے کی اخبار ثقات سے منقول ہیں ائمہ طاہرین علیہم السلام سے توسل کے ذریعہ ہم نے خود کئی برکات کو دیکھا ہے۔

محمد و آل محمد کی مدد، خدا کی مدد ہے۔ لہذا ہر وقت بارگاہ الٰہی میں ان سے توسل کیا جاسکتا ہے جس طرح وہ ظاہری حیات میں مدد کرتے ہیں اسی طرح (ممات) شہادت کے بعد بھی وہ مدد کرتے ہیں چونکہ وہ خدا کے ہاں زندہ اور اس کے مکرم بندے ہیں۔ اور شہداء کے زندہ ہونے کی گواہی قرآن دیتا ہے۔{وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ }([236]) اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔

٭محمد و آل محمد علیہم السلام کی مدد خدا کی مدد ہے اس بات کی وضاحت:

{ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا}([237]) جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئےنمایندے اسے موت دیتےہیں۔(یعنی ملک الموت)

ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے { اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا}([238]) اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت بلا لیتا ہے۔

{ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ}([239]) اور خدا ان کی باتوں کو لکھ رہا ہے۔

{ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ}([240]) اور ہمارے نمایندے (یعنی فرشتے) سب کچھ لکھ رہے ہیں۔

{وَمَنۡ یُدَبِّرُ الۡأَمۡرَ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللہُ}([241]) کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو سب یہی کہیں گے کہ اللہ۔

{ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا}([242]) پھر امور کا انتظام کرنے والے ہیں۔

{ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً }([243]) اور اللہ تم سب پرحفاظت کرنے والے فرشتے بھیجتا ہے۔

{ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ }([244]) اور آپ کا پروردگار ہر شی کی حفاطت کرنے والا ہے۔

ان سب آیات کو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پہلی آیت میں خدا، مارنے کی نسبت ملائکہ کی طرف دے رہا ہے اور دوسری آیت میں اپنی طرف نسبت دے رہا ہے۔

تیسری آیت میں اپنے لکھنے کا فرما رہا ہے اور چوتھی آیت میں ملائکہ کے لکھنے کا فرما رہا ہے۔

پانچویں آیت میں مشرکین سے اعتراف لے رہا ہے کہ تدبیر صرف خدا کا کام ہے اور ہے بھی اسی کا کام ذاتاً و استقلالاً۔

چھٹی آیت میں ملائکہ کے تدبیر کا فرما رہا ہے کہ امور کا انتظام کرنے والے ہیں۔

ساتویں آیت میں فرما رہا ہے کہ وہ ملائکہ کو حفاظت کرنے کے لیے بھیجتا ہے اور آٹھویں آیت میں فرما رہا ہے کہ تیرا رب ہر شی کا نگران اور حفاظت کرنے والا ہے۔

تو ان آیات میں تضاد نہیں پایا جاتا چونکہ در واقع ملائکہ کی حفاظت، خدا کی حفاظت ہے۔ ملائکہ تدبیر، خدا کی تدبیر ہے۔ و ہکذا۔ اسی طرح وایاک نستعین([245])؛ کہ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور وسیلہ کے طور پر یاعلی مدد کہنے میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا چونکہ محمد و آل محمدؐ کی مدد بھی، خدا کی مدد ہے اور اس چیز کا شرک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

چنانچہ ارشاد ربّ العزت ہے:{ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ}([246])

(خدا بعض ازواج نبیؐ کو ایک واقعہ میں تنبیہ کرتے ہوئے رسولؐ کی حمایت میں فرماتا ہے) (یاد رکھو کہ) اللہ اس کا سرپرست ہے اور جبرائیل اور نیک مومنین اور ملائکہ سب کے سب اس کے مددگار ہیں۔

سنی و شیعہ تفاسیر میں منقول ہے کہ آیت میں صالح المؤمنین سے مراد علی بن ابی طالب ہیں([247])۔ اگر غیر خد کی مدد مطلقاً شرک محسوب ہے تو خدا نے اپنے حبیب ؐ کے لیے، جبرائیل، ملائکہ اور حضرت علی ؑ کو مددگار کیوں قرار دیا ہے؟

رجعت

رجعت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کبریٰ کے آنے سے پہلے اللہ کچھ نیک اور بد اشخاص کو دوبارہ زندہ کرے گا۔

متعدد روایات میں ہے کہ رسول اللہؐ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام رجعت فرمائیں گے اور بعض مومنین بھی رجعت کریں گے تاکہ معصومین علیہم السلام کی حکومت الٰہیہ کو دیکھ کر مسرور ہوں اور بعض ظالمین اور بالخصوص قاتلان سید الشھداء کو بھی زندہ کیا جائے گا تاکہ ان سے انتقام لیاجائے۔

اصل رجعت کا عقیدہ ضروریات مذہب شیعہ سے ہے اکثر علماء شیعہ جیسے شیخ صدوق، شیخ مفید، سید مرتضیٰ، شیخ طوسی اور سید ابن طاووس اور علامہ مجلسی وغیرہم نے رجعت کے عقیدہ کا حق ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔

اور رجعت کے بارے میں اخبار متواترہ پائی جاتی ہیں، علامہ طیب نے اپنی کتاب کلم الطیب میں بیاسی (۸۲) کتب کے نام درج فرمائے ہیں جن میں رجعت کا ذکر آیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو ہماری رجعت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہم سے نہیں ہے۔([248])

مخفی نہ رہے کہ سابقہ امتوں میں بھی رجعت واقع ہوئی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے ستر آدمیوں جو کہ کوہِ طورپر ہلاک ہوگئے تھے کا زندہ ہونا۔ { ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}([249]) پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد زندہ کردیا کہ شاید اب شکر گزار بن جاؤ۔

نیز حضرت عیسیٰ کا مردوں کا زندہ کرنا اور ان کا اسی دنیا میں زندہ رہنا اور پھر اپنی موت سے مرنا۔ اور حضرت عزیر نبی کا مرنے کے سو سال بعد زندہ ہونا بھی رجعت کی دلیل ہے۔ نیز بنی اسرائیل کی ایک قوم جن کی تعداد دس ہزار سے تیس ہزار تک نقل کی گئی ہے جو کہ طاعون کی بیماری یا جہاد کے خوف کی وجہ سے فرار کرگئے تھے خدا نے ان کو موت دی پھر خدا نے اس زمانہ کے نبی کی دعا کی برکت سے ان کو زندہ کیا۔

{ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ}([250])

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل پڑے موت کے خوف سے اور خدا نے انہیں موت کا حکم دے دیا اور پھر زندہ کردیا کہ خدا لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکریہ ادا نہیں کرتے ہیں۔

نیز حضورؐ سے مروی ہے کہ جو کچھ گذشتہ امتوں میں ہوا قدم بقدم وہی اس امت میں بھی رخ دے گا۔ اس حدیث شریف کی رو سے بھی رجعت ثابت ہے۔

دعوت فکر: اگرچہ اہل سنت رجعت کے قائل نہیں ہیں بلکہ ان کے کئی ایک علماء نے اس عقیدہ رجعت کا مسخرہ کیا ہے لیکن اللہ نے انسان کو عقل دی ہے لکیر کا فقیر نہیں بننا چاہیے دلیل کے تابع ہوجانا چاہیے اہل سنت کے منصف مزاج علماء کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ مذکورہ قرآنی آیات اور روایات اہل بیت ؑ کو مدنظر رکھ کر خوب غور و فکر کریں خداوند متعال بحق محمد و آل محمدؐ سب کو حق سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

البتہ مخفی نہ رہے کہ رجعت کی جزئیات معلوم نہیں ہیں لہذا رجعت پر اجمالی ایمان کافی ہے۔ اگرچہ بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سب کی اکٹھی رجعت ہوگی۔ اور بعض روایات کا مستفاد یہ ہے کہ ائمہ ؑ کی دو رجعتیں ہیں ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔ واللہ العالم۔

عقیدہ رجعت پر ایک اور شاہد

{ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ}([251])

اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے سب انبیاء سے عہد لیا کہ ہم تم کو جو کتاب و حکمت دے رہے ہیں اس کے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے تو تم سب اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا اور پھرپوچھا کیا تم نے ان باتوں کا اقرار کرلیا اور ہمارے عہد کو قبول کرلیا تو سب نے کہا کہ بے شک ہم نے اقرار کرلیا ارشاد ہوا کہ اب تم سب گواہ بھی رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

اگرچہ انبیاء کرام ؑ حضورؐ کے بارے میں اس عہد کے مطابق ایمان لائے اور اپنی امتوں کو بھی بتایا۔ لیکن سب انبیاء نے کب ان کی عملی مدد کی؟ روایات اہل بیت علیہم السلام میں ہے کہ خدا سب انبیاء کو پھر اس دنیا میں رسولؐ کی تصدیق اور ان کے وصی علی ؑ کی نصرت کے لیے بھیجے گا۔ کما فی العیاشی و البرہان و غیرہما([252])۔

 



 

 

 



[1]۔مقام میں لفظ خلیفہ اور امام، مفہوم میں مختلف اور مصداقاً ایک ہی شی کا نام ہے۔

[2]۔خود معتمد عباسی نے ہی امام حسن عسکری علیہ السلام کو زندان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

[3]۔اہل سنت کی کتاب نور الابصار ،تالیف شیخ مومن شبلنجی، ص ۳۳۹۔ ۳۴۰ و کتب دیگر۔

[4]۔کفایۃ الموحدین، ۲/ ۲۲۰۔ ۲۲۱۔

[5]۔المناقب خوارزمی، ص ۴۸؛ذخائر العقبی ۸۰؛کفایۃ الطالب ۲۲۷؛ و دیگر کتب۔

[6]۔مسند احمد و کتب دیگر۔

[7]۔سورہ لیل، آیت ۱۲۔

[8]۔فتح الباری شرح صحیح بخاری، ج۶، ص ۵۷۰؛ کتاب احادیث انبیاء باب نزول عیسیٰ؛ المناقب خوارزمی، ص ۳۶۶۔

[9]۔ المستدرک للحاکم، ج۳/ ۱۲۴ مجمع الزوائد، ۹/ ۱۳۴؛ نور الابصار ، ص ۱۶۳؛ کفایۃ الطالب، ص ۳۹۹؛ تاریخ الخلفاء، ص ۱۹۳ ؛ صواعق محرقہ و کتب دیگر۔

[10]۔تفسیر در منثور سیوطی، ۱/ ۲۱۔

[11]۔شواہد النبوۃ ملا جامی حالات حضرت علی علیہ السلام۔

[12]۔ارشاد للمفید، ج۲، ص ۱۱۷؛ تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲۲، ص ۱۱۷ در حالات سلمہ بن کھیل؛ مختصر تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۱۰، ص ۹۲؛ حیوۃ الحیوان دمیری، ج۱، ص ۸۰۔

[13]۔کنز العمال، ج۳، ص ۱۳۰، ۱۶۵؛ الاستیعاب، ج۲، ص ۵۰؛ تاریخ الخلفاء، ص ۱۹۱ و کتب دیگر ۔

[14]۔تہذیب التہذیب، ۷/ ۳۳۷؛ استیعاب، ج۲/ ۵۲؛ طبقات ابن سعد، ۲/ ۱۰۱؛کفایۃ الطالب گنجی، ص ۲۰۸؛ حلیۃ الاولیاء،۱/ ۶۷۔

[15]۔کفایۃ الطالب، ص ۲۰۸؛ الاستیعاب، ج۲، ص ۵۲۔

[16]۔سنن ترمذی؛ الاستیعاب، ج۲، ص ۴۹ تاریخ الخلفاء سیوطی ، ص ۱۹۰ و کتب دیگر۔

[17]۔کفایۃ الطالب، ص ۳۳۲،باب ۹۴۔

[18]۔کفایۃ الطالب،ص ۳۳۲؛ مناقب خوارزمی، ص ۸۲؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۹۷۔

[19]۔کنز العمال، ۱/ ۲۲۶؛ ریاض النضرۃ، ۲/ ۲۱۸؛ کفایۃ الطالب گنجی، ص ۱۲۲ و کتب دیگر۔

[20]۔سورہ بقرہ، آیت ۳۱۔

[21]۔کفایۃ الطالب، ص ۲۹۲، باب ۷۴؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۵۵ و کتب دیگر۔

[22]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۴۹؛ المناقب خوارزمی، ص ۸۱؛ الریاض النظرہ، ج۲، ص ۱۹۴؛ ذخائر العقبی، ص ۸۲؛ کنز العمال، ج۳، ص ۹۶؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۲۷ و کتب دیگر۔

[23]۔کنز العمال، ج۱، ص ۲۷۴۔

[24]۔نور الابصار، ص ۱۳۳؛ سنن بیہقی، ج۷، ص ۲۳۳ پر ہے فقال کل احد افقہ من عمر مرتین او ثلاثہ و کتب دیگر۔

[25]۔تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمدؐ،ص ۱۶۶ (تالیف قاضی بہلول بہجت آفندی)، شرح المقاصد تفتازانی، ج۲، ص ۲۷۵ و کتب دیگر۔ نوٹ اس حدیث کے ہم معنی مختلف الفاظ کے ساتھ بہت سی کتب اہل سنت میں روایات موجود ہیں۔

[26]۔سورہ بقرہ، آیت ۱۲۴۔

[27]۔سورہ ابراہیم، آیت ۳۹۔

[28]۔سورہ لقمان، آیت ۱۳۔

[29]۔شرح مقاصد تفتازانی، ۲/ ۲۷۲، طبع استنبول۔

[30]۔سورہ نحل، آیت ۴۴۔

[31]۔تمہید مولفہ ابی بکر باقلانی، ۱۸۱ ، متوفی ۴۰۳؛لا ینخلع الامام بفسقہ و ظلمہ بغصب الاموال و ضرب الأبشار وتناول النفوس المحرمہ و تضییع الحقوق و تعطیل الحدود ولا یجب الخروج علیہ بل یجب وعظہ و تخویفہ و ترک طاعتہ فی شئ مما یدعو الیہ من معاصی اللہ۔

[32]۔تاریخ کوملاحظہ کریں کہ رسول خداؐ کی رحلت کے بعد اہل بیت رسولؐ پر کن کن لوگوں نے ظلم و ستم کیا ہے۔

[33]۔سورہ نساء، آیت ۵۹۔

[34]۔ینابیع المودۃ، ج۳، ص ۲۹۲، ناشر دار الاسوۃ، و کتب دیگر۔

[35]۔لسان العرب، ج۱۲، ص ۴۰۳۔

[36]۔ہی خلافۃ الرسول فی اقامۃ الدین بحیث یجب اتباعہ علی کافۃ الامۃ ۔ شرح المواقف، ج۸، ص ۳۴۵۔

[37]۔سورہ نساء، آیت ۵۹۔

[38]۔سورہ بقرہ، آیت ۱۲۴۔

[39]۔سورہ لقمان، آیت ۱۳۔

[40]۔سورہ آل عمران، آیت ۹۴۔

[41]۔سورہ شوری، آیت ۴۲۔

[42]۔سورہ فاطر، آیت ۳۲۔

[43]۔سورہ صافات، آیت ۱۱۳۔

[44]۔سورہ طلاق، آیت ۱۔

[45]۔سورہ بقرہ، آیت ۲۲۹۔

[46]۔سورہ احزاب، آیت ۳۳۔

[47]۔ صحیح مسلم، ج۵، ص ۳۷؛ المستدرک حاکم، ج۳؛ سنن ترمذی، ج۲، ص ۲۰۹؛ مسند احمد، ج۴، ص ۱۰۷؛الاستیعاب، ج۲، ص ۵۰؛ سنن بیہقی، ج۲، ص ۱۴۹؛ تفسیر در منثور، ج۵، ص ۱۹۹؛ تفسیر کبیر رازی، ج۴، ص ۹۰؛ تفسیر روح المعانی، ج۲۲، ص ۱۴؛ تفسیر جامع البیان طبری، ج۱۲، ص ۹، طبع دار الفکر، تفسیر غرائب القرآن، ج۲، ص ۱۷۸،طبع بیروت؛ تفسیر کشاف، ج۱، ص ۳۶۹؛ فرائد السمطین، ج۲، ص ۲۳؛ مناقب علی ابن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۲۳۶؛ ذخائر العقبیٰ، ص ۲۳؛ نور الابصار، ص ۲۲۵؛ اسد الغابہ، ج۲، ص ۱۲؛ کفایۃ الطالب، ص ۳۷۲؛ مشکوۃ شریف، ج۳، ص ۲۶۹۔

نوٹ: یہ روایت بسند صحیح کئی طرق سے مختلف الفاظ کے ساتھ کتب اہل سنت میں موجود ہے۔

[48]۔مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علیٍ،ص ۳۰۱۔

[49]۔کفایۃ الطالب، ص ۳۷۲ و کتب دیگر۔

[50]۔نور الابصار، ص ۲۲۵ ، باب ثانی۔

[51]۔تفسیر فتح القدیر، ج۵، ص ۳۵۰، طبع دار الفکر بیروت؛ تفسیر ابن کثیر دمشقی، ج۴،ص ۱۹۱۴، طبع دار الفکر (طبع جدید)؛ تفسیر معالم التنزیل، ج۵، ص ۲۵۳؛ مختصر تفسیر القرآن الکریم للخازن، ج۲، ص ۱۱۶۵؛ فتح الباری، ج۸، ص ۵۲۶ و کتب دیگر۔

[52]۔تفسیر ابن کثیر دمشقی، ج۳، ص ۱۴۸۱ ، طبع دار الفکر۔

[53]۔تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۱۳۸۲ (ذیل آیت تطہیر) فرائد السمطین ج۱، ص ۳۶۸۔

[54]۔المناقب خوارزمی، ص ۱۸۴؛الامامۃ و السیاسۃ دینوری، ج۱، ص ۷۰۔

[55]۔المناقب خوارزمی، ص ۱۸۲۔

[56]۔مقابل الطالبین، ص ۵۵۔

[57]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۱۹؛کتاب الولایۃ لابن عقدہ کوفی، ص ۱۷۵۔

[58]۔کفایۃ الطالب، ص ۳۷۷؛ ترجمہ امام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۱، ص ۲۷۲۔

[59]۔کفایۃ الطالب، ص ۳۷۶؛ مناقب علی ابن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علیٍ لابن مردویہ، ص ۳۰۵۔

[60]۔نور الابصار، ص ۲۲۶۔

[61]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۱، ص ۲۷۴۔

[62]۔مناقب علی بن ابی طالب و ما نزل من القرآن فی علی لابن مردویہ ، ص ۳۰۴، در منثور، ج۵، ص ۱۹۹۔

[63]۔فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۱۶؛ کتاب الولایۃ، ص ۲۰۱۔

[64]۔کتاب الولایۃ، ص ۲۰۱۔

[65]۔فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۱۸؛ کتاب الولایۃ، ص ۲۰۲۔

[66]۔مناقب علی بن ابی طالب وما نزول من القرآن فی علیٍ، لابن مردویہ ، ص ۲۱۳۔

[67]۔تفسیر درمنثور، ج۵، ص ۱۹۹؛ تفسیر روح المعانی، جزء۲۲، ص ۱۴،طبع بیروت؛ تفسیر فتح القدیر، ج۴، ص ۳۹۹، طبع دار الفکر؛مناقب علی ابن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علی، لابن مردویہ، ص ۳۰۵۔

[68]۔ فرائد السمطین، ج۲، ص ۱۳۳، باب ۳۱، طبع بیروت، ینابیع المودۃ، ص ۳۰۳، ۵۰۴،طبع بیروت ۔

[69]۔ آیت تطہیر کی تفسیر میں مزید معلومات کے لیے ہمارےتحقیقی رسالے، تحقیق در تفسیر آیہ تطہیر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

[70]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۱۱۔

[71]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۱۱۔

[72]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۱۱۔

[73]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۳۔ ۵۴۔

[74]۔مناقب علی ابن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علیٍ، لابن مردویہ، ص ۱۱۱۔

[75]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۱۰۔

[76]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۱۔

[77]۔الاستیعاب، ج۲، ۵۰؛ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ص ۱۰۰۔

[78]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۰؛فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۶۸۔

[79]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۰۔

[80]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۰؛ کنزالعمال، ج۱۳، ص ۱۳۰۔ ۱۳۱؛ أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ص ۱۰۰۔

[81]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۵۳۔

[82]۔المستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۰۷؛ تہذیب التہذیب عسقلانی، ج۷، ص ۳۳۹؛ الاستیعاب، ج۲، ص ۵۶؛ شواہد التنزیل، ج۱، ص ۱۹؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۳، ص ۸۳؛اسمی المناقب فی تہذیب أسنی المطالب فی مناقب الامام أمیر المومنین علی بن ابی طالب، تالیف محمد جزری شافعی دمشقی، ص ۱۹؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۷۹؛ تاریخ الاسلام (ذہبی) حوادث سن ۱۱۔۴۰ (علی بن ابی طالب ) ص ۷۳۸ و کتب دیگر۔

[83]۔کفایۃ الطالب، ص ۲۸۳۔

[84]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۳، ص ۲۵۲، ح ۱۲۶۹؛المناقب خوارزمی، ص ۱۱۷، ح ۱۲۸؛ تاریخ الاسلام، ذہبی (ذکر علی بن ابی طالب) ص ۶۴۵۔

[85]۔المناقب خوارزمی، ص ۱۲۲، ح ۱۳۷۔

[86]۔سورہ شعراء، آیت ۲۱۴۔

[87]۔تاریخ طبری، ج۱، ص ۵۴۳، طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت؛ الکامل فی التاریخ، ج۲ ص ۶۳ و کتب دیگر۔

[88]۔تفسیر در منثور، ج۵، ص ۹۷؛ تفسیر طبری، ج۱۹، ص ۷۴؛ تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۱۳۶۴؛ تفسیر معالم التنزیل، ج۴، ص ۱۶۱؛ شواہد التنزیل، ج۱، ص ۳۷۲ و ۴۲۰؛تذکرۃ الخواص، ص ۳۸؛ مسند احمد، ج۱، ص ۱۱۱؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر الشافعی، ج۱، ص ۱۰۲؛ السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص ۲۸۶؛ ینابیع المودۃ، ص ۱۰۵؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۰۵؛تاریخ ابی الفداء، ج۱، ص ۱۱۹؛ کنز العمال، ج۱۳، ص ۱۱۴۔ ۱۲۹؛ مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علیٍ۔ لابن مردویہ، ص ۲۹۰ و کتب دیگر۔

[89]۔سورۃ المائدہ، آیت ۵۵۔

[90]۔تفسیر کبیر رازی، ۱۲/ ۲۶،طبع دار احیاء التراث العربی بیروت، در منثور سیوطی ۳/ ۱۰۵، طبع دار الفکر بیروت، فتح القدیر شوکانی، ۲/ ۵۰؛تفسیر ابن کثیر دمشقی، ۲/ ۷۴ طبع دار المعرفۃ بیروت؛تفسیر کشاف، ۱/ ۳۴۷،طبع دار المعرفۃ بیروت؛ تفسیر مظہری،۳/ ۱۳۲؛ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان؛تفسیر بیضاوی، ۱/ ۲۷۲،طبع دار الکتب العلمیۃ؛ تفسیر خازن، ۱/ ۴۶۸، طبع دار الفکر؛تفسیر طبری، ۶/ ۱۶۵،طبع مصر؛ تفسیر نسقی بر حاشیہ تفسیر خازن، ۱/ ۴۶۸؛ بحر المحیط ۳/ ۵۱۳، دار احیاء التراث العربی بیروت؛تفسیر غرائب القرآن نیشاپوری بر حاشیہ تفسیر طبری ۴/ ۱۶۷۔ ۱۶۸ و کتب دیگر۔

[91]۔روح المعانی، جزء ۶، ص ۱۶۷، طبع دار احیاء التراث العربی بیروت۔

[92]۔سورہ طہ، آیات ۲۵ تا ۳۲۔

[93]۔سورہ قصص، آیت ۳۵۔

[94]۔تفسیر کبیر، ۱۲/ ۲۶، طبع دار احیاء التراث العربی بیروت و کتب دیگر۔

[95]۔تفسیر المنیر فی العقیدۃ و الشریعۃ و المنہج جزء سادس، س ۲۳۲،طبع دار الفکر۔

[96]۔احکام القرآن ابوبکر رازی، ج۲/ ۴۴۶ و کتب دیگر۔

[97]۔تفسیر کشاف۱/ ۳۴۷، طبع دار المعرفۃ بیروت، تفسیر مظہری،تالیف قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی، ج۳/ ۱۳۲۔

[98]۔سنن ترمذی، ج۵، ص ۲۹۶؛خصائص امیر المومنین (نسائی) ص ۸۷ و (ص ۹۷ پر وہو ولیکم بعدی کے الفاظ بھی موجود ہیں)، تذکرۃ الخواص ، ج۱، ص ۲۸۳ مطبع لیلی؛ کفایۃ الطالب ص ۱۱۵؛ مستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۱۰؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۸۶؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۵۳؛میزان الاعتدال، ذہبی، ج۱، ص ۴۱۰؛ کنز العمال، ج۱۳، ص ۱۴۲ و کتب دیگر۔

[99]۔سورہ توبہ، آیت ۷۱۔

[100]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۱۹ و کتب دیگر۔

[101]۔مائدہ، آیت ۵۶۔

[102]۔تفسیر برہان، ۱/ ۴۸۰؛تفسیر المیزان، ۶/ ۱۶۔ ۱۷ مختصر تفاوت کے ساتھ؛ مناقب علی بن ابی طالب و ما نزل فی القرآن فی علیٍ، لابن مردویہ، ص ۲۳۷، ناشر دار الحدیث؛ المناقب خوارزمی، ص ۲۶۴، ۲۶۵؛ تفسیر در منثور، ج۲، ص ۲۹۳ (مضمون فوق) ؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۱۹۰، ۱۹۳ و کتب دیگر۔

[103]۔نساء، آیت ۵۹۔

[104]۔اعلام الوری بأعلام الہدی، ج۲/ ۱۸۱۔ ۱۸۲؛ کمال الدین و تمام النعمۃ، ص ۲۵۳۔

[105]۔فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۱۴۔ ۳۱۵؛ کتاب الولایۃ، ص ۱۹۹ (قریب بہ ھمین مضمون اختصار کے ساتھ)۔

[106]۔ینابیع المودۃ، الجزء الاول، ص ۱۳۵،طبع بیروت باب ۳۸۔

[107]۔اثبات الہداۃ، ج۱/ ۴۷۶۔

[108]۔اثبات الہداۃ، ج۱/ ۴۶۵۔ ۴۶۶۔

[109]۔سورہ مائدہ، آیت ۶۷۔

[110]۔تفسیر فتح القدیر، ج۲، ص ۸۸،طبع دار الفکر، تفسیر درمنثور سیوطی، ج۲، ص ۲۹۸؛ شواہد التنزیل، ج۱، ص ۱۸۷۔ ۱۹۲؛ تاریخ دمشق، ج۴۲، ص ۲۳۷؛ الفصول المھمہ، ص ۲۵؛فرائد السمطین، ج۱، ص ۱۵۸ و کتب دیگر۔

[111]۔ارشاد شیخ مفید، ۱/ ۱۷۵۔ ۱۷۶؛ سنن ترمذی، ج۵، ص ۲۹۷؛المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص ۱۱۰؛ مسند احمد ج۱، ص ۸۸؛ تفسیرکبیر فخر رازی، ج۳، ص ۶۳۶؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۶۰؛ تفسیر در منثور ج۵، ص ۱۸۲ و کتب دیگر۔۔

[112]۔تفسیر کبیر فخر رازی، ج۳، ص ۶۳۶؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۵۵؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۶۵۔ ۷۱؛ ذخائر العقبی ص ۶۷؛ کنز العمال، ج۱۳،ص ۱۳۴؛ مسند احمد، ج۴، ص ۲۸۱؛ الفصول المھمہ ص ۲۴؛ تذکرۃ الخواص، ص ۲۹؛ کفایۃ الطالب، ص ۶۲؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۳۷ و کتب دیگر۔

[113]۔سورہ مبارکہ المائدہ، آیت نمبر ۳۔ (ازالہ شبھہ) اہل سنت کی دیگر روایت کہ یہ آیت عرفہ میں نازل ہوئی ہے کو بھی اگر ملاحظہ کیا جائے تو مقام میں پھر بھی منافات نہیں رکھتی چونکہ ممکن ہے یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی ہو ایک مرتبہ عرفہ میں اور ایک مرتبہ غدیر پر جیسا کہ ابن جوزی نے یہ احتمال دیا ہے۔ تذکررۃ الخواص، ج۱، ص ۲۶۵ باب ثانی اور ہمارے نزدیک اس آیت غدیر خم پر نازل ہونا مسلمات سے ہے۔

[114]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر الشافعی، ج۲، ص ۸۶؛ تذکرۃ الخوواص، ج۱، ص ۲۶۵؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۷۲، ۷۴، ۳۱۵؛ مقتل الحسین الخوارزمی، ص ۸۱؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۳۷؛ شواہد التنزیل، ج۱، ص ۱۵۷۔ ۱۶۰؛ تفسیر در منثور، ج۲، ص ۲۵۹؛ مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علی، لابن مردویہ، ص ۲۳۱۔ ۲۳۲ و کتب دیگر۔

[115]۔مقتل الحسین الخوارزمی ، ص ۸۱؛مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علی، ص ۲۳۲؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۷۳، ۷۴۔

[116]۔اہل سنت کے جید عالم شمس الدین ذہبی حدیث غدیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صدر حدیث متواتر ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ رسول خداؐ نے فرمایا ہے أما جملہ اللہم و ال من والاہ یہ زیادہ ہے لیکن اس کے اسناد قوی ہیں۔ صدر الحدیث متواتر اتیقن أن رسول اللہ (ص) قالہ و أما اللہم وال من والاہ وفزیادۃ قویۃ الاسناد، البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر الدمشقی، ج۵، ص ۱۸۸، طبع دار الکتب بیروت۔

[117]۔خصائص نسائی، ص ۱۰۱۔

[118]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۴۵۔ ۴۶۔

[119]۔تہذیب أسنی المطالب، ص ۳۱؛کفایۃ الطالب، ص ۶۳، ۶۴؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۱۸؛ و ارشاد مفید ۱/ ۱۷۶ و کتب دیگر۔

[120]۔مسند احمد، ج۴، ص ۲۸۱؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۵۶؛ فرائد السمطین، ج۱،ص ۶۵، ۷۱، ۷۷۔

[121]۔کفایۃ الطالب، ص ۶۴؛ تذکرۃ الخواص، ج۱،ص ۲۷۲۔۲۷۳ و فیہ ، لا تزال مؤیدا بروح القدس ما نصرتنا و مقتل الحسین خوارزمی،ص ۸۱ و کتب دیگر۔

[122]۔خصائص نسائی، ص ۹۳ و کتب دیگر۔

[123]۔نور الابصار، ص ۱۵۹، باب مناقب علی بن ابی طالب، بحوالہ تفسیر ثعلبی؛ تذکرۃ الخواص، ج۱، ص ۲۶۷، ناشر مرکز الطباعۃ و النشر للمجمع العالمی لأہل البیتؑ؛ الفصول المھمۃ، ص ۲۵ ؛ فرائد السمطین، ج۱، ص۸۲ و کتب دیگر۔

[124]۔مقتل الحسین خوارزمی، ص ۸۱؛ و مناقب علی بن ابی طالب و ما نزل من القرآن فی علیٍ،لابن مردویہ ص ۲۳۲۔

[125]۔احتجاج طبرسی، ۲/ ۱۸۳۔

[126]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مغازلی، ص ۱۱۷ وکتب دیگر۔

[127]۔اسمی المناقب فی تہذیب اسنی المطالب فی مناقب الامام امیر المومنین علی بن ابی طالب، ص ۳۳۔

[128]۔امالی صدوق، ص ۱۸۸۔ ۱۹۷؛بشارۃ المصطفی، ص۲۳۔

[129]۔امالی شیخ صدوق، ص ۱۸۸۔ ۱۹۸؛بشارۃ المصطفی، ص ۲۳؛ الاقبال،۲/ ۲۶۴۔

[130]۔الخصال شیخ صدوق، ۲۶۴۔ ۱۴۵۔

[131]۔اقبال سید ابن طاووس، ج۲،ص ۲۶۰۔

[132]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق ، ج۲، ص ۷۷؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۳۷ و کتب دیگر۔

[133]۔سورہ قصص، آیت ۶۸۔

[134]۔سورہ لیل، آیت ۱۲۔

[135]۔سورہ نساء، آیت ۵۹۔

[136]۔اہل سنت کے نظریہ کے مطابق کہ حضورؐ نے اپنی جانشین کے مسئلہ کو امت پر چھوڑ دیا تھا جس کو چاہیں منتخب کریں تو پھر پوری امت مل کر حضورؐ کے بارہویں جانشین کا انتخاب کیوں نہیں کر رہی سب مل کر ایک شخص کو امام مہدیؑ ما ن لیں ان کی انتظار کیوں کر رہے ہیں؟ اگر یہ کہا جائے کہ خود حضورؐ نے ان کے بارے میں ان کا نام ان کی کنیت اور دیگر علامات اور نشانیاں بتائی ہیں کہ وہ اہل بیت ؑ سے ہوں گے اور اولاد فاطمہ ؑ سے ہوں گے اور آخر الزمان میں ظہور فرمائیں گے تو جواب میں کہا جائے گا کہ جب حضورؐ نے اپنے آخری جانشین کے بارے میں اتنا اہتمام کیا ہے کہ ان کا نام اور علامات ، نشانیاں تک بیان فرمائی ہیں تاکہ اگر کوئی جھوٹا شخص دعوی مہدویت بھی کرے تو لوگ ان علامات کے ذریعے، اس کے کاذب ہونے کو جان سکیں اور گمراہ نہ ہوں تو معلوم ہوا کہ حضورؐ نے اپنی جانشین کے مسئلہ کو امت کے حوالے نہیں کیا۔ جب حضور ؐ نے اپنے آخری جانشین کا نام بتایا ہے تو اپنے پہلے جانشین کا ہاتھ پکڑ کر بلند کرکے میدان خم غدیر میں مجمع عام کے سامنے دکھایا ہے۔ اب جس کی مرضی وہ مانے یا نہ مانے۔ حضورؐ نے حجت تمام کردی ہے اور اپنی جانشینی کے مسئلہ کو امت کے حوالے نہیں کیا کیونکہ امت کے حوالے کرنے کی صورت میں بہت سارے مفاسد لازم آتے ہیں۔ خلیفہ کے انتخاب میں لڑائی جھگڑے کا خوف بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ کے انتخاب کا معیار کیا ہوگا۔ خلیفہ کے لیے کن شرائط کا ہونا لازمی ہے۔ رسول خداؐ نے سلام کرنے، کھنگی کرنے اور تخلی کے آداب (لیٹرین جانے کے) آداب تک تو بتا دیئے ہیں اور یہ کیسے باور کیا جائے کہ خلافت جیسے اہم مسئلہ کو حضورؐ نے مہمل چھوڑ دیا ہو؟

[137]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۱۷؛کتاب الولایۃ، ص ۱۶۹۔

[138]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۷، ۸، ۹، ۱۱، ۱۳، ۱۸، ۱۹، ۲۵ و کتب دیگر۔

[139]۔آقای عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین نے ان روایات کو جمع کرکے اور کتاب پر مقدمہ لکھ کر اور اسے ترتیب دے کر نسل حاضر کے لیے بہت بڑی خدمت کی ہے جزاہ اللہ خیرا اور یہ کتاب اب طبع ہوچکی ہے۔

[140]۔الغدیر، ج۱، ص ۳۱۱۔نوٹ: علامہ امینی نے حدیث غدیر کی سند کے بارے میں تفصیلاً بحث کی ہے اور تنتالیس ۴۳ علماء اہل سنت کی عبارتوں کو صحت حدیث غدیر پر تواتر کے بارے میں نقل کیا ہے۔

[141]۔لیکن امیر المومنین علی ؑ کی ظاہری خلافت میں اس نے آپ کی بیعت نہیں کی تھی۔ اسی لیے حضورؐ نے اسے غدیر پر مشروط دعا دی تھی کہ جب تک تو ہماری نصرت میں رہے خدا تیری تائید کرے۔

[142]۔کفایۃ الطالب، ص ۵۶؛ ترجمۃ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲ ص ۸ و کتب دیگر۔

[143]۔صحیح مسلم، ۷/ ۱۲۰؛ سنن ترمذی ۵/ ۳۰۲، ۳۰۴، باب مناقب علی ابن ابی طالب؛ سنن ابن ماجہ ،۱/ ۴۵؛ خصائص نسائی، ۴۸، ۵۰؛ مستدرک حاکم،ج۲/ ۳۳۷، ج۳/ ۱۰۸۔ ۱۳۳؛ مسند احمد، ۱/ ۳۶۰؛ کفایۃ الاثر، ۱۳۵؛ عیون اخبار الرضا، ۲/ ۱۲۲، باب ۳۵،ج۲، باب ۳۱، ص ۲۵؛ خصال ۳۱۱؛امالی صدوق، ۱۵۶، مجلس ۲۱؛ارشاد مفید۱/ ۱۵۶ و کتب دیگر۔

[144]۔تذکرۃ الخواس ، تحقیق حسین تقی زادہ، ج۱، ص ۲۰۵ (حاشیہ)۔

[145]۔ینابیع المودۃ ۱/ ۲۵۲۔

[146]۔سنن ترمذی ۲/ ۲۹۹؛ مستدرک الصحیحین للحاکم النیشاپوری ۳/ ۱۴؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن مغازلی ص ۵۳؛کفایۃ الطالب، ص ۱۹۴ پر حافظ گنجی فرماتے ہیں:ہذا حدیث حسن عالی صحیح۔ یہ حدیث حسن عالی صحیح ہے ۔ و کتب دیگر۔

[147]۔فتح الباری شرح صحیح بخاری ۷/ ۹۳، طبع قاہرہ۔

[148]۔تاریخ الخلفاء سیوطی، ص ۱۸۵ کے الفاظ استخلفہ علی المدینۃ۔

[149]۔استیعاب فی اسماء الاصحاب ج۲/ ۴۶ (ذکر ترجمہ علی ؑ)۔

[150]۔{ وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي ۔ هَارُونَ أَخِي ۔ اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي ۔ وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي }(سورہ طہ، آیات ۲۹ تا ۳۲) حضرت موسیٰ نے پروردگار سے دعا کی (پروردگارا) میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دیدے ہارون کو جو میرا بھائی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک بنادے۔

{وَقَالَ مُوسَى لأخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ الخ}(سورہ اعراف آیت ۱۴۲) اور موسی نے اپنے بھائی ہارون س کہا کہ تم میری قوم میں خلیفہ ہو اور اصلاح کرتے رہو۔ کفایۃ الطالب، ص ۱۱۴۔

[151]۔مسند احمد، ۴/ ۴۳۷؛ مستدرک حاکم، ۳/ ۱۱۰ و کتب دیگر۔

[152]۔سنن ترمذی، باب مناقب علی بن ابی طالب؛ و خصائص نسائی، ص ۹۸؛کنز العمال، ۶/ ۳۹۹؛ مستدرک حاکم ۳/ ۱۱ و کتب دیگر۔

[153]۔الفاروق شبلی نعمانی، مکتبہ اسلامیہ، ص ۶۳ (باب) سقیفہ بنی ساعدہ۔

[154]۔حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق باب مناقب علی ابن ابی طالب میں اس مضمون کی پانچ روایات کو ذکر کیا ہے۔ کنز العمال، ۶/ ۴۰۸؛مجمع الزوائد ۹/ ۱۱۸؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۷۳؛ ریاض النضرۃ ۲/ ۲۱۰؛ مستدرک علی الصحیحین ۳/ ۱۳۹؛باب مناقب علی ؑ؛ تاریخ بغداد ۱۲/ ۳۹۷؛ نور الابصار، ص ۱۶۱ و کتب دیگر۔

[155]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۳، ص ۱۴۸؛ المستدرک حاکم ج۳، ص ۱۴۰، ۱۴۲ (الفاظ میں مختصر تفاوت کے ساتھ)۔

[156]۔المناقب خوارزمی، ص ۶۵؛ کنز العمال، ج۱۳، ص ۱۷۶؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب ج۲، ص ۳۲۲۔ ۳۲۳۔ ۳۲۵؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۲۴۔

[157]۔ہاں جب علمی مشکلات میں دوچار ہوجاتے تو آبرو ریزی سے بچنے کی خاطر حضرت علی ؑ سے پناہ لیتے تھے۔

[158]۔خصائص امیر المومنین (نسائی) ص ۹۳ و کتب دیگر۔

[159]۔در منثور سیوطی، ۲/ ۶۰؛ احیاء المیت، ص ۴۸؛مجمع الزوائد ۹/ ۱۶۲؛ مسند احمد ۵/ ۱۸۲ و کتب دیگر۔

[160]۔حدیث ثقلین مختلف الفاظ کے ساتھ شیعہ ، سنی کی بہت سی کتب میں نقل ہوئی ہے لیکن سب کا مفاد ایک ہی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث ثقلیں کو حضورؐ نے چار یا پانچ مرتبہ مختلف مقامات پر فرمایا ہے، حجۃ الوداع کے دن، عرفات کے دن، طائف سے واپسی پر خطبہ میں، غدیر کے دن اپنے خطبہ میں، اپنے حجرہ میں اصحاب کو وصیت کرتے ہوئے بوقت وفات۔ جن بعض روایات میں لفظ سنتی آیا ہے وہ روایات ضعیف بلکہ جعلی ہیں، اولاً تو بخاری اور مسلم میں نقل نہیں ہوئیں و ثانیاً ان کے رواۃ قابل قبول نہیں ہیں۔

[161]۔صواعق محرقہ، ص ۱۵۰، ۲۲۸؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۶۴؛ کنز العمال، ج۱، ص ۱۶۸، ح ۹۵۸ و کتب دیگر۔

[162]۔یہ کیسے کہا جائے کہ سب سے افضل تو علی علیہ السلام ہیں لیکن رسول کا خلیفہ کوئی اور ہے اور افضلیت کے معیاروں میں سے سب سے بڑا معیار علم ہے کیا کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ امت محمدؐ میں کوئی حضڑت علی ؑ سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ اگر کوئی دعویٰ کرے یا تو وہ جاہل ہے یا متعصب کیونکہ حضورؐ نے حضرت علی ؑ کی شان میں فرمایا: انا مدینۃ العلم و علی بابہا؛ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دوازہ ہے۔

[163]۔رحلت پیغمبرؐ کے بعد وحی نبوتی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوگیا۔ چونکہ حضورؐ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہے لیکن حضورؐ جس مقصد و ہدف کے لیے مبعوث ہوئے تھے (یعنی اسلام) وہ مقصد و ہدف قیامت تک کے لیے باقی ہے لہذا اس مقصد رسالت ، اسلام کی حفاطت اور امت کی رہبری کے لیے حضورؐ کے معصوم جانشین کا ہونا ضروری ہے۔

[164]۔مستدرک حاکم، ۲/ ۳۴۳؛مجمع الزوائد، ۹/ ۱۶۸؛ صواعق محرقہ ۷۵؛ کنز العمال، ۶/ ۲۱۶؛ نور الابصار، ص ۲۲۹، باب ثانی؛ کفایۃ الطالب، ۳۷۸ و کتب دیگر بہ ہمین مضمون با اندک تفاوت؛ ذخائر العقبی، ص ۲۰۔

[165]۔صواعق محرقہ، ص ۱۵۱۔

[166]۔یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ ہم اہل بیت ؑ کو مانتے ہیں لیکن اطاعت ہم پر خلیفہ کی واجب ہے (جو کہ اہل بیت ؑ سے بھی نہیں ہے) اور مقام عمل میں بھی خلیفہ کی سیرت پر چلنا ہے یہ دو باتیں آپس میں جمع نہیں ہوسکتیں چونکہ نجات کا دارو مدار اہل بیت ؑ کے ساتھ تمسک رکھنے اورانکی اطاعت میں ہے، اہل بیت ؑ کو وہی مانتا ہے جو کہ ان کے حکم کے مطابق چلے۔ مخفی نہ رہے کہ شوری میں حضرت علی علیہ السلام نے شیخین کی سیرت پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔ شرح فقہ اکبر و کتب دیگر۔

[167]۔صحیح بخاری، و سنن ترمذی ۲/ ۲۹۹ ؛ خصائص امیر المومنین (للنسائی) ص ۱۲۲؛ فتح الباری شرح صحیح البخاری ۷/ ۸۷ باب مناقب علی بن ابی طالب؛ مسند احمد۱/ ۹۸؛ مجمع الزوائد ۹/ ۲۷۵؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۵۷؛ کنز العمال، ۵/ ۵۷۹ و کتب دیگر؛ کفایۃ الاثر ۱۵۸؛الخصال ص ۴۹۶؛ عیون اخبار الرضا۲/ ۵۸؛ امالی صدوق، ۶۶؛ ارشاد مفید، ۱/ ۴۶ و کتب دیگر۔

[168]۔نوٹ نمبر ۱: بعض روایات میں ہے کہ لمبارزۃ علی بن ای طالب لعمرو بن عبدود یوم الخندق افضل عمل امتی الی یوم القیامۃ ؛یعنی علی بن ابی طالب ؑکا خندق کے دن عمرو بن عبدود کے ساتھ مبارزہ (جنگ) کرنا میری پوری امت کے قیامت تک کے عملوں سے افضل ہے۔ المناقب خوارزمی، ص ۱۰۷؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۲۵۶ و کتب دیگر۔

نوٹ نمبر ۲: اسی روایت سے ملتے جلتے الفاظ دیگر کئی کتب میں پائے جاتے ہیں۔

[169]۔المناقب خوارزمی، ص ۱۴۸ و کتب دیگر۔

[170]۔فتح الباری ۷/ ۹۲۔اسی مضمون کی روایات دیگر کتب میں بھی پائی جاتی ہیں۔

[171]۔خصائص امیر المومنین (نسائی) ص ۹۱۔ ۹۲؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۵۵؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۸۸۔

[172]۔المناقب خوارزمی، ص ۱۶۵ و کتب دیگر۔

[173]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب ، ج۱، ص ۳۳۴ و کتب دیگر۔

[174]۔ترجمہ الامام علی بن ابی طالب عن تاریخ دمشق، ج۳، ص ۵،طبع بیروت؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۶۰؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن مغازلی، ص ۱۶۷، باختلاف یسیر فی اللفظ؛ذخائر العقبی، ص ۷۱؛ریاض النضرۃ، ج۲، ص ۱۷۸؛ المناقب خوارزمی، ص ۸۵ و کتب دیگر۔

[175]۔المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص ۱۳۸؛ طبع دار المعرفۃ بیروت؛المناقب خوارزمی، ص ۲۹۵؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۲۱؛أسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۱، ص ۶۹، ج۳، ص ۱۱۶؛ کفایۃ الطالب، ص ۱۹۰؛حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص ۶۶؛ مناقب علی ابن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۰۹، ۸۰؛ الریاض النضرۃ، ج۲، ص ۱۷۷؛ کنز العمال، ۶/ ۳۹۴؛مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ (جمعہ و رتبہ و قدم لہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین) ص ۵۷ الناشر دار الحدٰث؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق ، ج۲، ص ۲۵۷، ۲۵۸۔

نوٹ: اسی مضمون کی روایات بہت سی کتب میں پائی جاتی ہیں۔

[176]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۶۱۔

[177]۔المستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۲۸؛ تذکرۃ الخواص، ج۱، ص ۲۲۹، مطبع لیلی؛ مناقب علی بن ابی طالب، لابن المغازلی، ص ۱۰۷، ناشر انتشارات سبط النبیؐ؛نور الابصار، ص ۱۶۴؛ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۲۳۱؛ المناقب خوارزمی، ص ۳۲۷؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۱۲۸۔

[178]۔الاستیعاب، ج۲، ص ۴۷ و کتب دیگر۔

[179]۔مناقب علی بن أبی طالب لابن مردویہ، ص ۵۱؛ مناقب علی ابن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۰۶؛ المناقب الخوارزمی، ص ۱۱۲ و کتب دیگر۔

[180]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۶۰؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۲۷۲؛ المناقب خوارمی، ص ۳۲۱؛کفایۃ الطالب، ص ۲۶۴ (قریب قریب الفاظ کے ساتھ) مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۸۰۔

[181]۔سنن الترمذی، ج۵، ص ۳۰۰، ح ۳۸۰۳؛ سنن ابن ماجہ، ج۱، ص ۴۴، ح ۱۱۹؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۸۵۔ ۱۸۸؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۳۴ و فیہ ولا یقضی دینی) خصائص امیر المومنین للنسائی ص ۹۰؛ مسند احمد، ج۱، ص ۹۸؛الجامع الصغیر للسیوطی، ج۲، ص ۵۶؛ فرائد السمطین، ج۱،ص ۵۹؛ تذکرۃ الخواص، ج۱، ص ۲۸۴، مطبعہ لیلی،نور الابصار، ص ۱۶۰؛ اجامع الاصول لابن الاثیر، ج۹، ص ۴۷۱، ح ۶۴۸۱؛ الریاض النضرۃ، ج۲، ص ۲۲۹؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق، ج۲، ص ۳۷۸۔ ۳۷۹؛ مشکوۃ شریف، ج۳، ص ۲۵۹؛ کنز العمال، ج۱۱، ص ۶۰۳، ح ۳۲۹۱۳؛ تاریخ بغداد، ج۴، ص ۱۴۰؛ حلیۃ الاولیاء، ج۶، ص ۲۹۴ (ابو نعیم اصفہانی)؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۲۷؛ کفایۃ الطالب، ص ۲۷۶ و کتب دیگر۔

[182]۔مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۹۸؛ جامع صغیر (سیوطی)، ج۲، ص ۱۴۰؛ صواعق محرقہ، ص ۷۵؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۴۴۔ ۱۴۸؛نور الابصار، ص ۱۶۳؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن مردویہ، ص ۱۰۷؛ کنز العمال، ج۱۱، ص ۶۰۳، ح ۳۲۹۱۴؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۳۷۵ و کتب دیگر۔

[183]۔الستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۲۴؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۱۹۶؛ کنز العمال، ج۶، ص ۱۵۶؛ المناقب خوارزمی، ص ۱۰۵؛ فضائل الصحابہ لابن حنبل، ج۲، ص ۵۷۰؛ تاریخ بغداد، ج۱۳، ص ۱۸۶؛ ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۲۶۸؛تحقیق الشیخ محمد باقر المحمودی، طبع بیروت موسسہ المحمودی للطباعۃ و النشر؛ فرائد السمطین، ج۱، ص ۳۰۰ و کتب دیگر۔

[184]۔المناقب خورازمی،ص ۱۴۰ و کتب دیگر۔ مخفی نہ رہے کہ حضورؐ کے جھنڈے پر لکھا ہوا ہے: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ، کما فی ینابیع المودۃ، ص ۹۷، باب ۱۶ و ۲۹۶۔

[185]۔صحیح بخاری کتاب الاحکام۔

[186]۔صحیح مسلم، باب ان الناس تبع لقریش۔

[187]۔المستدرک علی الصحیحین، ج۴، ص ۵۰۱۔

[188]۔مسند احمد، ۵/ ۹۲۔

[189]۔ینابیع المودۃ قندوزی۔

[190]۔سنن ترمذی ۴/ ۵۰۱؛ سنن ابی داؤد ۴/ ۱۰۶؛ صحیح ابن حبان ۱۵/۱۴؛ مسند احمد، ج۵، ص ۹۹؛ المستدرک علی الصحیحین ۳/ ۶۱۸؛ مسند ابی داؤد الطیالسی ۱۰۵۔ ۱۸۰؛ مسند ابی یعلی ۱۳/ ۴۵۴؛ تاریخ کبیر بخاری ۳/ ۱۸۵؛تاریخ بغداد ۱/ ۵۳۸؛ صواعق محرقہ، فتح الباری شرح صحیح البخاری ۱۳/ ۲۲۴۔ ۲۲۵؛ ذخائر العقبی؛ فرائد السمطین؛البیان گنجی و غیر ذلک۔

و کتب شیعہ: عیون اخبار الرضاؑ ۱/ ۴۹، باب ۶؛ الخصال صدوق ۴۷۷؛ کمال الدین و تمام النعمۃ ۶۸؛ مناقب آل ابی طالب ۱/ ۲۹۵ و کتب دیگر۔

[191]۔سورہ مائدہ، آیت ۱۲۔

[192]۔نہج البلاغۃ، خطبہ ۱۴۴۔

[193]۔چنانچہ اہل سنت کے سلیمان حنفی قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودۃ میں ص ۵۰۴ پر مذکورہ مطالب کو تحقیقاً ذکر کیا ہے۔

[194]۔یہ آیت اور آیات دیگر۔

[195]۔سورہ مبارکہ حج، آیات ۷۷۔ ۷۸۔

[196]۔کتاب الولایۃ للامام الحافظ ابی العباس احمد بن محمد بن سعید ابن عقدۃ الکوفی، ص ۱۹۹ تا ۲۰۲۔جمعہ و رتبہ و قدم لہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین۔

[197]۔اگرچہ جن لوگوں کے دلوں میں مرض پائی جاتی ہے وہ فضائل اہل بیت علیہم السلام والی روایات کے رواۃ اور مؤلفین پر طرح طرح کے الزام لگا کر انہیں ضعیف قرار دینے یا روایت کا معنی بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

[198]۔فرائد السمطین، ج۱، ص ۵۳۔

[199]۔فرائد السمطین، ج۱، ص ۵۴، ۵۵، طبع بیروت۔

[200]۔ینابیع المودۃ، باب۷۷، ۵۰۳؛ مودۃ القربی، ص ۲۹؛فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۳ (عن عبد اللہ بن عباس)۔

[201]۔مقتل الحسین خوارزمی، ص ۲۱۲؛ ینابیع المودۃ، ج۲، ص ۳۱۶۔

[202]۔الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد الاکابر، ص ۵۶۲۔

[203]۔اس کتاب کا اردو ترجمہ بنام جمال المنتطر ہوچکا ہے۔

[204]۔الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد الاکابر، ص ۵۶۲۔

[205]۔فتح الباری عسقلانی، ج۶، ص ۵۶۹،باب نزول عیسیٰ۔ العرف الوردی فی أخبار المہدی، ص ۱۷۶۔

[206]۔سورہ نحل، آیت ۸۹۔

[207]۔سورہ انعام، آیت ۵۹۔

[208]۔سورہ جن، آیت ۲۶۔ ۲۷۔

[209]۔سورہ طہ،آیت ۱۱۴۔

[210]۔المستدرک حاکم، ج۲، ص ۱۲۶، ۱۲۷۔ بسند صحیح، ترجمہ الامام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق ج۲، ص ۴۶۴؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۸۷ و کتب دیگر۔

[211]۔سنن ترمذی، ج۵، ص ۶۳۷، باب مناقب علی بن ابی طالب ؑ، مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۹۳؛البدایۃ و النہایۃ، ج۷، ص ۳۷۲۔

[212]۔سورہ رعد، آیت ۴۳۔

[213]۔تفسیر الجامع لاحکام القرآن، ج۹، ص ۳۳۶ (للقرطبی)؛ مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علیٍ لابن مردویہ، ص ۲۶۸، تحقیق عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین؛ ینابیع المودۃ، ص ۱۰۲۔

[214]۔سورہ آل عمران، آیت ۴۹۔

[215]۔اللہ نے اس آیت میں عیسیٰ نبی کی قدرت اور علم کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے اور قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے کہ ہمیں یہ بھی بتائے حضرت عیسیٰ نے کتنے نابیناؤں کو بینا کردیا اور کتنے مردے زندہ کیے۔ جب اللہ نے ان کو یہ قدرت دی ہے ، اب ان کی مرضی، حالات کے تقاضا کے مطابق جتنے مریضوں کو شفا دے دیں۔ چنانچہ منقول ہے کہ ان کے پاس ہزاروں مریض اکٹھے ہوجاتے تھے جن کو وہ شفا دیتے تھے اور جو ان تک نہیں آسکتے تھے وہ خود ان کے پاس چلے جاتے اور ان کو شفا دیتے تھے۔ یہ اپنے وقت کا حجت خدا اور باب اللہ ہے یہ بات بعید ہے کہ کوئی ان کو حجت خدا سمجھ کر ان کے دروازہ پر آئے اور وہ ان کی حاجت روا نہ کریں ۔ مفسرین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چار مردوں کے زندہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ ہماری نظر سے دیگر کئی روایات گزری ہیں جن میں دیگر مردوں کے زندہ کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔ ممکن ہے مفسرین نے بعض روایات کو ملاحظہ کیا ہو جس میں مذکورہ تعداد کا ذکر ہو۔

[216]۔سورہ نمل ، آیت ۴۰۔

[217]۔سورہ رعد، آیت ۴۳۔

[218]۔البتہ مخفی نہ رہے کہ انبیاء اور اوصیاء اپنے مخصوص علم و قدرت کو اپنے ذاتی کاموں میں عام حالات میں استعمال نہیں کرتے بلکہ ظاہری علم و قدرت کے مطابق رفتار کرتے ہیں، ہاں جہاں حالات تقاضا کریں وہ اپنے علم اور قدرت کا اظہار کرتے ہیں۔

[219]۔سورہ ص، آیت ۳۶۔ سورہ انبیاء،آیت ۸۱ { وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ }اور سلیمان کے لیے تیز و تند ہواؤں کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھیں جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں۔

[220]۔سورہ انبیاء، آیت ۷۹۔

[221]۔سورہ اعراف، آیت ۵۸۔

[222]۔ممکن ہے بعض مقامات پر صرف فعل خدا ہو جو نبی یا امام کے دست مبارک پر جاری ہو اور ممکن ہے کہ بعض مقامات پر دونوں کا فعل ہو اور مذکورہ آیات میں عیسیٰ نبی اور وصی سلیمان کا فعل ہے قدرت اور اذن خدا کے ساتھ۔

[223]۔اثبات الھداۃ، ج۳، ص ۱۸۱،باب ۲۳۔

[224]۔اثبات الھداۃ، ج۳، ص ۱۱۷۔

[225]۔سورہ مریم، آیات ۲۹ تا ۳۳۔

[226]۔سورہ آل عمران، آیت ۴۵۔

[227]۔سورہ آل عمران، آیت ۴۲۔

[228]۔سورہ آل عمران، آیت ۳۳۔

[229]۔سورہ انبیاء، آیت ۱۰۷۔

[230]۔سورہ نساء، آیت ۵۴۔

[231]۔سورہ آل عمران، آیت۶۱، جسے آیت مباہلہ بھی کہتے ہیں۔

[232]۔لیکن اس کے باوجود بہ ضرورت دین، حضرت محمد مصطفی ﷺ حضرت علی ؑ اور باقی پوری مخلوق سے افضل ہیں۔

[233]۔صحیح بخاری کتاب المغازی، باب عمرۃ القضاء؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری، ج۷، ص ۸۹، کتاب فضائل الصحابہ (باب مناقب علی بن ابی طالب)۔

[234]۔منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ جب کوئی معجزہ دکھاتے تو محمد و آل محمدؐ سے توسل کرتے تھے ۔ کما فی مقدمۃ البرہان،بلکہ ان سے پہلے کے بھی سب انبیاء ، محمد و آل محمد سے متوسل ہوتے تھے چنانچہ حضرت آدم ؑ کی دعا بھی تب قبول ہوئی جب انہوں نے محمد ، علی ، فاطمہ حسن اور حسین علیہم السلام کا واسطہ دیا تھا۔ مناقب علی ابن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۳۴۳،ناشر انتشارات سبط النبیؐ، و کتب دیگر ۔

[235]۔اگرچہ دیگر ملائکہ بھی ان کے ساتھ اس کام میں اعانت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر وہ اکیلا بھی ہوتا تو پھر بھی باذن اللہ اس کام پر قادر تھا اور ہے ، فافہم جیداً۔

[236]۔سورہ بقرہ، آیت ۱۵۴۔

[237]۔سورہ انعام، آیت ۶۱۔

[238]۔سورہ زمر، آیت ۴۲۔

[239]۔سورہ نساء، آیت ۸۱۔

[240]۔سورہ زخرف، آیت ۸۰۔

[241]۔سورہ یونس، آیت ۴۱۔

[242]۔سورہ نازعات، آیت ۵۔

[243]۔سورہ انعام، آیت ۶۱۔

[244]۔سورہ سبا، آیت ۲۱۔

[245]۔البتہ مخفی نہ رہے کہ سجدہ صرف خدا کے لیے ہے اور غیر خدا کی عبادت جائز نہیں ہے ۔اور یہ ایک الگ چیز ہے۔

[246]۔سورہ تحریم،آیت ۴۔

[247]۔در منثور سیوطی، ج/ ۲۲۴، طبع دار الفکر بیروت؛تفسیر فتح القدیر، ج۵، ص ۳۵۴؛تفسیر ابن کثیر ج۴، ص ۱۹۱۶ عن مجاہد؛ تفسیر روح المعانی، ج۲۸، ص ۱۳۵؛ مناقب علی بن ابی طالب لابن المغازلی، ص ۲۱۸۔ ۲۱۹۔ عن مجاہد۔ ترجمہ امام علی ابن ابی طالب من تاریخ دمشق لابن العساکر، ج۲، ص ۴۲۵، ح ۹۳۲۔؛ مناقب علی بن ابی طالب وما نزل من القرآن فی علی،ص ۳۳۵؛ کنز العمال، ۱/ ۲۳۷؛صواعق محرقہ، ص ۱۴۴؛کفایۃ الطالب ص ۱۳۸؛ کنز الدقائق، ج۱۳، ص ۳۲۹؛ تفسیر قمی، ج۲، ص ۳۷۷؛ تفسیر فرات، ج۱، ص ۴۸۹؛ تفسیر برہان، ۵/ ۳۵۳؛ تفسیر صافی ۵/ ۱۹۵؛ تفسیر نور الثقلین، ج۵/ ۳۷۹؛ تفسیر میزان۱۹/ ۳۹۵ و کتب دیگر۔

[248]۔من لا یحضرہ الفقیہ۔

[249]۔سورہ بقرہ کی آیت ۵۶ اور سورہ اعراف کی آیت ۱۵۶ کو ملاحظہ فرمائیں۔

[250]۔سورہ بقرہ، آیت ۲۴۳۔

[251]۔سورہ آل عمران، آیت ۸۱۔

[252]۔البتہ مخفی نہ رہے کہ حضرت علی ؑ نے سب انبیاء کی نصرت و مدد کی ہے گذشتہ انبیاء کی سِراً اور ہمارے نبیؐ کی جھراً نصرت کی ہے ۔مدینۃ المعاجز، ص ۲۰،طبع قدیم۔

© COPYRIGHT 2020 ALJAWAAD ORGAZNIZATION - ALL RIGHTS RESERVED
گروه نرم افزاری رسانه